
ڈاکٹر شاہان عظیم اور ڈاکٹر ایم اکرم منیر
کریمین کانگو ہیمرجک فیور، جسے عام طور پر CCHF کہا جاتا ہے، ایک خطرناک وائرل زونوسس بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر متاثرہ چیچڑ کے کاٹنے، متاثرہ مویشیوں کے خون یا جسمانی بافتوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔ مویشی، بھیڑ، گائے، بھینس، شتر مرغ اور دیگر جانور اس وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں چیچڑوں کی افزائش زیادہ ہو۔Thank you for reading this post, don’t forget to subscribe!
پاکستان سمیت چین، بھارت، افغانستان، ایران، عراق، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور افریقی خطوں میں CCHF کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان جیسے گرم، خشک اور نیم خشک علاقوں میں Hyalomma چیچڑ مویشیوں پر عام طور پر پائے جاتے ہیں، اس لیے لائیوسٹاک فارمز، مویشی منڈیوں، ذبح خانوں اور دیہی آبادیوں میں اس بیماری کے حوالے سے آگاہی نہایت ضروری ہے۔
CCHF کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے
CCHF ایک ویکٹر سے پھیلنے والی وائرل زونوسس بیماری ہے۔ اس کا بنیادی تعلق متاثرہ چیچڑوں سے ہے۔ Hyalomma چیچڑ اس وائرس کے سب سے معروف ویکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ چیچڑ اپنی نشوونما کے مختلف مراحل میں متاثر رہ سکتے ہیں اور پھر بڑے جانوروں، خاص طور پر مویشیوں، میں وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔
جانوروں میں یہ بیماری عموماً واضح علامات کے بغیر موجود رہ سکتی ہے، لیکن متاثرہ جانور کے خون میں وائرس موجود ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قصاب، لائیوسٹاک ورکرز، ویٹرنری اسٹاف، مویشی پال حضرات، میڈیکل اور پیرامیڈیکل عملہ اس بیماری کے زیادہ خطرے والے گروہوں میں شامل ہیں۔
پاکستان میں چیچڑوں کا خطرہ
پاکستان کے گرم، خشک اور نیم خشک علاقوں میں Hyalomma چیچڑ مویشیوں پر عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ یہ چیچڑ سرد یا خشک موسم میں دیواروں کی دراڑوں، اصطبلوں، جڑی بوٹیوں، خالی کھیتوں اور جانوروں کے رہائشی مقامات میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ نابالغ چیچڑ عموماً پرندوں، خرگوش، خارپشت اور بعض دیگر چھوٹے جانوروں پر پائے جا سکتے ہیں۔
بعض حالات میں بھیڑیں وائرس کے پھیلاؤ میں amplifier کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ وائرس کو ایک جانور سے دوسرے جانور تک منتقل کرنے کے عمل میں مدد دے سکتی ہیں۔ اسی لیے بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور دیگر مویشیوں کی خرید و فروخت، نقل و حمل اور دیکھ بھال کے دوران احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔
انسانوں میں انفیکشن کا خطرہ
انسان CCHF سے متاثرہ مویشیوں کے خون، جسمانی رطوبتوں، tissues یا متاثرہ چیچڑ کے کاٹنے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ مویشی منڈیوں، فارموں، ذبح خانوں، قصاب خانوں اور ہسپتالوں میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب حفاظتی لباس، دستانے، ماسک اور دیگر احتیاطی اقدامات اختیار نہ کیے جائیں۔
اس بیماری کی تشخیص کے لیے Enzyme linked immunosorbent assays، Enzyme immunoassays، IgG، IgM antibodies اور PCR جیسے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ PCR مشتبہ مریضوں کے خون میں وائرل genome کی موجودگی معلوم کرنے کے لیے اہم تشخیصی طریقہ ہے۔
جانوروں میں چیچڑوں کا کنٹرول کیوں ضروری ہے
چونکہ متاثرہ گھریلو مویشی انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے جانوروں میں چیچڑوں کا کنٹرول CCHF کی روک تھام کے لیے بنیادی قدم ہے۔ endemic علاقوں میں چیچڑوں کی مؤثر نگرانی اور کنٹرول سے انسانی کیسز میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
چیچڑوں کی بقا کا تعلق موسم، بارش، نمی، microclimate، پودوں اور جانوروں کے رہائشی ماحول سے ہوتا ہے۔ عام طور پر گرم موسم میں چیچڑ زیادہ سرگرم ہوتے ہیں، لیکن بعض اقسام کے larval اور nymph stages معتدل موسم میں بھی سرگرم رہ سکتے ہیں۔ اسی لیے کنٹرول پروگرامز کو موسمی حالات کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔
احتیاطی تدابیر
جانوروں پر چیچڑوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
متاثرہ یا شدید طور پر چیچڑ زدہ جانوروں کا علاج مستند ویٹرنری ماہر کے مشورے سے کیا جائے۔
acaricides کے استعمال میں احتیاط کی جائے اور ان کی افادیت کی مسلسل نگرانی کی جائے کیونکہ چیچڑ بعض اوقات resistance پیدا کر سکتے ہیں۔
جانوروں کے باڑوں، اصطبلوں اور رہائشی جگہوں کی صفائی بہتر بنائی جائے۔
زمین کی کاشت، بہتر drainage اور غیر ضروری جھاڑیوں کی صفائی سے چیچڑوں کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مویشیوں کو سنبھالتے وقت دستانے، حفاظتی لباس اور insect repellent استعمال کیا جائے۔
قصاب، لائیوسٹاک ورکرز، ویٹرنری عملہ اور ہسپتالوں کا اسٹاف مشتبہ مواد کو سنبھالتے وقت مکمل حفاظتی اقدامات اختیار کرے۔
ہسپتالوں میں infection containment کو یقینی بنایا جائے تاکہ بیماری کے nosocomial spread کو روکا جا سکے۔
One Health approach کی ضرورت
CCHF جیسی زونوسس بیماریوں کے کنٹرول کے لیے صرف محکمہ صحت یا صرف لائیوسٹاک اداروں کی کوشش کافی نہیں۔ انسانی صحت، حیوانی صحت، ماحول، میونسپل اداروں، ویٹرنری ماہرین، فارم مالکان، قصابوں اور کمیونٹی کے درمیان مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
خاص طور پر عیدالاضحیٰ، مویشی منڈیوں، جانوروں کی نقل و حمل اور ذبح کے مواقع پر احتیاطی اقدامات مزید اہم ہو جاتے ہیں۔ عوامی آگاہی، چیچڑوں کا کنٹرول، ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور جانوروں کی صحت کی نگرانی اس بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
کریمین کانگو ہیمرجک فیور صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ لائیوسٹاک مینجمنٹ، ویٹرنری پبلک ہیلتھ اور One Health کا اہم موضوع ہے۔ پاکستان میں مویشیوں، چیچڑوں اور انسانی رابطے کے وسیع نظام کو دیکھتے ہوئے CCHF کے بارے میں بروقت آگاہی، احتیاطی اقدامات اور ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر فارم، منڈی، ذبح خانہ، ہسپتال اور کمیونٹی سطح پر حفاظتی اصول اپنائے جائیں تو اس خطرناک زونوسس بیماری کے پھیلاؤ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔