
مصنف
انگلستان سے خورشید خان
کیمپس میں لاہور شہر سے یونیورسٹی میں داخلہ لینے والوں کا دل اکثر یونیورسٹی میں نہیں لگتا تھا۔
کہاں لاہور کی رنگین روشنیاں اور قمقمے، اور کہاں یونیورسٹی کا اداس ماحول؛ جہاں رات ہوتے ہی پیلے رنگ کے بلبوں کی مریل سی زرد روشنی سنسان سڑکوں پر بکھری ہوتی تھی، اور درختوں پر بیٹھے کوّے ذرا سی کھٹ پٹ پر نیچے سے گزرنے والوں پر اپنی بیٹ کی پچکاری مار دیتے۔
خاص طور پر جن طلبہ کو ابتدا میں رہنے کے لیے اقبال ہال یا قاسم ہال میں جگہ ملتی، ان کی فولنگ سے ایسی درگت بنتی کہ وہ سوچتے، کہاں آ پھنسے ہیں۔
ایک دن صبح، فیکلٹی کی اوپر والی منزل پر مائیکرو بایولوجی اور پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے باہر، لیکچرز روم کر سامنے راہدری میں کلاس شروع ہونے سے پہلے، لاہور کے علاقے گڑھی شاہو سے آئے ایک نوجوان ، جس کا نام شعیب نور تھا سلام دعا ہوئی۔
بدقسمتی سے وہ رات اقبال ہال میں گزار کر آئے تھے۔ اولِ شب ان کی فولنگ کی وجہ سے خاصی درگت بنی تھی، اور باقی رات اس خوف سے نیند نہ آ سکی کہ آئندہ کیا ہوگا۔ وہ فیصل آباد سے جلد از جلد واپس بھاگنا چاہتے تھے۔
اس مہم جوئی میں سب سے پہلے کامیاب ہونے والوں میں ہمارے خوبرو نوجوان کلاس فیلو عاقل حمید چوہدری تھے۔ پھر شعیب نور بھی تیسرے سمسٹر تک لاہور چلے گئے، اور اس کے بعد منور گل بھی، جن کا دبدبہ ان کے خاموش رھنے،اور نمایاں گھنی مونچھوں میں تھا، وہ بھی لاہور کے لیے مائیگریشن لینے میں کامیاب ہو گئے۔
چونکہ گوجرانوالہ لاہور سے قریب تھا، لہٰذا میں نے بھی اپنی طرف سے کوشش کی لاہور مائیگریشن کروا لوں۔
لاہور کے ایک نامور جج، جو نجف خان صاحب (لائبریرین) کے دوست تھے، اُن سے کسی ذریعے ایک سفارشی خط حاصل کیا اور نجف خان صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا کہ فدوی لاہور کالج کے لیے مائیگریشن چاہتا ہے۔
غیاث خان نہیں چاھتے تھے میں لاھور جاؤ انہوں نے ڈرامہ سوسائٹی کے روحِ رواں اکرم قاضی صاحب کے کان میں پھونک مار دی اور ڈین عرفان صاحب بھی نہیں چاہتے تھے کہ میں پڑھنے لاہور کالج چلا جاؤں۔
بعد ازاں یونیورسٹی سے تو لاہور جانے کی رضامندی مل گئی، مگر لاہور کالج والوں نے مجھے لینے سے معذرت کر لی۔ سو میں نے کم از کم ڈگری مکمل ہونے تک لاہور جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔
ویسے یہ لاہوریے بڑے ہی چالاک ہوتے ہیں۔ شعیب نور بابا جی کے میس کے ممبر تھے۔ ایک دن افضل ہال بابا جی کے میس میں غریبی ( یعنی بے ذائقہ پالک) پکی تھی۔ اسی ہاسٹل میں سوڈانی طلبہ کا میس بھی تھا۔ میس میں یاسر نامی ایک سوڈانی لڑکا بیٹھا تھا، جو نہایت ذہین اور پھرتیلا تھا اور وہ پنجابی زبان بھی سیکھ گیا تھا۔ شعیب نور جانتے تھے کہ سوڈانیوں کے میس میں چکن روسٹ اور کالی مرچ والی مسور کی دال پکی ہے۔
شعیب نور نے جب یاسر کو کھانے کی میز پر بیٹھا دیکھا تو اس کے سر پر جا پہنچے اور بولے “کیا بات ہے، آج کل اونچی ہوا میں اُڑ رہے ہو، نیچے دیکھتے ہی نہیں”
یاسر نے پوچھا، “کیا ہوا؟ آؤ بیٹھو اور تسلی سے بتاؤ کیا بات ہے۔”
اسی اثنا میں یاسر کے لیے کھانا آ گیا اور یاسر نے شعیب نور کو بھی کھانے کی دعوت دے دی۔ شعیب نور نے فوراً کھانا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ایک کہانی گھڑ دی کہ “گبرئیل” ۔ایک سوڈانی لڑکی جو شعیب نور کے سیکشن میں تھی ۔ کے بارے میں یاسر کو کہا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھتی رہتی ہے ۔ تم ہو کہ اُسے لفٹ ہی نہیں کرواتے۔
شعیب نور نے اس کہانی میں خوب مرچ مصالحہ لگایا اور یاسر کے کھاتے سے کھانا کھایا۔ اگلے دن شعیب نور گبرئیل سے جا کر بولے
“ذرا دھیان سے رہنا، کل رات کھانے کی میز پر یاسر مجھ سے تمہارا پوچھ رہا تھا۔ کہ کلاس میں تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے۔”
پھر شعیب نور اور گبرئیل، دونوں نے لاہور مائیگریشن کروا لی۔
لاہور مائیگریش کروانے والی ایک لڑکی نسیم بی بی بھی تھی جو ملائشیا سے آئی تھی۔ جسے ہمارے ایک کلاس فیلو ایک مخصوص سبجیکٹ پڑھاتے پڑھاتے .خود فیل ہو گئے تھے