بخار سے آگے: بکریوں اور بھیڑوں میں پی پی آر(PPR)کی حقیقی پہچان کو سمجھنا
خلاصہ
طاعون المجترات الصغيرة (PPR)ایک نہایت متعدی اور معاشی طور پر اہم وائرل بیماری ہے۔ یہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پائی جاتی ہے اورGF-TADs میں اسے انتہائی ترجیحی بیماری قرار دیا گیا ہے۔ پی پی آر وائرس (PPRV)موربیلی وائرس (Morbillivirus)جینس سے تعلق رکھتا ہے جو اس بیماری کا سبب بنتا ہے۔ یہ وائرس نظامِ تنفس، نظامِ ہضم اور لمفی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ تیز بخار، ناک اور آنکھوں سے پانی جیسا اخراج، منہ کے زخم، اور اسہال اس بیماری کی عام علامات ہیں۔ یہ بنیادی طور پر چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں یعنی بکریوں اور بھیڑوں کی بیماری ہے۔ یہ بیماری براہِ راست اور بالواسطہ رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔
پی پی آر کی تشخیص کے لیے ELISA اور RT-PCR بنیادی طریقے ہیں۔ یہ وائرس رِنڈرپیسٹ وائرس سے قریبی تعلق رکھتا ہے، اس لیے مشابہ علامات رکھنے والی دیگر بیماریوں سے اس کی تفریقی تشخیص کی جاتی ہے۔ بیماری پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ویکسینیشن اور مناسب انتظامی اقدامات ہیں۔ چونکہ یہ ایک وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم علامتی اور معاون نگہداشت تجویز کی جا سکتی ہے۔
تعارف
طاعون المجترات الصغيرة(PPR) جسے اسٹومیٹائٹس-نیمواینٹرائٹس سنڈروم بھی کہا جاتا ہے، گھریلو چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں کی ایک نہایت متعدی اور معاشی طور پر اہم وائرل بیماری ہے [01]۔ اس بیماری کو پہلی مرتبہ 1942 میں مغربی افریقہ کے ملک آئیوری کوسٹ میں گارگاڈینک (Gargadennec)اور لالان (Lalanne) نے بیان کیا۔ انہوں نے چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں میں ایک ایسی بیماری دریافت کی جو مویشیوں میں متعدی نہیں تھی لیکن رِنڈرپیسٹ سے مشابہت رکھتی تھی۔ اس وقت یہ بیماری دنیا کے 70 سے زائد ممالک میں پائی جاتی ہے، جن میں اکثریت ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک کی ہے [02]۔ اس بیماری میں شرحِ مرض(Morbidity) 90%تک اور شرحِ اموات تک پہنچ سکتی ہے، اسی وجہ سے اسےGlobal Framework for the Progressive Control Transboundary Animal Diseases (GF-TADs) میں ایک اعلیٰ ترجیحی بیماری قرار دیا گیا ہے۔ پی پی آر چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں کی تجارت کو متاثر کر کے دیہی اور خانہ بدوش آبادیوں کی آمدنی اور معاش پر گہرا اثر ڈالتی ہے [03]۔
پی پی آر کا سبب بننے والا عامل پیسٹ ڈیس پیٹیٹس رومننٹس وائرس (PPRV) ہے، جو Paramyxoviridaeخاندان کےMorbillivirus جینس سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی جینس میں شامل دیگر اہم ویٹرنری وائرسوں میں کینائن ڈسٹیمپر وائرس، فوسائن ڈسٹیمپر وائرس، اور رِنڈرپیسٹ وائرس شامل ہیں، جو گھریلو اور جنگلی ممالیہ جانوروں کو متاثر کرتے ہیں [04]۔ رِنڈرپیسٹ بنیادی طور پر بڑے جگالی کرنے والے جانوروں کی بیماری ہے اور کئی حوالوں سے پی پی آر سے مشابہت رکھتی ہے۔ اسے 2011 میں دنیا سے مکمل طور پر ختم شدہ واحد حیوانی بیماری قرار دیا گیا تھا۔
پی پی آر وائرس ایک لفافہ دار(Enveloped) ، سنگل اسٹرینڈڈ، منفی حس RNA (Negative-sense)وائرس ہے۔ اس کی جینیاتی تنوع (Genetic Diversity) زیادہ ترRNA وائرسز کی طرح ہوتی ہے، جس میں سالانہ 10⁻³ سے 10⁻⁴ تبدیلیاں فی سائٹ واقع ہوتی ہیں۔ Nجین کے ایک مخصوص حصے کی بنیاد پر پی پی آر وائرس کی چار مختلف لائن ایجز (I تا IV) کو ایک دوسرے سے ممتاز کیا جا سکتا ہے [05]۔
وبائیات(Epidemiology)
اس وقت یہ بیماری چین، جنوبی ایشیا، اور افریقہ کے بیشتر حصوں میں وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اس بیماری کی پہلی مرتبہ 1989 میں رپورٹ کی گئی۔ تاہم، ابتدائی دور میں اسے پیسچیوریلوسس (Pasteurellosis) اور رِنڈرپیسٹ کے ساتھ خلط ملط کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ اس کی مکمل شناخت ممکن ہوئی۔ ابتدا میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ وائرس رِنڈرپیسٹ وائرس (RPV) کی ایک غیر معمولی قسم ہے جو بڑے جگالی کرنے والے جانوروں میں منتقل ہونے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ بعد ازاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگرچہ یہ وائرس رِنڈرپیسٹ وائرس سے قریبی تعلق رکھتا ہے، لیکن اس کی اینٹی جینک ساخت اور خصوصیات مختلف ہیں [06]۔
بیماری کی پیدائش(Pathogenesis)
مرض پیدا کرنے والا جرثومہ میزبان کے جسم میں ناک کی نالی کے ذریعے داخل ہوتا ہے، جبکہ اس کا سب سے عام راستہ نظامِ تنفس ہوتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں وائرس سب سے پہلے اوپری لمفی بافتوں (Upper lymphoid tissues) اور نظامِ تنفس کی اپی تھیلیل خلیات میں افزائش پاتا ہے۔ بعد ازاں یہ خون (Hematogenous route) اور لمفی راستوں کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وائر یمیا (Viremia) پیدا ہوتی ہے [07]۔
اس کی جسمانی پھیلاؤ کی صلاحیت وائرس کو مختلف ہدفی اعضاء، جیسے معدی و آنتی نظام (Gastrointestinal tract) لمف نوڈز، اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے کے قابل بناتی ہے۔ پی پی آر وائرس مدافعتی خلیات، خصوصاً لمفوسائٹس اور میکروفیجز، کو تباہ کرتا ہے، جس سے مدافعتی نظام شدید متاثر ہوتا ہے اور ثانوی انفیکشنز پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پیدا ہونے والے زخم اور بافتی تبدیلیاں زیادہ تر وائرس کے سائٹوپیتھک اثرات (Cytopathic effects) اور اس کے نتیجے میں ہونے والے التہابی ردِ عمل کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مدافعتی کمزوری، اپی تھیلیم کو نقصان، اور پانی کی کمی کے اثرات اکثر شدید نوعیت اختیار کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ آبادی میں بیماری اور اموات کی شرح نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر ایسے جانوروں میں جو پہلے سے غیر محفوظ یا غیر ویکسینیٹڈ ہوں [08]۔
علاماتِ مرض (Clinical Signs)
اس بیماری کی پوشیدگی مدت (Incubation Period) عموماً 2 سے 6 دن ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات یہ 10 دن تک بھی ہو سکتی ہے [09]۔ جب پی پی آر پہلی مرتبہ بھیڑ یا بکریوں کے ایسے ریوڑ میں ظاہر ہوتی ہے جو اس بیماری سے ناواقف یا غیر محفوظ ہوں، تو نہایت شدید (Per-acute) کیسز دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ تاہم، زیادہ تر کیسز حاد (Incubation Period) نوعیت کے ہوتے ہیں۔
تیز بخار اور ناک و آنکھوں سے پانی جیسا اخراج، جو بعد میں گاڑھا پیپ نما (Mucopurulent) بن جاتا ہے، اس بیماری کی نمایاں علامات ہیں۔ ناک بند ہو سکتی ہے اور آنکھوں کے گرد مواد جم جانے کی کیفیت عام طور پر دیکھی جاتی ہے۔ بخار شروع ہونے کے چند دن بعد مسوڑھے سرخ (Hyperemic) ہو جاتے ہیں، جبکہ منہ میں چھوٹے سرمئی رنگ کے مردہ بافتوں والے دھبے (Necrotic foci) نمودار ہوتے ہیں جو سطحی زخموں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
زیادہ تر جانوروں میں شدید اسہال پایا جاتا ہے، جو بعض اوقات پانی دار، بدبودار، خون آلود، یا بافتی ٹکڑوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ سانس لینے میں دشواری، کھانسی، اور نمونیا کی دیگر علامات کے ساتھ تیز سانس لینا بھی عام ہے۔ بیماری کے آخری مراحل میں تھوتھنی (Muzzle) کے اردگرد چھوٹے چھوٹے دانے یا گلٹیاں بن سکتی ہیں، جو متعدی ایکتھیما (Contagious ecthyma) یا بھیڑ/بکری پاکس سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان زخموں کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
شدید متاثرہ جانور کمزور، غذائی قلت اور پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ موت سے قبل جسمانی درجہ حرارت کم (Hypothermia) بھی ہو سکتا ہے۔ جو جانور بچ جاتے ہیں، ان کی مکمل صحت یابی میں کافی وقت لگتا ہے۔ بعض جانوروں میں نیم حاد (Subacute) بیماری بھی دیکھی جاتی ہے، جو عموماً 10 سے 15 دن تک رہتی ہے۔ اگرچہ علامات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن تنفسی علامات اکثر نمایاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض جانوروں میں بغیر علامات کے انفیکشن (Asymptomatic infection) بھی پایا جاتا ہے [10]۔
میزبان کی اقسام اور منتقلی(Host Range and Transmission)
اگرچہ پی پی آر بنیادی طور پر بھیڑوں اور بکریوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن اب یہ مختلف گھریلو اور جنگلی جگالی کرنے والے جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ وائرس جنگلی جگالی کرنے والے جانوروں جیسے غزال، ہرن نما جانور(Antelopes)، اور ہرن میں بھی دریافت کیا گیا ہے، تاہم بکریاں اور بھیڑیں اس کے لیے سب سے زیادہ حساس ہیں، جبکہ بکریوں میں بیماری عموماً زیادہ شدید ہوتی ہے۔
پی پی آر وائرس مویشیوں، بھینسوں، اونٹوں، اور جنگلی جانوروں جیسے سندھ آئی بیکس (Sindh Ibex) میں بھی پایا گیا ہے۔ چونکہ یہ وائرس مختلف اقسام کے جانوروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر اس کے خاتمے کی کوششوں میں اس کے نئے میزبانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے [11]۔
پی پی آر وائرس متاثرہ جانوروں کے منہ، ناک، اور آنکھوں سے خارج ہونے والے مواد اور ڈھیلے فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے، جن میں وائرس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ وائرس عموماً مختصر فاصلے تک ہوا کے ذریعے باریک ذرات (Aerosols) کی صورت میں منتقل ہو سکتا ہے۔ قریبی رابطہ بیماری کے پھیلاؤ کا سب سے عام ذریعہ ہے، تاہم آلودہ بستر، چارہ ڈالنے کے برتن، اور پانی بھی بیماری منتقل کر سکتے ہیں۔
خوش قسمتی سے، میزبان جسم سے باہر آنے کے بعد یہ وائرس زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتا؛ اسی لیے بیماری کی زیادہ تر منتقلی اس وقت ہوتی ہے جب متاثرہ جانور بخار کی حالت میں ہوں [12]۔
تشخیص(Diagnosis)
پی پی آر کی تشخیص کے لیے بنیادی طور پر وائرس آئسولیشن (Virus Isolation) یا امیونوکیپچرELISA استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم، زیادہ حساسیت اور خصوصیت کی وجہ سے جینوم پر مبنی تشخیصی طریقے، جیسے نیوکلیک ایسڈ ہائبرڈائزیشن (Nucleic Acid Hybridization) اور ریورس ٹرانسکرپشن پولیمریز چین ری ایکشن (RT-PCR)، نے بڑی حد تک ان روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔
اس کے باوجود، جینوم پر مبنی تکنیکیں محنت طلب ہوتی ہیں اور بڑی تعداد میں نمونوں پر آسانی سے لاگو نہیں کی جا سکتیں۔ PCR-ELISA کی ترقی نے روایتی ایگروز جیل پر مبنی نظام کی محدودیتوں کو دور کرنے میں مدد دی ہے، کیونکہ یہ PCR سے بڑھائے گئے جینیاتی مواد کی شناخت ایک انزائم سے نشان زدہ نظام کے ذریعے کرتا ہے۔ متعدد متعدی امراض کے جراثیم کی تشخیص میں PCR-ELISA نے حساسیت اور خصوصیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے [13]۔
ماضی میں پی پی آر وائرس کو اکثر اس سے قریبی تعلق رکھنے والے رِنڈرپیسٹ وائرس کے ساتھ خلط ملط کیا جاتا تھا۔ تاہم، اس بیماری کی تنفسی علامات کی وجہ سے اسے پیسچیوریلوسس، مینہیمیا (Mannheimia) ، یا متعدی بکری پلورو نمونیا (Contagious Caprine Pleuropneumonia – CCPP) سمجھا جا سکتا ہے۔ آخری دو بیماریاں اس وائرس کے ثانوی اثرات کے طور پر بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح، چونکہ پی پی آر میں منہ کے زخم دیگر بیماریوں سے مشابہ ہوتے ہیں، اس لیے بلیو ٹنگ (Bluetongue) متعدی ایکتھیما (Infectious Ecthyma) ، منہ و کھر کی بیماری (Foot and Mouth Disease)، اور معدنی زہریت(Mineral Poisoning) کو بھی تفریقی تشخیص (Differential Diagnosis) میں شامل کیا جاتا ہے [14]۔
روک تھام اور کنٹرول(Prevention and Control)
پی پی آر جیسے اہم حیوانی مرض کا مؤثر انتظام جنوبی ایشیا اور افریقہ کی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ پی پی آر سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ویکسینیشن ہے۔ ویکسین کے استعمال کے ذریعے افریقی ممالک، خصوصاً مغربی افریقہ کے ممالک، اس بیماری پر قابو پانے میں کامیاب رہے ہیں۔ چونکہ پی پی آر اور رِنڈرپیسٹ (RP) کے اینٹی جینز میں مماثلت پائی جاتی ہے، اس لیے ابتدا میں بکریوں کو رِنڈرپیسٹ سے تیار کردہ زندہ کمزور شدہ (Live Attenuated) ویکسین کے ذریعے پی پی آر کے خلاف حفاظتی ٹیکہ لگایا جاتا تھا، جو تقریباً ایک سال تک تحفظ فراہم کرتا تھا۔ اسی وجہ سے ٹشو کلچر رِنڈرپیسٹ ویکسین (TCRPV) دنیا کے مختلف حصوں میں پی پی آر کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ اس ویکسین کا مقصد چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں میں پی پی آر سے بچاؤ تھا۔ بعد ازاں، رِنڈرپیسٹ کے عالمی خاتمے کے بعد TCRPV ویکسین کا استعمال بند کر دیا گیا۔
چونکہ موجودہ کمزور شدہ ویکسینز حرارت کے لیے حساس ہوتی ہیں، اس لیے جانور کو ویکسین لگانے تک کولڈ چین کو برقرار رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں کچھ ویکسینز خشک شدہ (Freeze-dried) شکل میں بھی دستیاب ہیں [15]۔ یہ ویکسینز 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ پر کم از کم دو سال تک جبکہ -20 ڈگری سینٹی گریڈ پر کئی سالوں تک مستحکم رہتی ہیں۔ ویکسین کو دوبارہ محلول بنانے (Reconstitution) کے بعد 30 منٹ کے اندر استعمال کرنا ضروری ہے۔
پی پی آر کے مؤثر انتظام کے لیے ویکسینیشن پروگرام کی کامیابی اور تشخیصی تکنیکوں کی مضبوط معاونت انتہائی اہم ہے۔ زندہ کمزور شدہ ٹشو کلچر ویکسینز اور مختلف تشخیصی طریقوں اور کٹس کی دستیابی نے پی پی آر کے کنٹرول کے مؤثر پروگرام قائم کرنا آسان بنا دیا ہے۔
بیماری سے پاک علاقوں میں اس بیماری کو کنٹرول کرنے کے لیے “Stamping Out” پالیسی استعمال کی جاتی ہے، تاہم مصر جیسے ممالک میں یہ پالیسی معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں، اس لیے وہاں پی پی آر کے کنٹرول کے بنیادی طریقے تیز اور درست تشخیص، نگرانی (Surveillance/Monitoring)، اور فوری ویکسینیشن پروگرام کا نفاذ ہیں۔ مصر کے پاس کامیاب کنٹرول پروگرام کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں، جن میں مؤثر ویکسین، آسانی سے دستیاب تشخیصی کٹس، سیرو نگرانی (Sero-surveillance)، اور مضبوط انفراسٹرکچر شامل ہیں [15]۔
ادویات(Medication)
طاعون المجترات الصغيرة (PPR) ایک وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔ طبی لٹریچر میں پی پی آر انفیکشن کے بعد علاج کے طریقوں کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں۔ تاہم، متاثرہ جانوروں کے لیے معاون علاج (Supportive Therapy) استعمال کیا جاتا ہے، جس میں بی کمپلیکس (B-Complex) اور ڈیکسٹروز سیلائن (Dextrose Saline) جیسی ادویات 5 سے 7 دن تک دی جاتی ہیں۔ یہ علاج بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
پی پی آر کے کلینیکل کیسز کا بروقت علاج اور مناسب انتظام، خصوصاً بھیڑوں اور بکریوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی صورت میں، کسانوں کے مالی نقصانات کو کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے [14]۔
نتیجہ(Conclusion)
پی پی آر کے مسلسل پھیلاؤ نے اس بیماری کے تباہ کن معاشی اثرات کو نمایاں کیا ہے اور اس کے خاتمے کے فوائد کو واضح کیا ہے، خصوصاً دنیا کے غریب ترین افراد کے ذریعۂ معاش کے تحفظ کے حوالے سے۔ پی پی آر گلوبل کنٹرول اینڈ ایریڈیکیشن اسٹریٹیجی (PPR GCES) نے ابتدائی طور پر مثبت امکانات ظاہر کیے ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ رِنڈرپیسٹ کنٹرول پروگرام سے مماثلت کی وجہ سے یہ جلد کامیاب نتائج فراہم کرے گی۔
پی پی آر ایک مہلک بیماری ہے جو دنیا کی 90 فیصد سے زائد چھوٹی جگالی کرنے والی آبادی کو خطرے میں ڈالتی ہے؛ لہٰذا کسی بھی مؤثر انتظامی پروگرام کے لیے ضروری ہے کہ مقامی علاقوں میں مویشی پال حضرات کی حمایت، تعاون، اور عملی شرکت جلد حاصل کی جائے۔
چونکہ اس بیماری کا صرف ایک ہی سیروٹائپ موجود ہے اور ایسی ویکسین دستیاب ہے جو تاحیات تحفظ فراہم کرتی ہے، اس لیے اس بیماری کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ پی پی آر سے متعلق ویب سائٹس پر فلپ چارٹس، ویڈیوز، اور دیگر تعلیمی مواد بھی دستیاب ہیں جو بیماری سے آگاہی اور کنٹرول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔