یہ کوئی مفروضہ نہیں، نہ ہی مستقبل کی دور کی پیش گوئی ہے—یہ ایک جاری بحران ہے۔ اگر چھوٹے ڈیری کسانوں کی مالی تباہی اسی رفتار سے جاری رہی تو پاکستان کی دودھ سپلائی نہ صرف متاثر ہو گی بلکہ ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ یہ وارننگ کسی سیاسی حلقے یا تجزیہ کار کی نہیں بلکہ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) پاکستان کی ہے، جو ملک بھر کے چھوٹے کسانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔
شاکر عمر گجر، صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) کے مطابق پاکستان کی ڈیری معیشت کی بنیاد چھوٹے کسان ہیں، مگر یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ، پالیسی خلا اور پیداواری عدم تحفظ کا شکار ہے۔
سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 70 فیصد سے زائد دودھ کی پیداوار ان چھوٹے ڈیری کسانوں سے آتی ہے جن کے پاس 1 سے 5 جانور ہوتے ہیں۔ یہی کسان دیہی اور نیم شہری پاکستان کی روزمرہ غذائی ضرورت پوری کرتے ہیں، اربوں روپے کے ملک پاؤڈر امپورٹس کی جگہ مقامی دودھ فراہم کرتے ہیں اور خواتین کی آمدن اور بچوں کی غذائیت کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
DCFA کے مطابق چھوٹے ڈیری کسان اس وقت شدید معاشی دباؤ میں ہیں۔ ڈیری فیڈ اور دیگر خام مال پر بھاری ٹیکسز کے باعث لاگت ہر سال بڑھ رہی ہے، جبکہ فی جانور دودھ کی پیداوار اوسطاً 5 سے 8 لیٹر تک محدود ہے۔ دوسری جانب حکومتی قیمت کی حد بندی کے باعث کسانوں کو تقریباً 70 روپے فی لیٹر نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسان جانور فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور ریوڑ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔
DCFA کی پریزنٹیشن کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ڈیری جانور ذبح ہو رہے ہیں، جن میں صرف کراچی میں روزانہ 4 ہزار جانور شامل ہیں۔ بچھڑوں کی غیر قانونی فروخت اور مادہ بریڈنگ اسٹاک کا خاتمہ ایک ایسا خاموش بحران ہے جو پاکستان کے دودھ کے مستقبل کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
ہیٹ اسٹریس کے باعث دودھ کی پیداوار میں 15 سے 25 فیصد تک کمی آ رہی ہے، جبکہ سیلاب چارے کو اور خشک سالی فیڈ کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ چھوٹے کسانوں کے پاس نہ شیڈ ہیں، نہ کولنگ سسٹم، اور نہ ہی موسمیاتی تحفظ کی کوئی عملی پالیسی۔ DCFA کا مؤقف ہے کہ لائیوسٹاک کو شامل کیے بغیر کوئی بھی کلائمیٹ پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
کم پیداوار کی بنیادی وجوہات میں غیر متوازن خوراک، ناقص فیڈ، منرل کی کمی، محدود ویکسینیشن، کمزور ویٹرنری رسائی اور ناقص بچھڑا نگہداشت شامل ہیں۔ DCFA واضح کرتی ہے کہ یہ کسان کی غفلت نہیں بلکہ سسٹم فیلئر ہے—ایک ایسا نظام جو سب سے کمزور پیداواری یونٹ پر قومی انحصار کر رہا ہے مگر اسے تحفظ دینے میں ناکام ہے۔
تنظیم کے مطابق سادہ اور کم لاگت اقدامات جیسے متوازن خوراک، منرل سپلیمنٹ، بنیادی ویکسینیشن، ویٹرنری سہولیات، بچھڑا نگہداشت اور دیہی سطح پر دودھ کی چِلنگ سے نمایاں بہتری ممکن ہے۔ عالمی سطح پر ثابت شدہ ان اقدامات سے فی جانور روزانہ دو لیٹر اضافی دودھ، بیماریوں میں 30 فیصد کمی اور مجموعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
DCFA نے مطالبہ کیا ہے کہ مادہ ڈیری جانوروں اور بچھڑوں کے ذبح پر فوری اور مؤثر پابندی عائد کی جائے، دودھ اور گوشت کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے، ڈیری انڈسٹری پر ٹیکسز ختم کیے جائیں، سود سے پاک قرضے فراہم کیے جائیں اور ہر بڑے شہر میں کوآپریٹو بنیادوں پر کیٹل کالونیاں قائم کی جائیں۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدامات سبسڈی نہیں بلکہ قومی معاشی تحفظ ہیں۔
چھوٹے ڈیری کسان کوئی فلاحی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کی بنیاد ہیں۔ اگر ان کی مالی تباہی کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو دودھ کی سپلائی، دیہی معیشت اور قومی غذائی تحفظ سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔ اور اگر انہیں تحفظ دیا گیا تو یہی کسان پاکستان کو خود کفیل بھی رکھیں گے اور مستحکم بھی۔
یہ خدشات اور مطالبات پلاننگ کمیشن کے زیرِ اہتمام “اُڑان پاکستان” کے تحت منعقدہ نیشنل ڈیری کانفرنس کے دوران شاکر عمر گجر، صدر، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) کی جانب سے اپنی پریزنٹیشن میں پیش کیے گئے، جہاں کسان قیادت نے واضح کیا کہ کسان اس ملک کی ڈیری اور لائیوسٹاک معیشت کی بنیاد ہیں۔ اگر انہی کو بات کرنے کا مکمل اور باوقار موقع نہ دیا جائے—اور وہ بھی ایسے قومی فورم پر جس کا مقصد پالیسی کی سمت متعین کرنا ہو—تو ایسی کانفرنسیں محض تقریری مشق بن کر رہ جاتی ہیں۔ کسان قیادت کا مؤقف بجا ہے کہ حقیقی مسائل کو سنے بغیر، فیلڈ کی آواز شامل کیے بغیر، کاغذی منصوبہ بندی نہ زمین سے جڑتی ہے اور نہ ہی پائیدار نتائج دیتی ہے۔