
مصنفین:
- ڈاکٹر خالد منیر، پی ایچ ڈی (کینیڈا)، ڈی وی ایم (کینیڈا)
- ڈاکٹر محمد ارشد، ڈی وی ایم، پی ایچ ڈی
- ڈاکٹر اصغر چوہدری، بی وی ایس سی، بی ایس سی، ایم ایس سی (آنرز)
- ڈاکٹر محمد اکرم منیر، بی وی ایس سی، بی ایس سی، ایم ایس (امریکہ)، پی ایچ ڈی (امریکہ)
- ڈاکٹر آصف ادریس، ڈی وی ایم، پی ایچ ڈی، پوسٹ ڈاک (امریکہ)
- ڈاکٹر حماد احمد ہاشمی، ڈی وی ایم، ایم ایس سی (آنرز)، ای ایم بی اے، سی ایم آئی ایل ٹی (برطانیہ)
تعارف
موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تنزلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان پر ہونے والی بحث و مباحث کے اس دور میں، ایک اور گہرا اخلاقی بحران ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے: یعنی ہمارے سیارے پر موجود غیر انسانی مخلوقات (جانوروں) کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک۔ جانوروں کی فلاح و بہبود محض کوئی جدید سیکولر نظریہ نہیں ہے۔ انسانی تاریخ کے تمام ادوار میں مذہبی روایات، اخلاقی فلسفے اور قانونی نظاموں نے ہمیشہ یہ تسلیم کیا ہے کہ جانوروں پر انسانی غلبے کے ساتھ لازم و ملزوم ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام؛ یہ تمام مذاہب رحمت، نگہبانی، ذمہ دارانہ استعمال اور جانوروں کو غیر ضروری اذیت سے بچانے کی تعلیمات پر زور دیتے ہیں۔
جدید ریاستوں نے ان اصولوں کو بتدریج قانون سازی، ریگولیٹری اداروں اور نفاذ کے طریقہ کار میں ڈھالا ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ، یورپی یونین اور آسٹریلیا اس بات کی مختلف مثالیں پیش کرتے ہیں کہ کس طرح جدید طرزِ حکمرانی میں جانوروں کے تحفظ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان جانوروں کے ساتھ ہمدردی کی بھرپور اسلامی روایات اور حالیہ چند قانونی پیش رفتوں کے باوجود، اب بھی ایک فرسودہ اور غیر مربوط قانونی فریم ورک سے نبرد آزما ہے۔ اصل چیلنج محض یہ تسلیم کرنا نہیں ہے کہ جانور انسانی سلوک کے مستحق ہیں، بلکہ اخلاقی و مذہبی اصولوں کو نافذ العمل معیارات، بااختیار اداروں، ویٹرنری نگرانی، مؤثر سزاؤں اور نگہبانی کے ذمہ دارانہ کلچر میں تبدیل کرنا ہے۔
ابراہیمی احکامات: جانور بطورِ مقدس امانت
اربوں انسانوں کے لیے مذہبی تعلیمات اخلاقی رہنمائی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا باریک بینی سے جائزہ ایک مشترکہ اصول کو واضح کرتا ہے: جانوروں پر انسان کا اختیار لامحدود آزادی کا نام نہیں بلکہ یہ گہری ذمہ داری سے مشروط ہے۔
یہودیت اور رحمت کا اصول
یہودی روایت جانوروں کو غیر ضروری تکلیف سے بچانے کی پابندی کو تسلیم کرتی ہے، جسے عمومی طور پر "Tza’ar Ba’alei Chayim” کے اصول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بائبل کے قوانین میں جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے متعدد واضح احکامات موجود ہیں۔ سبت (Sabbath) کے حکم کے تحت مویشیوں کے لیے بھی آرام کا وقفہ لازم قرار دیا گیا ہے؛ سفر خروج (Exodus 20:10) میں مویشیوں اور دیگر جانوروں کو ان تمام میں شامل کیا گیا ہے جن کا کام سے رُکنا ضروری ہے۔ استثنا (Deuteronomy 25:4) میں گاہنے (کھلیان میں کام کرنے) کے دوران بیل کے منہ پر چھینکا باندھنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ کام کے دوران جانور کو کھانے سے نہ روکا جائے۔ امثال (Proverbs 12:10) ایک وسیع تر اخلاقی اصول قائم کرتی ہے: "راست باز شخص اپنے جانور کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔” مجموعی طور پر یہ تعلیمات جانوروں پر رحم کو اختیاری احسان کے بجائے انسان کے راست باز کردار کا لازمی حصہ قرار دیتی ہیں۔ یہ عبرانی تصور "tsa’ar ba’alei hayim” (جانداروں کے دکھ درد کے تدارک کا حکم) کا احاطہ کرتی ہے۔ مقدس صحائف سکھاتے ہیں کہ خدا نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں سے بھی عہد باندھا (Gen. 9:9-10; Hosea 2:20)۔ عبرانی اصطلاح "nefesh chaya” (زندہ روح) انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے لیے بھی استعمال کی گئی (Gen. 1:21, 24)۔
عیسائیت اور نگہبانی کی اخلاقیات
اسی طرح مسیحی الہیات انسان کو خدا کی تخلیق کا مطلق مالک نہیں بلکہ ایک نگہبان (Steward) قرار دیتی ہے۔ قدرتی دنیا کی حتمی ملکیت خدا کے پاس ہے، اور اس پر انسانی اختیار دیکھ بھال کے فرض کے ساتھ مشروط ہے۔ لوقا (Luke 12:6) میں حضرت عیسیٰؑ چڑیوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیتے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی خدا کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہے۔ یہ حوالہ اس وسیع تر مسیحی فہم کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر انسانی تخلیقات بھی خالق کی نظر میں خاص قدر و قیمت رکھتی ہیں۔ یوحنا (John 10:11) میں "اچھے چرواہے” کی تمثیل ذمہ دارانہ نگہبانی کا ایک اور طاقتور ماڈل فراہم کرتی ہے۔ چرواہا صرف ریوڑ کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان کا تحفظ کرتا ہے، ان کی پرورش کرتا ہے اور ان کے لیے خود کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ فلاحِ حیوانات کے تناظر میں یہ اخلاقی قدر ایسے تمام استحصال کو مسترد کرتی ہے جہاں جانداروں کو محض بے جان تجارتی اشیاء سمجھا جاتا ہے۔ عیسائیت کی تشریح تمام فطرت اور اس کے باسیوں کے احترام کے حکم کے طور پر کی گئی ہے۔ بائبل میں جانوروں کے ساتھ مشفقانہ رویے کے شواہد ملتے ہیں، مثلاً: "جو بیل کو ذبح کرتا ہے وہ گویا انسان کو قتل کرتا ہے” (Isaiah 66:3)؛ "کھانے کی خاطر خدا کے کام کو برباد نہ کرو” (Romans 14:19-21)؛ "نیک آدمی اپنے جانور کی جان کا لحاظ رکھتا ہے” (Proverbs 12:10)۔
اسلام اور حیوانی برادریوں کے حقوق
اسلام جانوروں کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے ایک نہایت جامع اخلاقی اور قانونی فریم ورک مہیا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری طرح کی امتیں (برادریاں) نہ ہوں” (القرآن 6:38)۔
یہ آیت جانوروں کو خدا کی تخلیق میں باقاعدہ امتیں اور برادریاں تسلیم کرتی ہے اور اس تصور کو یکسر مسترد کرتی ہے کہ وہ اخلاقی طور پر بے معنی ہیں۔ قرآن، حدیث اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے ساتھ مہربانی، رحمت اور شفقت کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ جانوروں کے حقوق کو بھی انسانوں کی طرح اہمیت دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے لیے لازم ہے کہ جانوروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو” (صحیح مسلم، 4:2593)۔ "اور اسی نے زمین کو تمام مخلوقات کے لیے بچھایا” (القرآن، 55:10)۔ "تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے” (مشکوٰۃ، 3:1392)، اور "کسی جانور کے ساتھ بھلائی کرنا اتنا ہی ثواب کا کام ہے جتنا کسی انسان کے ساتھ بھلائی کرنا، اور کسی جانور پر ظلم کرنا اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا کسی انسان پر ظلم کرنا” (مشکوٰۃ، کتاب 6، باب 7، 8:178)۔
ساتویں صدی کے عرب میں رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کے استحصال کے وسیع رواج کا مشاہدہ کیا اور غیر ضروری ظلم کے خاتمے کے لیے واضح اصول وضع فرمائے۔ آپ ﷺ نے جانوروں کی باہمی لڑائی کی ممانعت فرمائی، جانداروں کو نشانہ بازی کا ہدف بنانے سے روکا، جانور کے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا اور بلاوجہ ان کے اعضاء کاٹنے (مثلۂ کرنے) کی سخت مذمت کی۔ نبوی تعلیمات جانوروں کی جسمانی اور جذباتی فلاح کا بھی بھرپور احساس دلاتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق، آپ ﷺ نے ایک صحابی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا جنہوں نے گھونسلے سے پرندے کے بچے اٹھا لیے تھے، اور حکم دیا کہ انہیں فوراً ان کی ماں کے پاس واپس چھوڑا جائے۔ دیگر تعلیمات میں ان جانوروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا جو دوسروں پر منحصر ہیں، اور ایسے تمام طریقوں سے روکا گیا جو نومولود بچوں کو ضروری دودھ اور خوراک سے محروم کرتے ہوں۔
ذبح کے عمل میں بھی انسانی سلوک پر خصوصی زور دیا گیا۔ نبوی ہدایات کے مطابق مسلمانوں کو چھری خوب تیز کرنے اور جانور کی تکلیف کو کم سے کم کرنے کا حکم دیا گیا، ساتھ ہی ان تمام طریقوں سے سختی سے روکا گیا جو جانور کو غیر ضروری خوف یا گھبراہٹ میں مبتلا کریں۔ یہ اصول واضح کرتے ہیں کہ خوراک کے لیے جانوروں کا جائز استعمال بھی ان کے ساتھ انسانی ہمدردی کا برتاؤ کرنے کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے باربرداری اور سواری کے جانوروں پر لادے جانے والے بوجھ کو بھی باقاعدہ منظم کیا۔ آپ ﷺ نے سفر کے دوران جانوروں کی پیٹھ کو محض نشست یا کرسی کے طور پر استعمال کرنے سے متنبہ فرمایا۔ سنن ابوداؤد کی ایک مشہور روایت کے مطابق، آپ ﷺ کا گزر ایک انتہائی لاغر اور بھوکے اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی حالت مشقت اور بھوک کی گواہی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ نے اس پر شفقت فرمائی اور اس کے مالک کو بلوا کر تنبیہ کی کہ وہ اس بے زبان جانور کے معاملے میں خدا سے ڈرے جو اس کے سپرد کیا گیا ہے۔ اسی طرح، جب صحابہ نے چیونٹیوں کے ایک بل کو جلایا تو آپ ﷺ نے فوراً آگ بجھانے کا حکم دیا اور تنبیہ فرمائی کہ آگ سے عذاب دینے کا حق صرف خالق کو ہے۔ ایسی تعلیمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمدردی کا دائرہ محض معاشی اہمیت کے حامل مویشیوں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹی سے چھوٹی مخلوق تک پھیلا ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خبردار فرمایا کہ قیامت کے دن تمام مخلوقات کے درمیان حقوق بحال کیے جائیں گے (قصاص ہوگا)، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جانوروں پر ظلم کے دائمی اور اخروی نتائج ہیں۔ اسلامی فقہ نے تفریحی شکار، جانوروں کے دنگل، چارے کے لیے جانوروں کو باندھ کر لڑانے، زندہ اہداف پر نشانہ بازی، غیر ضروری اعضاء کاٹنے اور کام کرنے والے جانوروں پر حد سے زیادہ بوجھ لادنے پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ احادیث میں روحانی محاسبے کی ناقابلِ فراموش مثالیں موجود ہیں: ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے بلی کو قید رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، جبکہ ایک گناہ گار شخص کو صرف اس لیے بخش دیا گیا کہ اس نے پیاسے کتے کو کنویں سے پانی پلایا تھا۔ یہ تعلیمات اس اصول کو پختہ کرتی ہیں کہ جانوروں پر ظلم محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک سنگین مذہبی اور اخلاقی گناہ ہے۔
ہندو مت میں فلاحِ حیوانات
بھگود گیتا (شلوک 5.18) بیان کرتی ہے کہ خود شناس روح تمام جانداروں کے برابر ہونے کا ادراک رکھتی ہے۔
بدھ مت
بدھ مت تمام مخلوقات کے لیے آفاقی شفقت و رحمت کے اصول پر قائم ہے۔ وہ انسان مقدس ہے جو تمام زندہ مخلوقات پر رحم کرتا ہے۔
بہائی مذہب
بہائی مذہب دنیا کے کئی مذاہب کی تعلیمات کو سمیٹتے ہوئے تمام مخلوقات کے ساتھ شفقت پر زور دیتا ہے۔ بہاء اللہ کے فرزند، عبدالبہاء نے لکھا: "اے خدا کے دوستو! تمہارے دلوں میں نہ صرف نوعِ انسانی کے لیے مہربانی اور رحم کے جذبات ہونے چاہئیں، بلکہ تمہیں ہر جاندار مخلوق کے ساتھ انتہائی نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرنا چاہیے۔”
مقامی امریکی روایات
مقامی امریکی روایات اور عقائد مختلف ہیں، لیکن ان میں ایک مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ تمام فطرت مقدس ہے۔ تمام جاندار اور بے جان اشیاء کا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ سے ہے اور وہ لائقِ احترام ہیں۔ انسان، فطرت کا حصہ ہونے کے ناطے، زندگی اور موت کے چکر میں شریک ہے، مگر کسی بھی جانور کو بلاوجہ یا اس کی روح کے احترام کے بغیر ہلاک نہیں کیا جاتا۔
محاسبہ اور حیوانی بستیوں کا تحفظ
اسلامی تعلیمات بعد از مرگ احتساب کا تصور بھی پیش کرتی ہیں۔ اسلامی روایت میں جانوروں اور دیگر مخلوقات کے حوالے سے "قصاص” یعنی حقوق اور انصاف کی بحالی کے اصول پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس کا وسیع تر پیغام یہ ہے کہ انسان تخلیق پر اپنے اختیارات کے استعمال کے بارے میں جوابدہ ہیں۔ یہ ذمہ داری انفرادی جانوروں سے آگے بڑھ کر ان کے قدرتی مسکن (Habitats) کے تحفظ تک محیط ہے۔ محفوظ چراگاہوں اور قدرتی خطوں کا اسلامی تصور "حِمیٰ” (Hima)، زمین اور قدرتی وسائل کو بچانے اور نقصان دہ استحصال کو روکنے کا ایک بہترین ماڈل فراہم کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے گرد مخصوص محفوظ علاقے قائم فرمائے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نگہبانی کا دائرہ محض انفرادی نیکی کے کاموں سے لے کر جانوروں کی پوری بستیوں اور ان کے قدرتی ماحول کے تحفظ تک وسیع ہے۔ یوں اسلامی تعلیمات جانوروں کی فلاح و بہبود کو ایک ہمہ جہتی فریضے کے طور پر پیش کرتی ہیں جس میں شفقت، درد و تکلیف کی روک تھام، ذمہ دارانہ استعمال، قدرتی مسکن کا تحفظ اور حتمی محاسبہ شامل ہیں۔
عقیدے سے ریاست تک: نفاذ کے جدید فریم ورکس
اخلاقی تعلیمات اصول تو طے کر سکتی ہیں، مگر دیرپا تحفظ کے لیے قوانین، اداروں اور قانونی نفاذ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں کئی جدید دائرہ ہائے اختیار (Jurisdictions) مفید مثالیں پیش کرتے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ
امریکہ فلاحِ حیوانات کا ایک کثیر الجہتی نظام چلاتا ہے جس میں وفاقی قوانین، ریاستی فوجداری قوانین، انتظامی ضوابط اور مقامی نفاذی ادارے شامل ہیں۔ اینیمل ویلفیئر ایکٹ (AWA) تحقیق، تدریس، جانچ، نمائش، تجارتی سرگرمیوں اور نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص جانوروں کی دیکھ بھال اور علاج کے کم از کم معیارات قائم کرتا ہے۔ ہیومین میتھڈز آف سلاٹر ایکٹ (Humane Methods of Slaughter Act) مویشیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر ذبح کے تقاضے قائم کرتا ہے تاکہ تکلیف کو کم سے کم کیا جا سکے۔ 2019 میں نافذ کیا گیا "پریوینٹنگ اینیمل کرولٹی اینڈ ٹارچر (PACT) ایکٹ” جانوروں پر انتہائی ظلم کے بعض مخصوص افعال کو وفاقی جرم قرار دیتا ہے، جن میں جانوروں کو کچلنا، جلانا، ڈبونا، دم گھوٹنا اور دیگر سنگین زیادتیاں شامل ہیں۔ یہ وفاقی قوانین ریاستی قوانین کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جہاں مقامی پولیس، جانوروں کے کنٹرول کے ادارے، ویٹرنری ڈاکٹرز اور خصوصی تنظیمیں مل کر قانون نافذ کرتی ہیں۔ امریکی ماڈل یہ ظاہر کرتا ہے کہ جانوروں کی فلاح اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب قانون سازی کو پیشہ ورانہ نفاذ، ویٹرنری مہارت اور سخت سزاؤں کی پشت پناہی حاصل ہو۔
یورپ: جانور بحیثیت حساس و بااحساس مخلوق
یورپی یونین نے اپنے بنیادی قانون میں جانوروں کے "حساس و صاحبِ احساس” (Sentient) ہونے کو تسلیم کر کے ایک اہم نظریاتی پیش رفت کی ہے۔ یورپی یونین کے فنکشننگ ٹریٹی کا آرٹیکل 13 یونین اور اس کے رکن ممالک کو پالیسیاں بناتے وقت جانوروں کی فلاح کے تقاضوں کا مکمل خیال رکھنے کا پابند بناتا ہے۔ جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا نے اپنے آئین میں جانوروں کے تحفظ کو ریاستی ذمہ داری کے طور پر شامل کیا ہے۔ یورپی ضوابط نے زراعت، سائنسی تحقیق، نقل و حمل، ذبح خانوں اور جانوروں کے دیگر استعمالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جانوروں کو انتہائی تنگ جگہوں پر رکھنے، کھال (فر) کی پیداوار، اور کاسمیٹکس کی جانچ پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں فلاحِ حیوانات عوامی پالیسی کا بنیادی حصہ بن چکی ہے۔
آسٹریلیا کا ریگولیٹری منظرنامہ
آسٹریلیا ایک اور مؤثر ماڈل فراہم کرتا ہے۔ وہاں جانوروں کی فلاح و بہبود بنیادی طور پر ریاستی اور علاقائی قوانین کے تحت منظم کی جاتی ہے جس کی پشت پناہی قومی معیارات کرتے ہیں۔ یہ قوانین مویشیوں کی پیداوار، نقل و حمل اور نگہداشت کے دوران دیکھ بھال کے فرائض طے کرتے ہیں اور غفلت کو جرم قرار دیتے ہیں۔ کئی علاقوں میں "آر ایس پی سی اے” (RSPCA) جیسی غیر سرکاری تنظیموں کو جانوروں پر ظلم کی تفتیش کرنے، جانوروں کو تحویل میں لینے اور قانونی کارروائی شروع کرنے کے باقاعدہ قانونی اختیارات حاصل ہیں۔
پاکستان: ضمیر کا بحران
پاکستان ایک گہرا اور واضح تضاد پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی مذہبی روایت جانوروں پر رحم کی تعلیمات سے بھری ہوئی ہے، وہیں جانوروں کی فلاح کے سنگین مسائل مسلسل جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان میں فلاحِ حیوانات کی بنیاد اب بھی "پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1890” (Prevention of Cruelty to Animals Act, 1890) پر ہے۔ اگرچہ یہ ایکٹ ظلم کے خلاف بنیادی ممانعتیں قائم کرتا ہے، مگر یہ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانا ہے اور اس کا جرمانوں کا نظام اور ریگولیٹری طریقہ کار عصری تقاضوں سے یکسر غیر مطابقت رکھتا ہے۔ مسئلہ محض قوانین کے فقدان کا نہیں بلکہ نفاذ کی کمزوری، اداروں کے مابین رابطے کا فقدان، عوامی شعور کی کمی، معاشی دباؤ اور ناکافی ویٹرنری نگرانی کا بھی ہے۔
عید الاضحیٰ اور قربانی کے جانوروں کی فلاح
عید الاضحیٰ کے دوران جانوروں کی دیکھ بھال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ اس موقع پر لاکھوں جانوروں کو منتقل، رکھا اور ذبح کیا جاتا ہے۔ عید کے دنوں میں مویشیوں کو طویل فاصلے سے شدید نامساعد حالات میں لایا جاتا ہے۔ گاڑیوں میں حد سے زیادہ جانور ٹھونس دیے جاتے ہیں، انہیں تکلیف دہ حالتوں میں باندھا جاتا ہے اور وہ خوراک، پانی، ہوا اور ویٹرنری دیکھ بھال سے محروم رہتے ہیں۔ مویشی منڈیوں میں سائے کی کمی، گندگی، بدسلوکی اور سخت گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مقامات پر جانوروں کو دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح کیا جاتا ہے جس سے ان کا خوف اور تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ ان خدشات کا مقصد قربانی کے مذہبی فریضے پر اعتراض کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق قربانی سے پہلے اور اس کے دوران جانوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے ہے۔ اسلامی اصول نقل و حمل، رہائش اور ذبح کے دوران انتہائی شفقت اور کم سے کم تکلیف کی واضح بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔
باربردار اور محنت کش جانور
فلاح کا یہ بحران قربانی کے جانوروں سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ گدھے، خچر، گھوڑے اور بیل زراعت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور غیر رسمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں اور شہری منڈیوں میں کام کرنے والے جانور خاص طور پر غیر محفوظ ہیں۔ ضرورت سے زیادہ بوجھ لادنا، مار پیٹ، ناکافی آرام اور زخموں کا علاج نہ کروانا ان کی دائمی تکلیف اور قبل از وقت موت کا سبب بنتا ہے۔ جدید فریم ورک میں کام کے اوقات، بوجھ کی حد، آرام کے وقفوں، خوراک اور ریٹائرمنٹ کے قابل نفاذ معیارات مقرر ہونے چاہئیں۔
جنگلی حیات اور قید جانور
سڑکوں کے کنارے غیر قانونی چڑیا گھر، جنگلی حیات کی منڈیاں اور نایاب جانوروں کو نامناسب نجی تحویل میں رکھنا فلاحِ حیوانات کے مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔ قید جانوروں کو تنگ اور نامناسب ماحول میں خوراک اور ویٹرنری نگہداشت کے بغیر رکھا جاتا ہے۔ جنگلی حیات کا تحفظ صرف غیر قانونی شکار روکنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ قید میں موجود جانوروں کی فلاح کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔
آوارہ جانوروں کا انتظام
آوارہ جانوروں، بالخصوص کتوں کا انتظام ایک اور سنگین چیلنج ہے۔ انہیں زہر دینا یا گولی مارنا غیر انسانی عمل ہے اور آبادی کو کنٹرول کرنے کا کوئی پائیدار حل نہیں۔ مقامی حکومتوں کو ایک جامع حکمتِ عملی اپنانی چاہیے جس میں باقاعدہ ویکسینیشن، نس بندی (Sterilization)، ذمہ دارانہ ملکیت، اور کوڑے کرکٹ کا بہتر انتظام شامل ہو۔ آوارہ کتوں کے لیے اینٹی ریبیز (Rabies) ویکسینیشن انتہائی اہم ہے کیونکہ جانوروں کی فلاح اور انسانی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
پاکستان میں قانونی پیش رفت کے حالیہ اشارے
ان تمام خامیوں کے باوجود پاکستان کے قانونی منظرنامے میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں:
- کاون (Kaavan) کیس کا فیصلہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا "اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ بنام میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد” میں دیا گیا فیصلہ پاکستانی قانونی تاریخ کا ایک سنگ میل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جاندار حقوق رکھتے ہیں اور ریاست قید میں موجود جانوروں کی فلاح کی ذمہ دار ہے۔
- خیبر پختونخوا اینیمل ویلفیئر ایکٹ 2024: یہ ایکٹ جانوروں کے درد، چوٹ، خوف اور انسانی سلوک کے حوالے سے جدید نقطہ نظر اپناتا ہے۔
- پنجاب وائلڈ لائف ترامیم: پنجاب نے بھی اپنے جنگلی حیات کے قوانین میں ترامیم کے ذریعے نفاذی نظام کو مضبوط کیا ہے۔
یہ پیش رفتیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان 1890 کے فرسودہ ڈھانچے سے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل: اصلاحات کا روڈ میپ
فلاحِ حیوانات کے جدید فریم ورک کی قانون سازی
پاکستان کو چاہیے کہ 1890 کے فرسودہ ایکٹ کو فوری طور پر تبدیل کرے۔ وفاقی سطح پر مجوزہ "اینیمل ویلفیئر ایکٹ” کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے جو دیکھ بھال کی قانونی ذمہ داری طے کرے اور سزاؤں کو سخت کرے۔ قانون سازی میں پالتو جانوروں، محنت کش مویشیوں، ٹرانسپورٹ، منڈیوں، ذبح خانوں اور تحقیق کے لیے واضح معیارات ہونے چاہئیں۔ قانون کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جانور صرف جسمانی چوٹ ہی نہیں بلکہ خوف، پیاس، بھوک اور تھکن جیسے منفی احساسات کو بھی جھیلتے ہیں۔ سزاؤں میں بھاری جرمانے، قید، جانوروں کی ضبطی اور مجرم پر دوبارہ جانور رکھنے کی تاحیات پابندی شامل ہونی چاہیے۔
جانوروں کی فلاح کے لیے خصوصی نفاذی یونٹس کا قیام
قوانین اسی وقت مؤثر ہوتے ہیں جب ان کا نفاذ ہو۔ صوبائی اور مقامی سطح پر جانوروں کی فلاح کے لیے تربیت یافتہ اور ویٹرنری ڈاکٹروں پر مشتمل خصوصی دستے بنائے جائیں جو ظلم کی شکایات کی تفتیش کریں، ہنگامی ریسکیو انجام دیں اور غیر قانونی دنگل رکوائیں۔
ویٹرنری ماہرین کے کردار کو مرکزی حیثیت دینا
فلاحِ حیوانات کی پالیسی سازی اور نفاذ میں ویٹرنری ڈاکٹروں کو کلیدی حیثیت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ وہ درد، چوٹ، غذائی قلت اور ذبح کی اہلیت کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔
آوارہ جانوروں کے انسانی انتظام کو ادارہ جاتی بنانا
اندھا دھند زہر دینے اور گولیاں مارنے کے بجائے سائنسی بنیادوں پر آبادی کو کنٹرول کیا جائے، جس میں اینٹی ریبیز ویکسینیشن اور نیوٹرنگ/اسپینگ (CNVR) پروگرامز شامل ہوں۔
عید الاضحیٰ کے لیے باوقار اور انسانی معیارات کا تعین
عید کے دوران جانوروں کی نقل و حمل، خوراک، سائے اور ذبح کے لیے باقاعدہ پروٹوکول بنائے جائیں۔ علماء، ویٹرنری ڈاکٹرز اور میونسپل ادارے مل کر ایسے عملی معیارات بنائیں جو اسلامی احکامات اور سائنسی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔
عوامی شعور کی بیداری اور مذہبی قیادت کا کردار
جانوروں کی فلاح کو ویٹرنری و زرعی نصاب اور اسکولوں کی سطح پر شامل کیا جائے۔ مذہبی علماء مساجد اور خطبات کے ذریعے عوام کو یاد دلائیں کہ جانوروں سے رحم دلی اسلامی تعلیمات کی روح ہے۔
نتیجہ
جانوروں کی فلاح درحقیقت انسانی ذمہ داری کا پیمانہ ہے۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام سبھی جانوروں پر شفقت کی غیر متزلزل اخلاقی بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ جدید دنیا نے دکھایا ہے کہ ان اصولوں کو کس طرح نافذ العمل قوانین میں بدلا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس مذہبی بنیادیں بھی موجود ہیں اور عدالتی نظائر بھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انفرادی کوششوں سے نکل کر ایک جامع قومی فریم ورک بنایا جائے۔ عید پر جانوروں کا سلوک ہو، محنت کش جانوروں کا استحصال، یا آوارہ کتوں کا معاملہ—یہ سب ایک ہی بنیادی سوال سے جڑے ہیں کہ انسان بے زبانوں پر اپنے اختیارات کا استعمال کیسے کرتا ہے۔ حقیقی ترقی محض معاشی شرحِ نمو، سڑکوں یا ٹیکنالوجی سے نہیں ناپی جا سکتی، بلکہ اس کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ کوئی معاشرہ اپنے بے زبانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
جانوروں کے حقوق کا تحفظ کوئی ثانوی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہم بطورِ قوم کیسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں۔
خلاصہ: مصنفین کا مؤقف ہے کہ اگرچہ جانوروں کے حقوق کا ذکر قدیم صحائف اور مذاہب میں ہمیشہ سے موجود ہے، لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے اور عوامی شعور کی شدید کمی ہے۔ لہٰذا، قانون سازی کا ازسرنو جائزہ لے کر اس کے نفاذ کی تمام خامیوں کو فوری طور پر دُور کیا جانا چاہیے۔
مصنفین کا تعارف:
- ڈاکٹر خالد منیر: امریکہ اور عالمی سطح پر کلینیکل مہارت، تحقیق اور اینیمل ویلفیئر کے فروغ کے لیے سرگرم بین الاقوامی شہرت یافتہ ویٹرنری لیڈر ہیں۔
- ڈاکٹر محمد ارشد: ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اور ویٹرنری تعلیم و اکیڈمیا کے نمایاں رہنما ہیں۔
- ڈاکٹر اصغر چوہدری: یو ایس ڈی اے (USDA) کے ریٹائرڈ ویٹرنری میڈیکل آفیسر ہیں اور ویٹرنری ریگولیشن و فلاحی قوانین کے وسیع تجربہ کار ہیں۔
- ڈاکٹر محمد اکرم منیر: بین الاقوامی شہرت یافتہ مائیکرو بائیولوجسٹ، سابق ڈین اور پروفیسر ہیں جن کے پاس وسیع تدریسی و تحقیقی قیادت کا تجربہ ہے۔
- ڈاکٹر آصف ادریس: یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، نارووال کیمپس میں اینیمل پیتھالوجسٹ ہیں اور جانوروں کی صحت و بہبود کے لیے کوشاں ہیں۔
- ڈاکٹر حماد احمد ہاشمی: ویٹرنری ڈاکٹر، ریٹائرڈ فوجی لیفٹیننٹ کرنل، اینیمل ہیلتھ کیئر مارکیٹنگ کے ماہر، اور حقوق و فلاحِ حیوانات کے سرگرم وکیل ہیں۔