ایک روزہ چوزوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ پر تحفظات، صنعت کو لاحق چیلنجز پر بریفنگ
اسلام آباد، 10 جولائی 2025 – پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (PPA) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیئرمین جناب عبدالباسط کی قیادت میں آج وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے ملاقات کی۔ وفد میں ڈاکٹر حسن سرووش، چوہدری عبدالمجید اور جناب علی اسلم شامل تھے۔
ملاقات میں پولٹری سیکٹر پر حالیہ ٹیکس، خصوصاً ایک روزہ چوزوں پر 10 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے نفاذ کے خلاف گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
جبکہ حکومت کی جانب سے وفاقی سیکریٹری برائے قومی غذائی تحفظ اور وزارت کے دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔
چیئرمین PPA عبدالباسط نے واضح کیا کہ ایک روزہ چوزوں پر FED کا نفاذ، پولٹری پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ کرے گا، جس کا براہِ راست اثر مرغی کی قیمتوں پر اور بالآخر عوام پر پڑے گا۔
ڈاکٹر حسن سرووش نے کہا کہ پولٹری سیکٹر ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی تاجر دوست پالیسیوں کی حمایت کرتا آیا ہے، لیکن حالیہ ٹیکس اقدامات نے کاروباری برادری کو سخت پریشان کیا ہے۔ انہوں نے فوری نظر ثانی کی اپیل کی۔
چوہدری عبدالمجید نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے صرف پیداوار ہی نہیں، بلکہ پولٹری کی مکمل سپلائی چین متاثر ہوگی، جو مہنگائی میں مزید اضافہ کرے گی۔
علی اسلم، جو ایک نوجوان کاروباری نمائندہ ہیں، نے کہا کہ نئے ٹیکسز صنعت میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور نوجوان سرمایہ کاروں کو بددل کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کی اپیل کی۔
وفاقی سیکریٹری نے پولٹری ایسوسی ایشن کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے تجویز دی کہ:
"PPA وزارت کو جامع، دستاویزی ڈیٹا فراہم کرے تاکہ FED کے معاشی اثرات کا تفصیلی تجزیہ کیا جا سکے۔”
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے وفد کو یقین دلایا کہ:
- موصولہ ڈیٹا کی بنیاد پر وزارت جامع رپورٹ تیار کرے گی؛
- رپورٹ اور سفارشات وزیرِاعظم پاکستان کو پیش کی جائیں گی؛
- ایک مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں صنعت اور حکومت کے نمائندے مل بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔
چیئرمین PPA جناب عبدالباسط نے وزیر موصوف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم کے موقف کو سنجیدگی سے سنا اور ایک سنجیدہ مشاورت کی بنیاد رکھی۔


