عالمی ڈیری مارکیٹ میں مندی: پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

دو عالمی تحقیقی رپورٹس اور مقامی معیشت پر ان کے ممکنہ اثرات

عالمی سطح پر دودھ کی سپلائی طلب سے آگے نکل چکی ہے، اور اس عدم توازن کے اثرات 2026 تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

Rabobank کی Global Dairy Quarterly Q4 2025 رپورٹ اور Agriland کی تازہ رپورٹ ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

عالمی منظرنامہ: دودھ زیادہ، قیمتیں کم

Rabobank کے مطابق 2025 کی تیسری سہ ماہی کے بعد عالمی ڈیری مارکیٹ کمزور ہوئی اور چوتھی سہ ماہی میں قیمتوں میں واضح کمی آئی۔
اس دوران Agriland کی رپورٹ بتاتی ہے کہ گزشتہ 12 ماہ میں عالمی دودھ کی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے، خاص طور پر امریکہ، یورپ اور نیوزی لینڈ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی سپلائی طلب سے آگے نکل چکی ہے، جس کے اثرات 2026 تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

اس زائد پیداوار کی بنیادی وجوہات میں گزشتہ سال کی مضبوط فارم گیٹ قیمتیں، بیماریوں سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، اور بہتر فیڈ و مینجمنٹ شامل ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مارکیٹ میں دودھ کی دستیابی بڑھ گئی، جبکہ طلب اس رفتار سے نہیں بڑھی۔

عالمی ڈیری منڈی اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ حالیہ دو بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس — ایک Rabobank (Global Dairy Quarterly Q4 2025) اور دوسری Agriland کی جانب سے شائع ہونے والی — ایک ہی سمت کی نشاندہی کر رہی ہیں، مگر مختلف زاویوں سے۔ ان رپورٹس کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ دنیا میں دودھ کی پیداوار طلب سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، جس کے اثرات قیمتوں، کسانوں اور پالیسی فیصلوں تک پھیل رہے ہیں۔

یہ سوال اب محض یورپ یا امریکہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی نہایت اہم ہو چکا ہے، جہاں دودھ نہ صرف غذائی ضرورت بلکہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

Rabobank کی رپورٹ بنیادی طور پر قیمتوں اور مارکیٹ بیلنس پر توجہ دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں عالمی ڈیری کموڈیٹی قیمتیں نمایاں دباؤ کا شکار ہوئیں۔ مکھن، ہول ملک پاؤڈر اور چیز جیسی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں دودھ کی دستیابی ضرورت سے زیادہ ہو چکی ہے۔

رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگرچہ پچھلے برس بہتر فارم گیٹ قیمتوں نے پیداوار میں اضافہ کیا، مگر اب وہی اضافہ کسانوں کے مارجن کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ Rabobank کے مطابق یہ دباؤ 2026 تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ڈیری سیکٹر کو طویل المدتی سست روی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب Agriland کی رپورٹ پیداوار کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران عالمی دودھ کی پیداوار ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ امریکہ، یورپی یونین، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ جیسے خطوں میں دودھ کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Agriland رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ مضبوط دودھ کی قیمتوں، بیماریوں سے بحالی، اور بہتر مینجمنٹ نے کسانوں کو زیادہ دودھ پیدا کرنے کی ترغیب دی۔ مگر یہی اضافہ اب عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتائج قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

جب ان دونوں رپورٹس کو اکٹھا پڑھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے:
دنیا میں دودھ زیادہ ہے، قیمتیں کمزور ہیں، اور یہ صورتحال ان ممالک کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے جہاں ڈیری سیکٹر پہلے ہی غیر منظم ہے۔

پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، مگر یہاں دودھ کی مارکیٹ کا بڑا حصہ غیر رسمی (Informal) ہے۔ عالمی سطح پر دودھ اور ڈیری اجزاء کی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستان پر بالواسطہ مگر گہرا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر درآمدی خشک دودھ (Milk Powder) کے ذریعے۔

عالمی سطح پر Milk Powder کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں پاکستان میں دو متضاد رجحانات بیک وقت سامنے آ سکتے ہیں۔ ایک جانب، ڈیری پروسیسنگ انڈسٹری کے لیے نسبتاً کم قیمت پر خشک دودھ دستیاب ہونے سے یو ایچ ٹی دودھ، مختلف ڈیری مصنوعات اور فوڈ انڈسٹری کی مجموعی سپلائی میں اضافہ ممکن ہو جاتا ہے، جس سے شہری منڈیوں میں رسد بہتر اور قیمتوں پر وقتی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب، یہی کم قیمت درآمدی دودھ مقامی تازہ دودھ کی قیمتوں پر منفی دباؤ ڈال سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی متاثر ہونے اور دیہی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر عالمی ڈیری منڈی کی یہ سست روی کسی مؤثر پالیسی توازن اور حفاظتی میکنزم کے بغیر پاکستان میں داخل ہوئی تو بظاہر دودھ کی مجموعی دستیابی تو بڑھے گی، مگر اس کی قیمت کسان کی کمزوری اور دیہی معاشی دباؤ کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

اس صورتحال کو مزید حساس بنانے والا ایک اور پہلو یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں دودھ کے پاؤڈر کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں اور مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق یہ رجحان 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اسی دوران جولائی 2025 کے فنانس ایکٹ کے تحت حکومت نے بعض درآمدی غذائی اشیاء پر ریگیولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی ہے، جس کے نتیجے میں رپورٹس کے مطابق چند ڈیری آئٹمز پر ڈیوٹی 25 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد تک آ گئی ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا عملی مطلب یہ ہے کہ درآمدی دودھ اور ڈیری اجزاء اب پہلے کے مقابلے میں مزید کم قیمت پر دستیاب ہو سکتے ہیں، جو مقامی دودھ کی مارکیٹ پر دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

Rabobank اور Agriland کی رپورٹس پاکستان کے لیے محض معلوماتی دستاویزات نہیں بلکہ ایک واضح پالیسی الرٹ ہیں۔ یہ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی ڈیری منڈی کی سست روی پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، اور اگر بروقت اور متوازن حکمتِ عملی نہ اپنائی گئی تو اس کے اثرات کسانوں، ڈیری انڈسٹری اور قومی غذائی تحفظ پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔