
ہر سال 23 مئی کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد ان قدیم اور معصوم جانداروں کے تحفظ کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔ کچھوے ہماری زمین پر کروڑوں سالوں سے موجود ہیں اور یہ ہمارے ماحول (Ecosystem) کو متوازن رکھنے میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آبی ماحول، خواہ وہ سمندر ہو، دریا ہو یا تالاب، کچھووں کے بغیر ادھورا اور غیر صحت مند ہو جاتا ہے۔ یہ پانی کے ذخائر کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ پانی میں موجود مردہ مادے اور گندگی کو کھا کر اسے آلودگی سے بچاتے ہیں۔ سمندری کچھوے، جیسے کہ گرین سی ٹرٹل، سمندری گھاس (Seagrass) کو تراش کر اسے صحت مند رکھتے ہیں، جو کہ دوسری چھوٹی مچھلیوں کی نرسری کا کام کرتی ہے۔ اسی طرح خشکی اور دلدلی علاقوں کے کچھوے مٹی کی زرخیزی بڑھانے اور پودوں کے بیجوں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ہمارا ماحول صحت مند ہے۔
تاہم، آج یہ بے زبان جاندار انسانوں کی بے حسی اور بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے شدید خطرات کا شکار ہیں۔ ان میں سب سے بڑا خطرہ غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کچھووں کو ان کے گوشت، خول (Shells) اور روایتی ادویات کی تیاری کے لیے بے دردی سے شکار کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر میٹھے پانی کے کچھووں (جیسے انڈین فلپ شیل ٹرٹل) کو غیر قانونی طور پر پکڑ کر دوسرے ممالک میں اسمگل کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، سمندروں اور دریاؤں میں مچھلیوں کا بے دریغ شکار (Overfishing) کچھووں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ مچھلی پکڑنے والے بڑے بڑے جالوں (Trawlers) میں مچھلیوں کے ساتھ ساتھ معصوم کچھوے بھی پھنس جاتے ہیں، جسے سائنسی زبان میں ‘بائی کیچ’ (Bycatch) کہا جاتا ہے۔ جال میں پھنسنے کے بعد یہ کچھوے سانس نہ لینے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔ مچھلیوں کے شکار کے اس بدترین اور غیر پائیدار طریقے نے سمندری حیات کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ان تمام خطرات کے علاوہ، پلاسٹک اور ماحولیاتی آلودگی کچھووں کی بقا کے لیے ایک اور بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ہمارے ساحلوں اور سمندروں میں پھینکا جانے والا پلاسٹک، شاپنگ بیگز اور خالی بوتلیں کچھووں کی موت کا سبب بن رہی ہیں۔ سمندری کچھوے اکثر پلاسٹک کی تھیلیوں کو اپنی پسندیدہ خوراک (جیلی فش) سمجھ کر نگل لیتے ہیں، جو ان کے پیٹ میں پھنس جاتی ہے اور وہ بھوک اور تکلیف کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ مزید برآں، ساحلوں پر بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت، ہوٹلنگ اور روشنیوں کی آلودگی (Light Pollution) کی وجہ سے مادہ کچھووں کے لیے انڈے دینے کی محفوظ جگہیں ختم ہوتی جا رہی ہیں، اور انڈوں سے نکلنے والے بچے سمندر کا راستہ بھٹک کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔