پنجاب میں جامعات کے انضمام کا بڑا پالیسی معاملہ، ڈیرہ غازی خان کی دو جامعات کو غازی یونیورسٹی میں ضم کرنے کی سفارش

ملتان: پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم انتظامی اور پالیسی معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے انضمام کی سفارشات پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایجنڈا نمبر 17 کے تحت میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈیرہ غازی خان اور ویمن یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کو غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں ضم کرنے کے کیس پر تفصیلی غور کیا گیا۔

دستیاب ایجنڈا دستاویز کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے خط نمبر SO(Univ)19-1/2026 مورخہ 22 اپریل 2026 کے ذریعے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اس معاملے پر رپورٹ اور سفارشات طلب کی تھیں۔ اس کے بعد پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈیرہ غازی خان ضلع کی جامعات سے متعلق فزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے محکمہ ہائر ایجوکیشن کو ارسال کی۔

رپورٹ کے مطابق ضلع ڈیرہ غازی خان میں اس وقت تین جامعات تقریباً 5 سے 8 کلومیٹر کے محدود دائرے میں قائم ہیں، جبکہ ملتان، بہاولپور، لیہ اور رحیم یار خان سمیت قریبی اضلاع میں مجموعی طور پر 15 جامعات موجود ہیں۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ایک ہی خطے میں قریب قریب واقع جامعات میں مشترک یا ایک جیسے تعلیمی پروگرامز کی موجودگی سے وسائل کی تقسیم، ادارہ جاتی دہراؤ، انتظامی پیچیدگیاں اور مالی دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔

پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور ویمن یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کو غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں ضم کرنا ایک قابلِ عمل اور موزوں آپشن ہے۔ رپورٹ کے مطابق تینوں جامعات کا ایک دوسرے کے قریب واقع ہونا انتظامی یکجائی کو عملی، آسان اور مؤثر بناتا ہے۔

فیکلٹی کے بہتر استعمال کی سفارش

رپورٹ میں فیکلٹی ریشنلائزیشن کو انضمام کی ایک اہم بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ سفارشات کے مطابق انضمام کے بعد اساتذہ کی تعیناتی اور کیمپسز کے درمیان تدریسی عملے کی تقسیم کو اس انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے کہ تدریسی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے اور انسانی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو۔

دستیاب متن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ میر چاکر رند یونیورسٹی اور ویمن یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں پہلے سے موجود faculty deployment arrangements کو بنیاد بنا کر ایک مؤثر تعلیمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں مالی انضمام کو بھی اہم سفارش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تین الگ الگ ادارہ جاتی ڈھانچوں کو برقرار رکھنے سے انتظامی اور مالی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک ہی انتظامی فریم ورک کے تحت مالی امور کو منظم کرنے سے دہرائے جانے والے اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور سرکاری وسائل کا زیادہ بہتر استعمال ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

انفراسٹرکچر آپٹیمائزیشن کے حوالے سے رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ نئی عمارتوں اور اضافی تعمیرات پر اخراجات کرنے کے بجائے پہلے سے موجود عمارتوں، کیمپس انفراسٹرکچر اور تعلیمی سہولیات کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے۔ اس اقدام سے قومی وسائل کی بچت کے ساتھ دستیاب سہولیات سے زیادہ مؤثر فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں موجود جامعات اپنی مکمل استعداد کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہیں، حالانکہ ان کے پاس بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کی قابلِ ذکر صلاحیت موجود ہے۔ قریبی فاصلے پر قائم تین جامعات میں ایک جیسے تعلیمی پروگرامز کی موجودگی اعلیٰ تعلیم کے مؤثر فروغ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ غازی یونیورسٹی کے تحت ایک متحدہ نظام تشکیل دینے سے گورننس بہتر ہو سکتی ہے، ادارہ جاتی کارکردگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، ایک جیسے تعلیمی پروگرامز کے دہراؤ میں کمی آ سکتی ہے، مالی استحکام کو فروغ مل سکتا ہے اور خطے کے مجموعی اعلیٰ تعلیمی ماحول کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

دیگر جامعات کے انضمام کے معاملات بھی زیرِ غور

دستیاب معلومات کے مطابق پنجاب میں صرف ڈیرہ غازی خان ہی نہیں بلکہ دیگر تعلیمی اداروں کے ممکنہ انضمام کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔ ان میں راولپنڈی شہر کی ویمن یونیورسٹیز، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس کے معاملات شامل ہیں۔

اسی طرح چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ویٹرنری کالج کے انضمام کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ مزید برآں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انجینئرنگ اور زرعی/ویٹرنری کالجز کو بالترتیب محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان اور محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ضم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

جواب دیں