فیڈ انڈسٹری کا خواب یا مہنگی حقیقت؟

حشرات کی پروٹین: فیڈ انڈسٹری کا انقلابی خواب یا مہنگی حقیقت؟

عالمی فیڈ انڈسٹری میں کبھی حشرات سے حاصل ہونے والی پروٹین کو سویا بین میل اور فش میل کا ممکنہ متبادل سمجھا جا رہا تھا، مگر بلند پیداواری لاگت، ریگولیٹری رکاوٹیں، سست مارکیٹ قبولیت اور بعض بڑے منصوبوں کی ناکامی نے اس شعبے کو محتاط حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

ماخذی رپورٹ: Feed Strategy | تحریر: Vladislav Vorotnikov | اشاعت: 21 مئی 2026

اہم نکات

  • حشرات پر مبنی فیڈ اجزاء کو چند سال پہلے فیڈ انڈسٹری کا بڑا متبادل سمجھا جا رہا تھا۔
  • بلند لاگت، تکنیکی مسائل اور محدود مارکیٹ قبولیت نے اس شعبے کی رفتار کم کر دی ہے۔
  • یورپ میں کئی بڑے insect protein منصوبے مالی دباؤ یا تنظیم نو کا شکار ہوئے۔
  • چین اور افریقہ میں black soldier fly production کے حوالے سے کچھ حوصلہ افزا پیش رفت موجود ہے۔
  • مستقبل مکمل طور پر مایوس کن نہیں، لیکن کامیابی کے لیے لاگت، معیار، حفاظت اور مسلسل supply کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

ابتدائی امیدیں کیوں بلند تھیں؟

گزشتہ دہائی کے دوران حشرات سے حاصل ہونے والی پروٹین کو animal feed industry میں ایک اہم innovation کے طور پر دیکھا گیا۔ خیال یہ تھا کہ insect meal مستقبل میں fishmeal، soy protein isolates اور دیگر مہنگے protein ingredients کا متبادل بن سکتا ہے۔ خاص طور پر poultry، aquaculture، pet food اور pig feed کے لیے اسے ایک sustainable ingredient کے طور پر پیش کیا گیا۔

اس امید کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ حشرات کم جگہ، کم وسائل اور organic waste یا byproducts پر پرورش پا سکتے ہیں۔ اس تصور نے feed industry، investors اور research institutions کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ کئی کمپنیوں نے لیبارٹری سطح کے تجربات سے آگے بڑھ کر بڑے صنعتی پلانٹس قائم کرنے کی کوشش کی۔

حقیقت توقعات سے مختلف کیوں نکلی؟

عملی سطح پر insect protein کو commercial feed ingredient بنانا آسان ثابت نہیں ہوا۔ سب سے بڑا مسئلہ cost of production ہے۔ Insect protein اب بھی soybean meal اور fishmeal جیسے روایتی ingredients کے مقابلے میں مہنگا پڑتا ہے۔ فیڈ انڈسٹری میں قیمت بہت حساس معاملہ ہے، کیونکہ poultry، dairy، aquaculture اور livestock production میں feed cost مجموعی لاگت کا بڑا حصہ بناتی ہے۔

اسی لیے feed manufacturers کسی بھی نئے ingredient کو صرف اس وقت بڑے پیمانے پر قبول کرتے ہیں جب وہ قیمت، nutritional consistency، digestibility، safety اور supply reliability کے لحاظ سے واضح فائدہ دے۔ Insect meal اس معیار پر مکمل طور پر پورا اترنے کے لیے ابھی مزید ترقی کا محتاج ہے۔

بڑے منصوبوں کی ناکامی نے کیا پیغام دیا؟

insect protein industry کے لیے سب سے نمایاں جھٹکا اس وقت سامنے آیا جب یورپ کی بعض معروف کمپنیوں کو مالی مشکلات، restructuring یا closure جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ فرانسیسی کمپنی Ÿnsect، جس نے insect protein کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کی تھی، دسمبر 2025 میں judicial liquidation کے مرحلے میں چلی گئی۔ یہ واقعہ industry کے لیے ایک اہم warning signal تھا۔

اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ صرف sustainability کا نعرہ commercial success کے لیے کافی نہیں۔ feed ingredient کو مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے economic viability بھی ثابت کرنا پڑتی ہے۔ اگر ingredient مہنگا ہو، supply محدود ہو، quality ہر batch میں یکساں نہ رہے یا production scale کرنے میں مسائل آئیں، تو feed mills اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

جانوروں کی خوراک میں استعمال کے تکنیکی سوالات

insect meal کے حوالے سے nutritional potential موجود ہے، لیکن اس کے استعمال میں کئی technical questions بھی ہیں۔ مثال کے طور پر مختلف animal species میں inclusion level کیا ہونا چاہیے؟ کیا poultry، fish، pets اور pigs کے لیے ایک جیسی formulation مناسب ہو سکتی ہے؟ کیا palatability یعنی خوراک کی قبولیت ہر species میں یکساں رہے گی؟

اسی طرح chitin جیسے compounds کے بارے میں بھی research جاری ہے۔ Chitin حشرات کے outer structure کا حصہ ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کے اثرات species، processing method اور inclusion level کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے insect meal کو feed formulation میں شامل کرنے سے پہلے scientific validation اور practical feeding trials بہت ضروری ہیں۔

VNV Insight

پاکستان جیسے ممالک کے لیے insect protein فوری طور پر soybean meal کا متبادل نہیں بن سکتا، لیکن long-term research، waste management، aquaculture feed اور specialty pet food میں اس کے لیے جگہ پیدا ہو سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسے مقامی سطح پر کم لاگت، محفوظ اور مسلسل معیار کے ساتھ تیار کیا جا سکتا ہے؟

Emerging markets میں صورتحال

ابتدا میں توقع تھی کہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا insect protein کی بڑی منڈیاں بن سکتے ہیں، کیونکہ ان خطوں میں food security، protein deficiency اور feed cost جیسے مسائل موجود ہیں۔ مگر ان مارکیٹوں میں بھی adoption توقعات کے مطابق تیز نہیں ہو سکی۔

چین میں black soldier fly یعنی BSF production کے حوالے سے پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ کچھ علاقوں میں insect-based feed poultry، pig اور aquaculture diets میں آزمائی جا رہی ہے۔ تاہم soymeal اب بھی کئی جگہوں پر زیادہ سستا اور زیادہ دستیاب ingredient ہے، جس کی وجہ سے insect protein کی بڑے پیمانے پر قبولیت محدود رہتی ہے۔

افریقہ میں صورتحال نسبتاً مختلف ہے۔ وہاں food security، organic waste management اور protein demand کی وجہ سے black soldier fly production میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ چھوٹے اور بڑے farmers دونوں اس شعبے میں داخل ہو رہے ہیں۔ European pet food companies بھی بعض African producers کے ساتھ contracts کر رہی ہیں، کیونکہ pet food sector میں premium ingredients کی گنجائش نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔

کیا مستقبل ختم ہو گیا؟

insect protein industry کے سامنے مسائل ضرور ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل ختم ہو چکا ہے۔ اس شعبے میں اب بھی possibilities موجود ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں waste streams کو safe feedstock میں تبدیل کیا جا سکے۔ اگر insect producers ایسے feedstocks استعمال کر سکیں جو کم قیمت یا practically free ہوں، تو production cost میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

تاہم اس راستے میں safety سب سے بڑا سوال ہے۔ اگر food waste، byproducts یا animal manure جیسے sources استعمال کیے جائیں تو contaminants، pathogens اور regulatory compliance کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ feed industry میں safety compromise نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس کا تعلق animal health، food chain اور human consumers تک جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے سبق

پاکستان میں poultry، dairy، livestock اور aquaculture sectors feed cost کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ soybean meal، fishmeal، corn، vitamins، amino acids اور imported ingredients کی قیمتیں production economics کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ ایسے میں insect protein جیسے alternative ingredients پر research ضرور ہونی چاہیے، مگر اسے فوری commercial solution سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ universities، feed mills، livestock departments اور private sector مل کر چھوٹے pilot projects شروع کریں۔ ان projects میں black soldier fly larvae، local organic waste streams، nutritional profile، safety testing، processing methods اور animal performance trials کو سائنسی بنیادوں پر evaluate کیا جائے۔

اگر مقامی حالات میں insect meal کو محفوظ، کم لاگت، قابل اعتماد اور nutritionally consistent بنایا جا سکے تو یہ مستقبل میں aquaculture، pet food یا specialty poultry diets میں جگہ بنا سکتا ہے۔ لیکن جب تک قیمت اور performance واضح طور پر ثابت نہ ہو، اسے soybean meal یا fishmeal کا مکمل متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

نتیجہ

حشرات سے حاصل ہونے والی پروٹین کا تصور ختم نہیں ہوا، مگر اس کے گرد موجود ابتدائی hype ضرور کم ہو گئی ہے۔ اب یہ شعبہ جذباتی دعووں کے بجائے commercial reality، scientific validation اور cost competitiveness کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

feed industry کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ insect protein دلچسپ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ ingredient مسلسل معیار، مناسب قیمت، محفوظ supply اور ثابت شدہ animal performance فراہم کر سکتا ہے؟ جب تک اس سوال کا مضبوط جواب نہیں ملتا، insect protein ایک promising مگر محدود استعمال والا alternative feed ingredient رہے گا۔

Source Credit: This Urdu educational adaptation is based on an original report published by Feed Strategy, written by Vladislav Vorotnikov, published on May 21, 2026, under the Animal Feed Additives & Ingredients section.
Original Source: Feed Strategy

جواب دیں