
ڈاکٹر محمد عون، ڈاکٹر ریاض مصطفی، ڈاکٹر محمد عمران، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
عید الاضحی عالم اسلام کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے جس میں مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں جانور اس موقع پر قربان کیے جاتے ہیں، اس لیے قربانی کے جانور کا انتخاب نہایت احتیاط اور سمجھ داری سے کرنا ضروری ہے۔
قربانی کے لیے منتخب کیا جانے والا جانور صحت مند، توانا، متحرک اور ظاہری عیوب سے پاک ہونا چاہیے۔ جانور خریدتے وقت صرف اس کے موٹے تازے نظر آنے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی عمر، آنکھوں، چال، جسمانی حالت، سانس، منہ، ناک، جلد، ٹانگوں اور عمومی رویے کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔
چھوٹے جانوروں، مثلاً بکری اور بھیڑ، کی عمر کا اندازہ دانتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر جانور کے نچلے جبڑے کے سامنے دو مستقل دانت موجود ہوں تو اسے عام طور پر دوندا کہا جاتا ہے اور قربانی کے لیے قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح بڑے جانوروں، مثلاً بچھڑوں اور کٹڑوں، کا بھی مطلوبہ عمر تک پہنچنا ضروری ہے۔
جانور کی آنکھیں صاف، روشن اور بیماری کے آثار سے پاک ہونی چاہئیں۔ اندھا، کانا یا آنکھ سے مواد بہنے والا جانور نہیں خریدنا چاہیے۔ جانور کی بینائی جانچنے کے لیے اس کے چہرے کے قریب ہاتھ ہلا کر ردعمل دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر جانور سر کو جھٹکا دے یا فوری ردعمل ظاہر کرے تو اس کی بینائی بہتر سمجھی جا سکتی ہے۔
جانور کی چال بھی اس کی صحت کا اہم اشارہ ہے۔ خریداری سے پہلے جانور کو کچھ فاصلے تک چلا کر ضرور دیکھیں۔ اگر وہ آسانی سے اور اپنی قدرتی چال کے ساتھ چل رہا ہے تو اس کی ٹانگیں اور جوڑ بہتر حالت میں ہو سکتے ہیں۔ لنگڑا پن، سوجن، جوڑوں کی خرابی یا چال میں غیر معمولی تبدیلی بیماری یا چوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔
جانور کی ناک صاف ہونی چاہیے۔ ناک سے گندا مواد بہنا، بار بار کھانسنا یا چھینکنا نظام تنفس کی بیماری کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اسی طرح منہ کے اندر زخم، چھالے یا غیر معمولی بدبو بھی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے، اس لیے ایسے جانور کے انتخاب سے گریز کرنا چاہیے۔
جانور کا جسم بھی اچھی طرح دیکھنا چاہیے۔ اگر جانور ریوڑ سے الگ کھڑا ہو، دیوار یا کھمبے سے جسم رگڑ رہا ہو، یا بار بار بے چینی ظاہر کر رہا ہو تو اس کے جسم پر بیرونی کیڑوں یا جلدی مسئلے کا امکان ہو سکتا ہے۔ کانوں، ٹانگوں کے درمیان، پیٹ کے نچلے حصے اور دم کے قریب جگہ کا معائنہ ضرور کریں۔
مقعد اور پچھلی ٹانگوں کے بال صاف ہونے چاہئیں۔ گندگی، پیچش یا مسلسل دست جانور کے نظام انہضام میں خرابی کی علامت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بہت زیادہ پھولا ہوا پیٹ بھی صحت کی ضمانت نہیں، کیونکہ بعض اوقات جانور کو وقتی طور پر زیادہ خوراک یا مشروبات دے کر بھاری دکھایا جاتا ہے۔
قربانی کے جانور کا انتخاب ہمیشہ دن کی روشنی میں کریں تاکہ آنکھوں، چال، جلد، دانتوں، سینگوں، منہ اور جسمانی حالت کا بہتر معائنہ کیا جا سکے۔ اگر جانور میں واضح عیب، بیماری یا کمزوری پائی جائے تو ایسے جانور کی قربانی شرعی اور صحت کے لحاظ سے مناسب نہیں سمجھی جاتی۔
صحیح جانور کا انتخاب نہ صرف قربانی کے فریضے کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ جانوروں کی صحت، خریدار کے معاشی مفاد اور معاشرے میں محفوظ گوشت کی فراہمی کے لیے بھی اہم ہے۔ اس لیے قربانی کے جانور کی خریداری میں جلد بازی کے بجائے مکمل احتیاط، مشاہدہ اور ماہرین کی رہنمائی کو ترجیح دینی چاہیے۔