بکروں کو عید سے پہلے تیزی سے موٹا کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے

عید سے پہلے بکروں کو موٹا کرنا خطرناک کیوں ہے

عید الاضحی کے قریب آتے ہی پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں قربانی کے جانوروں، خاص طور پر بکروں کی خرید و فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر زیادہ قیمت حاصل کرنے کے لیے بعض کسان اور بیوپاری چند ہفتوں میں بکروں کو موٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ عمل فائدہ مند دکھائی دیتا ہے، مگر اچانک زیادہ اناج، ونڈا، گندم یا مکئی کھلانا بکروں کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بکرا جگالی کرنے والا جانور ہے۔ اس کی اوجھڑی میں خوراک ہضم کرنے کے لیے مخصوص جراثیم کا ایک قدرتی نظام موجود ہوتا ہے۔ یہ نظام چارہ اور ریشہ دار خوراک پر بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ جب بکرے کو اچانک زیادہ مقدار میں نشاستہ والی خوراک دی جاتی ہے تو اوجھڑی کا توازن خراب ہو جاتا ہے اور تیزابیت پیدا ہو سکتی ہے۔

اس کیفیت کو عام طور پر اناج کی زیادتی یا رومن ایسیڈوسس کہا جاتا ہے۔ اس میں اوجھڑی کا ماحول تیزی سے تیزابی ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً جانور چارہ چھوڑ دیتا ہے، سست ہو جاتا ہے، ریوڑ سے الگ کھڑا رہتا ہے، دست لگ سکتے ہیں، پیٹ میں درد ہو سکتا ہے، آنکھیں اندر دھنس سکتی ہیں، منہ خشک ہو سکتا ہے اور شدید صورت میں جانور بیٹھ جاتا ہے۔

عید سے پہلے موٹا کرنے کے دوران یہ مسئلہ اس لیے زیادہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ جانور کو چارے سے اناج پر آہستہ آہستہ منتقل نہیں کرتے۔ اوجھڑی کے جراثیم کو نئی خوراک کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اگر اچانک زیادہ ونڈا یا گندم شروع کر دی جائے تو جانور کا نظام انہضام شدید دباؤ میں آ جاتا ہے۔

جانور کو موٹا کرنے کے لیے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ خوراک میں تبدیلی آہستہ آہستہ کی جائے۔ پہلے خشک یا سبز چارہ دیا جائے، پھر محدود مقدار میں ونڈا شامل کیا جائے۔ اناج کی مقدار ایک دم نہ بڑھائی جائے۔ صاف پانی ہر وقت دستیاب ہو، جانور کو ہلکی چہل قدمی کا موقع ملے اور خوراک میں ریشہ دار حصہ لازمی رکھا جائے۔

ماہرین کے مطابق جانور کی خوراک کی بنیاد چارہ ہونا چاہیے۔ صرف اناج کے ذریعے تیزی سے وزن بڑھانے کی کوشش جانور کو بیمار کر سکتی ہے۔ بہت زیادہ پھولا ہوا پیٹ ہمیشہ صحت کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایسے جانور ظاہری طور پر موٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر اندرونی طور پر ان کا نظام انہضام متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔

اگر بکرا اچانک چارہ چھوڑ دے، بار بار لیٹنے لگے، پیٹ درد ظاہر کرے، بدبودار یا پانی جیسے دست لگ جائیں، آنکھیں اندر دھنس جائیں یا جانور کمزور محسوس ہو تو فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ایسی حالت میں تاخیر جانور کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

عید الاضحی کے لیے صحت مند، فعال اور متوازن خوراک پر تیار کیا گیا بکرا ہی بہتر انتخاب ہے۔ جانور کو محبت کے نام پر حد سے زیادہ اناج دینا نقصان دہ ہے۔ اصل دیکھ بھال صبر، مناسب خوراک، صاف پانی، ریشہ دار چارہ اور ماہرین کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہے۔

ڈاکٹر اویس الرحمن سیال، لیکچرر پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی، اور ڈاکٹر ارسلان نسیم بٹ

جواب دیں