عیدالاضحیٰ سے پہلے بکروں میں اناج کی زیادتی اور اوجھڑی کی تیزابیت

عیدالاضحیٰ سے پہلے بکروں میں اناج کی زیادتی اور اوجھڑی کی تیزابیت

پاکستان میں عیدالاضحیٰ سے قبل بکروں اور دیگر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران بہت سے چھوٹے فارمرز، بیوپاری اور جانور پالنے والے افراد بہتر وزن اور اچھی قیمت کے لیے جانوروں کو اچانک زیادہ مقدار میں اناج، ونڈا، گندم یا مکئی دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی جلد بازی بکروں میں اوجھڑی کی تیزابیت، اناج کی زیادتی اور شدید بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر اویس الرحمٰن سیال اور ڈاکٹر ارسلان نسیم بٹ کے مطابق بکرا جگالی کرنے والا جانور ہے۔ اس کی اوجھڑی میں موجود جرثومے بنیادی طور پر چارے اور ریشے والی خوراک کو ہضم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ جب بکرے کو اچانک زیادہ نشاستے والی خوراک دی جائے تو اوجھڑی کا قدرتی توازن خراب ہو جاتا ہے اور تیزابیت بڑھنے لگتی ہے۔

یہ کیفیت چند گھنٹوں میں خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جانور چارہ چھوڑ دیتا ہے، سست ہو جاتا ہے، ریوڑ سے الگ بیٹھنے لگتا ہے، اوجھڑی کی حرکت کم ہو جاتی ہے اور بدبودار پانی جیسا اسہال شروع ہو سکتا ہے۔ شدید صورت میں جانور بیٹھ جاتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے اور جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عید سے پہلے موٹا کرنے کے عمل میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ جانور کو آہستہ آہستہ نئی خوراک کا عادی نہیں بنایا جاتا۔ اوجھڑی کے جرثوموں کو چارے سے اناج والی خوراک پر منتقل ہونے کے لیے کم از کم دس سے چودہ دن درکار ہوتے ہیں۔ اگر پہلے ہی دن بھاری مقدار میں اناج دے دیا جائے تو یہ جانور کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ جانور کو پہلے چارہ دیا جائے اور پھر محدود مقدار میں ونڈا یا اناج شامل کیا جائے۔ خشک یا سبز چارہ خوراک کی بنیاد رہنا چاہیے، کیونکہ ریشہ چبانے، تھوک بنانے اور اوجھڑی کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صاف پانی ہر وقت دستیاب ہونا چاہیے اور جانور کو اچانک بھاری خوراک دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

عید کے لیے بکرے کو موٹا کرنے کا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ تیاری کا دورانیہ کم از کم ساٹھ سے نوے دن رکھا جائے۔ بیس یا پچیس دن میں تیزی سے وزن بڑھانے کی کوشش جانور کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر بکرے میں بھوک بند ہونا، پیٹ درد، اسہال، سستی یا بیٹھ جانے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کیا جائے۔

ماہرین کا واضح پیغام ہے کہ صحت مند بکرا ہی اچھی قیمت دیتا ہے۔ قربانی کے جانور کو موٹا کرنا محبت ہے، لیکن جلد بازی میں زیادہ اناج دینا محبت نہیں بلکہ خطرہ ہے۔ عیدالاضحیٰ سے قبل فارمرز اور بیوپاریوں کو چاہیے کہ وہ اوجھڑی کی حیاتیات کو سمجھیں، خوراک میں ریشہ برقرار رکھیں اور جانور کو بتدریج نئی خوراک کا عادی بنائیں۔

جواب دیں