پاکستان میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کا بڑھتا ہوا بحران

پاکستان اس وقت اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) کے ایک سنگین بحران سے گزر رہا ہے، جہاں عام انفیکشنز کا علاج مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک نئی رپورٹ، Global Antibiotic Resistance Partnership (GARP)–Pakistan Policy Brief کے مطابق، ملک بھر میں وہ بیماریاں جو پہلے معمول کی اینٹی بائیوٹکس سے ٹھیک ہو جاتی تھیں، اب خطرناک حد تک دواؤں کی مزاحمت دکھا رہی ہیں۔

پاکستان میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کا بڑھتا ہوا بحران

AMR کی وجہ سے سیپسیس، نمونیا، ٹائیفائیڈ، اور تپِ دق (TB) جیسے انفیکشن زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں، جس کا اثر خصوصاً غریب اور دور دراز علاقوں میں بسنے والی کمیونٹیز پر شدید پڑ رہا ہے جہاں صحت کے وسائل محدود ہیں۔

پالیسی بریف واضح کرتی ہے کہ ویکسینز اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے اور مزاحم جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ ویکسینز نہ صرف انفیکشن کے آغاز کو روک دیتی ہیں بلکہ وہ مجموعی بوجھ میں کمی لا کر صحت کے نظام کو مضبوط بناتی ہیں۔

پاکستان کے Expanded Program on Immunization (EPI) نے بچوں کی اموات میں نمایاں کمی پیدا کی ہے، مگر اب بھی کئی اہم خلا موجود ہیں۔ بچوں اور بڑوں دونوں کو قابلِ پیشگی تحفظ فراہم کرنے والی ویکسینز کی کمی خطرات بڑھا رہی ہے۔

GARP پاکستان میں AMR کے حل میں کیوں اہم ہے؟

GARP — جس کی قیادت One Health Trust کر رہا ہے اور جس کا پاکستان میں پارٹنر شفا انٹرنیشنل ہسپتال ہے — کئی سالوں سے افریقہ اور ایشیا میں AMR کے خلاف سائنسی، تحقیقی اور پالیسی اقدامات کی راہنمائی کرتا آرہا ہے۔ اس نئے پالیسی بریف کے ذریعے پاکستان کے لیے واضح، شواہد پر مبنی اور عملی حکمتِ عملی فراہم کی گئی ہے۔

GARP-Pakistan Policy Brief Launch – One Health Trust

GARP–Pakistan Policy Brief Launch — اسلام آباد، 28 نومبر 2025

GARP–Pakistan نے شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی اور One Health Trust کے تعاون سے 28 نومبر 2025 کو اسلام آباد کے Ramada by Wyndham ہوٹل میں نئی پالیسی بریف “پاکستان میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو کم کرنے میں ویکسینز کی قدر” کا باضابطہ اجرا کیا۔

تقریب میں ملک بھر سے AMR اور ویکسینیشن کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں متعدی بیماریوں اور AMR کا بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ ویکسینز — جو بیماری اور اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال دونوں کو کم کرتی ہیں — ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں ہو رہیں۔

یہ نئی پالیسی بریف GARP–Pakistan کے ازسرِنو فعال کیے گئے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ نے تیار کی ہے۔ اس کا مقصد ویکسینیشن کو پاکستان کی AMR پالیسیوں اور قومی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت دلانا ہے تاکہ بیماریوں کی روک تھام اور اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں واضح کمی لائی جا سکے۔

تقریب کے دوران GARP–Pakistan کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد خان نے اپنی تفصیلی پریزنٹیشن میں بریف کے بنیادی نکات پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹائیفائیڈ کنجوگیٹ ویکسین (TCV)، نیوموکوکل کنجوگیٹ ویکسین (PCV)، روٹا وائرس ویکسین اور مستقبل کی ٹی بی ویکسینز لاکھوں ایسے انفیکشنز کو روک سکتی ہیں جن کا علاج اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کے صحت عامہ کے نظام کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں کولڈ چین سسٹم کی بہتری، بالغ آبادی میں ویکسینیشن کی نہایت کم شرح، بالغوں کی ویکسینیشن کے لیے قومی پالیسی کا فقدان، اور شہریوں کے لیے ’’ڈیجیٹل لائف لانگ امیونائزیشن ریکارڈ‘‘ کی عدم دستیابی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، EPI پروگرام کو مضبوط بنانے سے دوا-مزاحم ٹائیفائیڈ سمیت متعدد بیماریوں کی مؤثر روک تھام ممکن ہے۔

تقریب میں ون ہیلتھ ٹرسٹ کی نمائندگی ریشیر اج بھاگوتی Rishiraj Bhagawati,، سمیرن مور، Simran More اور نمیتھا پربھو Namitha Prabhuنے آن لائن شرکت کے ذریعے کی۔ اپنے خطاب میں بھاگوتی نے بتایا کہ GARP اب عالمی سطح پر AMR کی روک تھام کے لیے ویکسینز کو بنیادی حکمت عملی کے طور پر اجاگر کر رہا ہے۔ پاکستان نے 2025 میں یوگنڈا، نیپال اور جنوبی افریقہ کی صف میں شامل ہو کر ان ممالک کا ساتھ دیا ہے جنہوں نے ویکسین پر مبنی AMR پالیسی بریف جاری کی۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور دیگر شراکت دار اداروں نے مشترکہ طور پر اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے قومی ترجیحات پر اتفاق کیا۔ ان ترجیحات میں عوام اور طبی پیشہ ور افراد میں آگاہی اور تعلیم میں اضافہ، تشخیص (Diagnostics) کی بہتری، اینٹی بائیوٹکس کے درست استعمال (Stewardship) کو مضبوط کرنا، کمیونٹی فارماسسٹس کا کردار بڑھانا، اور پانی، صفائی، حفظانِ صحت (WASH) اور ویکسینیشن پروگراموں کے مؤثر انضمام شامل ہیں۔ شرکاء کے مطابق یہ تمام اقدامات پاکستان میں AMR کے خلاف ایک جامع، مربوط اور مؤثر حکمت عملی کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہیں