یورپی یونین میں پودوں کی جینیاتی اصلاحات سے متعلق تاریخی معاہدہ — 2028 تک جدید اقسام کی راہ ہموار

رپورٹ: جیکی لنڈن | 5 دسمبر 2025
ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز خصوصی رپورٹ

یورپی یونین میں نئی جینیاتی تکنیکوں (New Genomic Techniques — NGTs) کے تحت تیار کردہ پودوں کی کاشت کے لیے ایک تاریخی سیاسی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد 2028 تک یورپی کسان جدید، پائیدار اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھنے والی فصلیں اگا سکیں گے۔

یہ معاہدہ یورپی پارلیمنٹ اور کونسل آف دی یورپی یونین کے درمیان طے پایا، جو یورپ میں زرعی جدت اور بائیو ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین میں نئی جینیاتی تکنیکوں (NGTs) کے تحت تیار ہونے والے پودوں کی کاشت کے لیے ایک اہم سیاسی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس سے 2028 تک یورپی کسان جدید اور زیادہ پائیدار فصلیں اگانے کے قابل ہوں گے۔
یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کونسل کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ زرعی جدت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں یورپ کے لیے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق، NGTs سے تیار کردہ فصلیں کم کھاد اور کم کیڑے مار ادویات کی ضرورت رکھتی ہیں، موسمیاتی تبدیلی کا بہتر مقابلہ کرتی ہیں اور پیداواری لاگت میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔
نئے قوانین کے تحت NGT پودوں کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں پہلی کیٹیگری کے پودے وہ ہوں گے جن کی جینیاتی تبدیلی قدرتی طور پر یا روایتی افزائش نسل سے بھی ممکن ہو اور انہیں GMO قوانین سے استثنا حاصل ہوگا، جبکہ دوسری کیٹیگری کے پودے موجودہ GMO قوانین کے تحت ہی ریگولیٹ کیے جائیں گے۔
یورپی کمیشن ان پودوں کے پیٹنٹ اور جینیاتی مواد تک رسائی کے نظام کی نگرانی بھی کرے گا۔ نیا قانون 2026 میں شائع ہوگا اور دو سال بعد نافذ ہونے کا امکان ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق، NGT سے تیار کردہ فصلوں کی معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات کی سخت نگرانی کی جائے گی، جن میں خاص طور پر حفاظت اور پائیداری پر توجہ دی جائے گی۔
کمیشن کی جانب سے ایک مثال کے طور پر بونے قد کی مکئی (dwarf corn) کا ذکر کیا گیا ہے، جو کم کھاد اور کم اسپرے میں بہتر پیداوار دے سکتی ہے۔ صارفین کے لیے بھی زیادہ محفوظ، غذائیت سے بھرپور اور کم کیمیکلز والی غذائیں دستیاب ہونے کے امکانات ہیں، جبکہ صنعتی شعبے کے لیے بایو ماس اور نئے خام مال کی تیاری کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ رواں سال یورپی یونین نے تین GMO مکئی اور ایک GMO سویا بین کو جانوروں کی خوراک میں استعمال کی اجازت دی ہے، تاہم ان کی کاشت پر پابندی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ یورپ کو امریکہ، چین، برازیل اور دیگر ممالک کی جدید زرعی پالیسیوں کے قریب لے آئے گا اور عالمی تجارت، بائیو اکانومی، اور پائیدار کاشتکاری کے شعبے میں نئی راہیں کھولے گا۔

:


🌱 GMO vs NGT — کیا فرق ہے؟

1️⃣ GMO (Genetically Modified Organism)
ایک پودے میں کسی اور جاندار (پودا، بیکٹیریا، وائرس) کا جین ڈالا جاتا ہے۔

مثال: مکئی میں بیکٹیریا کا جین ڈال کر کیڑوں سے بچانا۔

تبدیلی قدرتی نظام کے باہر سے آتی ہے۔

سخت ترین قوانین، خطرے کے ٹیسٹ، اور پابندیاں۔

➡️ GMO = کراس اسپیشیز جین کی منتقلی (Cross-species gene insertion)

2️⃣ NGT (New Genomic Techniques / Gene Editing)
قدرتی جین میں ہی درستگی کرنا

  • کوئی نیا جین باہر سے نہیں ڈالا جاتا۔
  • صرف پودے کے اندر موجود جین کو سیدھا، بہتر یا بند/چالو کیا جاتا ہے۔
  • CRISPR جیسے ٹولز سے ٹھیک وہی تبدیلی کی جاتی ہے جو قدرت بھی کر سکتی ہے۔
  • زیادہ محفوظ، سستا، اور انتہائی تیز عمل۔

➡️ NGT = پودے کے اپنے جین کی قدرتی جیسی درستگی (Precise gene editing)

سب سے بڑا فرق:

GMO = جین باہر سے آتا ہے

NGT = جین وہی رہتا ہے، بس بہتر ہو جاتا ہے

کاشتکار کے لیے فرق:

  • GMO → مہنگا، سخت نگرانی
  • NGT → سستا، کم کیمیکل، تیز ترقی