پاکستان میں اینیمل ہیلتھ، اکیڈیمیا، حکومت اور ریگولیٹری نظام کا نیا رشتہ

پاکستان میں اینیمل ہیلتھ اکیڈیمیا اور ریگولیٹری نظام کا نیا رشتہ

تحریر: ڈاکٹر مسعود صادق چوہدری (سینئر وائس چیئرمین، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن)

پاکستان کی لائیو اسٹاک اور پولٹری صنعت اب محض ایک روایتی زرعی شعبہ نہیں رہی بلکہ یہ ملک کی فوڈ سکیورٹی، دیہی معیشت، روزگار، پبلک ہیلتھ، فارماسیوٹیکل خود انحصاری، برآمدات اور غذائی تحفظ کے ساتھ براہ راست جڑ چکی ہے۔

مگر اس مقام پر ایک بنیادی سوال غور طلب ہے: کیا ہم اپنے تعلیمی اداروں، ریسرچ لیبز اور صنعتی وسائل کو حقیقی و قابل پیمائش نتائج میں بدل رہے ہیں؟ یا پھر ہماری انڈسٹری اکیڈیمیا پارٹنرشپ محض نمائشی ملاقاتوں، تصاویر، یادداشتی مفاہمت ناموں اور پریس ریلیزز تک ہی محدود ہے؟

اعلیٰ سطحی سیمینارز اور مفاہمتی یادداشتیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، مگر اصل پیش رفت اس وقت ہوتی ہے جب یہ واضح ہو کہ:

  • بنیادی مسئلہ کیا ہے اور اس پر فیلڈ تحقیق کون کرے گا؟
  • منصوبے کی فنڈنگ اور لیبارٹریز کون مہیا کرے گا؟
  • فیلڈ ڈیٹا کہاں سے اکٹھا ہوگا اور ریگولیٹر اسے کیسے استعمال کرے گا؟
  • نتائج کی ڈیڈ لائن کیا ہے اور پاکستان کے عام فارمر و ملکی معیشت کو اس کا کیا ٹھوس مالی و پیداواری فائدہ ہوگا؟

صلاحیتوں کا ارتکاز اور باہمی ربط کی کمی

پاکستان کی یونیورسٹیز میں ویٹرنری سائنسز، اینیمل نیوٹریشن، بائیوٹیکنالوجی، مائیکرو بائیولوجی اور فوڈ سائنس کی بہترین علمی صلاحیت موجود ہے۔ حکومت کے پاس پالیسی اور فریم ورک ہے، ریگولیٹرز کے پاس جانچ و منظوری کا اختیار ہے، اور پرائیویٹ سیکٹر کے پاس کمرشل فارمز، فیلڈ ڈیٹا اور صنعتی انفراسٹرکچر موجود ہے۔ اصل رکاوٹ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان سب کو جوڑنے والے ایک پائیدار فریم ورک کا فقدان ہے۔

پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن (PVPA) اس خلیج کو پاٹنے کے لیے پل کا کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ اینیمل ہیلتھ کی پالیسی کو ویٹرنری فارماسیوٹیکل انڈسٹری سے کاٹ کر موثر نہیں بنایا جا سکتا۔

تحقیق کا رخ: مفروضوں سے فیلڈ چیلنجز کی طرف

ریسرچ کا عنوان محض عمومی نعرہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا دائرہ کار بالکل واضح اور پیمائش کے قابل ہونا چاہیے، مثلاً:

  • اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) اور اینٹی مائیکروبیل اسٹیورڈ شپ
  • ویکسینز کی فیلڈ افادیت، ڈرگ ریزسٹنس اور دواؤں کی کوالٹی
  • فیڈ ایفیشنسی، ہیٹ اسٹریس، مائیکوٹاکسنز اور بائیوسیورٹی
  • بیماریوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور فارم پروڈکٹیوٹی

ہر ریسرچ پروجیکٹ کے لیے یونیورسٹی سے ایک پرنسپل ریسرچر اور انڈسٹری سے ایک تکنیکی کوآرڈینیٹر مقرر ہونا چاہیے تاکہ نتائج کے لیے واضح جوابدہی ہو۔ پاکستان کی کمرشل ہیچریز، فارمز، فیڈ ملز اور لیبز اصل فیلڈ ٹرائلز کے لیے تجربہ گاہیں بن سکتی ہیں۔ جدید اینیمل ہیلتھ محض مشاہدات پر نہیں بلکہ ڈیٹا پر انحصار کرتی ہے، جیسے اموات کی شرح، فیڈ کنورژن ریشو (FCR) اور ادویاتی باقیات کی جانچ۔

تحقیق کا حتمی پیمانہ فارم کی بہتری ہے

کسی بھی سائنسی مقالے کی کامیابی صرف لائبریری کی زینت بننا نہیں ہے۔ اگر تحقیق جانوروں کی اموات میں کمی، فیڈ کے خرچ میں بچت، فارمر کے منافع میں اضافہ اور انسانی خوراک کے تحفظ میں بہتری نہ لا سکے تو اس کے عملی وجود پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اس لیے ہر ریسرچ پروجیکٹ کے لیے چھ ماہ، بارہ ماہ اور چوبیس ماہ کے سخت اور قابل پیمائش اہداف طے ہونے چاہئیں۔

اینیمل ہیلتھ درحقیقت پبلک ہیلتھ اور عالمی ون ہیلتھ (One Health) مشن کا ناگزیر جزو ہے۔ بیماریوں کا پھیلاؤ یا دواؤں کا غیر ضروری استعمال صرف جانور تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ فارمر کے منافع، ملکی درآمدات، خوراک کی قیمت اور انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) کا تعمیری کردار

ریگولیٹری نظام کا کردار صرف این او سی، رجسٹریشن یا لائسنس کی تجدید تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک بالغ ریگولیٹری ماڈل میں ریگولیٹرز تحقیقی ترجیحات، فارماکوویجیلنس، اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کی نگرانی اور سائنسی رہنما اصولوں کی تیاری میں کلیدی شراکت دار ہوتے ہیں۔ جب اکیڈیمیا معتبر سائنسی شواہد لائے، انڈسٹری فیلڈ ٹرائلز کرے اور ریگولیٹر شفاف معیار متعین کرے تو پالیسی قابل عمل بنتی ہے۔

نیشنل اینیمل ہیلتھ ریسرچ اینڈ انوویشن پلیٹ فارم کی تجویز

پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں حکومت، ریگولیٹرز، اکیڈیمیا، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور فارمرز مل کر کام کریں۔ اس پلیٹ فارم کے بنیادی اہداف ہونے چاہئیں:

  • اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس پر قابو اور ادویات کا ذمہ دارانہ استعمال
  • امراض کی جلد تشخیص اور تشخیصی لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن
  • حیوانی غذائیت، فارم بائیوسیورٹی اور پیداواری صلاحیت کا تحفظ
  • ادویاتی معیار، مانیٹرنگ اور حیوانی مصنوعات میں ادویاتی باقیات کا کنٹرول
  • موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے مطابقت اور پائیدار افزائشِ مویشی

روایتی سوچ سے نکلنے کا وقت

اب وقت آ چکا ہے کہ ملکی اداروں، جامعات اور انجمنوں کی کارکردگی کا پیمانہ رسمی سرگرمیوں سے ہٹ کر عملی نتائج پر رکھا جائے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کتنے اصل مسائل حل ہوئے، کتنی تجاویز پر عمل درآمد ہوا، اور کتنی تحقیقات براہِ راست فارم پر کسان کی بہتری کا باعث بنیں۔

پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن (PVPA) اس قومی مقصد کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ سائنسی تحقیق، انڈسٹری کی فیلڈ طاقت اور حکومتی پالیسی کے اشتراک سے پاکستان کے لائیو اسٹاک اور پولٹری سیکٹر کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا جا سکے۔

جواب دیں