
وزیراعلیٰ پنجاب آفس کے حالیہ اعلامیے کے مطابق صوبے میں لائیوسٹاک کے شعبے میں غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے بھر میں 4 لاکھ مویشی تیار کیے گئے، جن سے دیہی فارمرز نے مجموعی طور پر اربوں روپے کا منافع کمایا۔
حکومتی اقدام لائیوسٹاک کارڈ کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت ہر فارمر کو فی جانور 27 ہزار روپے کا منافع حاصل ہوا۔ اس منصوبے سے خواتین کو بھی زبردست خودمختاری ملی ہے، اور دیہی خواتین فارمرز کی تعداد 90 سے بڑھ کر 1,107 ہو چکی ہے۔
عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے پنجاب میں بین الاقوامی معیار کے 8 ایف ایم ڈی کمپارٹمنٹ پہلے ہی نوٹیفائی ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 7 کمپارٹمنٹ رواں سال فعال کر دیے جائیں گے۔ ان اقدامات سے چین، یورپ اور امریکہ کو لائیوسٹاک کی برآمد کے لیے راستے مکمل طور پر کھل رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب سے جانوروں کی برآمدات میں 43 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس میں لائیو سٹاک کارڈ کے تحت برآمد کیے گئے 129,581 جانور بھی شامل ہیں۔
شہروں کے لحاظ سے برآمدات کی تفصیلات درج ذیل ہیں
- لاہور 20,000 مویشی
- بہاولپور 24,297 مویشی
- ملتان 27,000 مویشی
- سرگودھا 22,000 مویشی
- گوجرانوالہ اور گجرات 21,000 مویشی
- فیصل آباد 12,529 مویشی
- ساہیوال 2,661 مویشی
صوبے میں لائیوسٹاک کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 5 میٹ پراسیسنگ پلانٹس اور 5 جدید سلاٹر ہاؤسز تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ جدید میٹ پیکنگ ہاؤسز، کمرشل اسکیل فیڈ لاٹس اور کارپوریٹ فیڈ لاٹس کا قیام بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ حکومت پنجاب اس شعبے میں ویلیو ایڈیشن کی غرض سے 19 ارب روپے کی فنانسنگ سبسڈی فراہم کرے گی، جبکہ میٹ ویلیو چین کے اندر 65 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
پنجاب میں پہلی مرتبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر ایف ایم ڈی ویکسین کی مقامی تیاری کا جدید یونٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے، جس میں 28 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری شامل ہوگی۔ مارکیٹ کو ڈیجیٹل اور منظم بنانے کے لیے قائم کیے گئے لائیوسٹاک کنیکٹ سسٹم کے ذریعے اب تک 1,725 فیٹننگ فارمز، 20 ایکسپورٹ مذبح خانوں، 88 میٹ ایکسپورٹرز اور 34 میٹ ٹریڈرز کو باہمی طور پر جوڑا جا چکا ہے۔