وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن “ملاوٹ سے پاک، صحت مند پنجاب” کے تحت صوبے میں خوراک کے معیار، فوڈ سیفٹی اور عوامی صحت کے تحفظ کیلئے اقدامات میں تیزی لائی گئی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گوشت، دودھ اور دیگر خوراکی اشیاء کی نگرانی، معائنے اور انفورسمنٹ کے حوالے سے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی عاصم جاوید نے "ایک نیوز” کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اتھارٹی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل بیان کی۔
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ صوبے میں پرائیویٹ سلاٹرنگ کی مانیٹرنگ پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دی گئی ہے، تاکہ ایسے پوائنٹس کی نشاندہی اور روک تھام کی جاسکے جو اصولوں کے خلاف جانوروں کی ذبحی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر معیاری اور غیر قانونی سلاٹر پوائنٹس کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں اور جہاں بھی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں، وہاں فوری قانونی ایکشن لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں جدید اور معیاری سلاٹر ہاؤسز کے قیام کیلئے نئی جامع پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے، جس کا مقصد گوشت کی پروسیسنگ اور فراہمی کو سائنسی بنیادوں پر بہتر بنانا ہے۔ مزید برآں، ویٹرنری انسپکشن، صفائی کے معیار اور ٹریکنگ سسٹم کو مضبوط بنانے کیلئے بھی اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ مارکیٹ میں آنے والا گوشت صحت، صفائی اور فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے عین مطابق ہو۔
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا:
"صوبے میں خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوام کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے، اور ملاوٹ کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی۔”
مزید معلومات کیلئے:
🌐 www.pfa.gop.pk