تحریر: The Veterinary News & Views (خصوصی رپورٹ)
عالمی سطح پر تیزی سے پھیلنے والا H5N1 ایویئن اِنفلوئنزا اب صرف پرندوں تک محدود نہیں رہا۔ دودھ دینے والی گائیوں، فارمز، ڈیری چین اور انسانی صحت پر اس کے ممکنہ اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ کارنیل یونیورسٹی کی تازہ ترین تحقیق نے کچے دودھ اور کچے دودھ کے پنیر میں وائرس کی غیر معمولی پائیداری کو ثابت کر کے پوری ڈیری انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے — خاص طور پر اُن ممالک کے لیے جہاں خام دودھ، دیسی پنیر اور بغیر پاسچرائزیشن کے مصنوعات عام استعمال ہوتی ہیں۔
پاکستان جیسا ملک، جہاں دودھ کا 95 فیصد حصہ کچے دودھ کی صورت میں فروخت ہوتا ہے، غیر رسمی ڈیری چین میں صفائی کے معیار کمزور ہیں، اور چھوٹی سطح پر پنیر سازی عام ہے — H5N1 کا یہ خطرہ یہاں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
H5N1 کا نیا رُخ — دودھ دینے والے جانور بھی متاثر؟
H5N1 وائرس کی روایتی شناخت جنگلی پرندوں اور پولٹری سے جڑی تھی، مگر 2024–25 کے دوران یہ وائرس پہلی مرتبہ امریکہ میں دودھ دینے والی گائیوں میں پایا گیا۔ کارنیل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے سب سے پہلے بیمار گائیوں کے دودھ میں زندہ وائرس کی نشاندہی کی — جس کے بعد “خام دودھ” اور “خام دودھ سے بننے والی مصنوعات” دنیا بھر میں تشویش کا مرکز بن گئیں۔
کچے دودھ میں وائرس 8 ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے
کارنیل یونیورسٹی کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق H5N1 وائرس فریج کے عام درجہ حرارت (4°C) پر رکھے گئے دودھ میں 8 ہفتوں تک فعال حالت میں موجود رہتا ہے۔
یہ دریافت خود ڈیری انڈسٹری کے لیے چونکا دینے والی تھی کیونکہ یہ وائرس درجہ حرارت میں کمی کے باوجود اپنی ساخت برقرار رکھتا ہے۔
کچے دودھ کا پنیر — خطرہ دوگنا؟
“نیچر میڈیسن” میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق:
- pH 6.6 پر بنے پنیر میں وائرس 120 دن تک زندہ پایا گیا
- pH 5.8 پر بھی وائرس 120 دن تک موجود رہا
- pH 5.0 پر وائرس ختم ہو گیا، لیکن زیادہ تر پنیر اسی pH پر تیار نہیں ہوتا
- پنیر کی 60 دن کی روایتی FDA ایجنگ شرط وائرس کو ختم نہیں کر سکتی
ڈاکٹر ڈیگو ڈیل (Cornell University AHDC) کے مطابق:
“کچے دودھ کے پنیر میں H5N1 وائرس کی یہ پائیداری غیر معمولی ہے — یہ وہی پراڈکٹ ہے جس کے بارے میں عام تاثر ہے کہ لمبی ایجنگ سے بیماریوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے، مگر اس مطالعے نے اسے غلط ثابت کیا ہے۔”
پاکستان میں خطرات کی سطح – متوقع اثرات
پاکستان میں صورتحال کئی وجوہات کی بنا پر زیادہ حساس ہے:
1. 95٪ دودھ بغیر پاسچرائزیشن کے فروخت ہوتا ہے
پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں ڈیری فارمز سے گھر تک زیادہ تر دودھ “خام” حالت میں فراہم ہوتا ہے۔
2. مقامی دہی، لسی، پنیر اور کھویا اکثر بغیر حرارت کے بنتے ہیں
زیادہ تر دیسی ڈیری پراڈکٹس وہ جراثیمی درجۂ حرارت حاصل نہیں کرتیں جو عالمی معیار کے مطابق ضروری ہے۔
3. دودھ کی کولڈ چین تقریباً نہ ہونے کے برابر
گاؤں سے شہروں تک دودھ کی ترسیل میں درجہ حرارت اکثر 20–30°C تک رہتا ہے — وائرس کی پائیداری مزید بڑھ سکتی ہے۔
4. چھوٹے کسانوں کے لیے بائیو سکیورٹی کمزور
فارمز میں:
- مشترکہ پانی کے ٹب
- بغیر جراثیم کش صفائی
- پولٹری شیڈز کی نزدیکی
- بیمار جانوروں کا الگ نہ کیا جانا
وائرس ٹرانسمیشن کے بڑے عوامل بن سکتے ہیں۔
5. ہلکی علامات بھی نظرانداز ہو جاتی ہیں
گائیوں میں H5N1 کی علامات:
- دودھ کی کمی
- بھوک نہ لگنا
- بخار
- دودھ کا گاڑھا ہونا
- بیٹ میں تبدیلی
پاکستان میں اکثر یہ فلو، خوراک یا موسم کا اثر سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے — یہی اصل خطرہ ہے۔
پاکستان کے لیے سائنسی خط — یہ صرف پرندوں کی بیماری نہیں رہی
H5N1 کا گائیوں میں جانا، دودھ میں پائیدار ہونا، اور انسانی جانوروں کی مشترکہ خوراک میں موجود رہنا “One Health” کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
پاکستان میں جہاں دودھ کی ثقافت گاؤں سے گھر تک جڑی ہے — یہ وائرس ڈیری چین کے کسی بھی حصے میں داخل ہو کر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔
- Nature Medicine (2025) — Raw Milk & Cheese Stability Study, Cornell University
- Cornell University, Animal Health Diagnostic Center (2024–25) — H5N1 in Dairy Cattle Investigations
- U.S. FDA Briefing on HPAI H5N1 in Dairy Products (2025)
- USDA APHIS Situation Reports (2024–2025) — H5N1 Detection in Dairy Herds
- Associated Press (AP News), 2025 — Dairy Cow Infections & Raw Milk Risk
- Reuters Special Report, 2025 — Spread of H5N1 Across Mammals
- Journal of Dairy Science (2024) — Viral Stability in Unpasteurized Milk
- WHO Updates on Avian Influenza A(H5N1), 2025