ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں سورج مکھی کی نئی ہائبرڈ اقسام کی تعارفی تقریب

ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں سورج مکھی کی نئی ہائبرڈ اقسام کے تعارف کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سائنسدانوں، کاشتکاروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل زراعت (تحقیق) ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں خوردنی تیل کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور سورج مکھی کی جدید ورائٹیز ان ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے تحقیقاتی ٹیم کی محنت اور برسوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نئی اقسام نہ صرف زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ کسانوں کی آمدنی اور ملکی معیشت کے لیے بھی نئی امید ثابت ہوں گی۔

ماہرین کے مطابق نئی ہائبرڈ ورائٹیز روایتی اقسام کی نسبت زیادہ پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں اور مناسب زرعی مینجمنٹ کی صورت میں کاشتکار بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ زرعی سائنسدانوں نے بتایا کہ اس فصل کے لیے موزوں زمین، صحیح مقدار میں کھادوں کا استعمال، وقت پر آبپاشی، جڑی بوٹیوں کا مؤثر کنٹرول اور پرندوں سے بچاؤ جیسے عوامل پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ان اقسام کا آئل کنٹینٹ اعلیٰ معیار کا ہے اور انسانی صحت کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے، جبکہ گھر کی سطح پر بھی صاف تیل حاصل کرنا ممکن ہے۔

تقریب میں حکومتی پالیسی پر بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور نئی ہائبرڈز کو جلد نجی سیڈ کمپنیوں کے حوالے کیا جائے گا تاکہ بڑے پیمانے پر بیج کی پیداوار اور اس کی مارکیٹنگ بہتر انداز میں ممکن ہوسکے۔ آئل سیکٹر اور ایف سی اے کی جانب سے مقامی سن فلاور آئل کی خریداری میں دلچسپی کو کسانوں کے لئے نہایت حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا گیا، جس سے آئندہ برسوں میں مارکیٹنگ کے مسائل کم ہونے کی امید ہے۔

تقریب کے آخر میں شرکاء نے فیلڈ وزٹ کے دوران نئی ورائٹیز کے مختلف مراحل، ان کی بڑھوتری اور عملی طریقۂ کاشت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر مرحوم محمد یٰسین رندھاوا کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعاے مغفرت بھی کی گئی۔

مجموعی طور پر تقریب ایک امید افزا ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور شریک افراد نے توقع ظاہر کی کہ اگر تحقیق اور نجی شعبے کا تعاون اسی طرح جاری رہا تو پاکستان میں تیلدار اجناس کی پیداوار ایک نئے دور میں داخل ہوسکے گی۔

شرکائے تقریب

تقریب میں شریک افراد میں رانا محمد خان (جنرل سیکرٹری و فارمر)، ڈاکٹر خالد محمود شوق (نمائندہ نیوز اینڈ ویوز)، محمد عاطف نسیم، رانا منیر احمد (فارمر)، خالد احمد (فارمر)، محمد سعد حسین (فارمر)، محمد احمد سلیم (اسسٹنٹ پروڈکشن آفیسر، گرین گولڈ ایگری سیڈز)، محمد عثمان مسعود (پروڈکشن آفیسر، گرین گولڈ ایگری سیڈز)، ڈاکٹر سنبل شہزاد (سینئر سائنٹسٹ ORI فیصل آباد)، ڈاکٹر مریم حسن (سائنٹیفک آفیسر ORI)، ڈاکٹر رضوانہ اسلم (سائنٹیفک آفیسر ORI)، اقرا امجد (سائنٹیفک آفیسر ORI)، کفیہ صدیق (سائنٹیفک آفیسر ORI)، موویز غوری (سائنٹیفک آفیسر ORI)، مصباح ذوالفقار (سینئر سائنٹسٹ ORI)، مصباح خالد (سائنٹیفک آفیسر ORI)، عتیق الرحمن (فارمر، ستیاں)، عثمان جاوید (EADA ایکسٹینشن چک جھمرہ)، محمد احتشام اللہ (سائنٹیفک آفیسر آئل سیڈ ریسرچ)، ڈاکٹر محمد رضوان بشیر (سائنٹیفک آفیسر آئل سیڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ)، احسن منصور (ڈویلپمنٹ آفیسر گرین گولڈ ایگری سیڈز)، حسن عتیق (فارمر)، ڈاکٹر مظفر رضا (سائنٹیفک آفیسر آئل سیڈز)، ڈاکٹر کاشف حنیف (ڈی سی آفس)، محمد الطاف (سینئر سائنٹسٹ ORI)، نوریـن فاطمہ (سائنٹیفک آفیسر ORI)، ڈاکٹر سنبل رائے (پرنسپل سائنٹسٹ ORI)، ڈاکٹر حماد زبیر (پرنسپل سائنٹسٹ ORI) اور ڈاکٹر اعجازالحسن (سینئر سائنٹسٹ ORI) شامل تھے۔