اسلام آباد:
پاکستان کی مچھلی اور سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہیں اور مالی سال 2024–25 کے دوران ان کا حجم 500 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو پاکستان کی مجموعی قومی برآمدات 32.04 ارب ڈالر کا 1.34 فیصد بنتا ہے۔
یہ بات ماہی گیری شعبے کے سینئر حکام نے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چودھری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔
وفاقی وزیر نے ماہی گیری کے شعبے کی معاشی اہمیت اور اس میں موجود وسیع امکانات کو تسلیم کرتے ہوئے فوری اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی، کم لاگت والے ان پٹ عوامل اور جدید انفراسٹرکچر کی دستیابی برآمدات میں اضافے اور پائیدار آمدنی کے لیے ناگزیر ہیں۔
بریفنگ کے دوران اسسٹنٹ فشریز کمشنر فرحان خان نے اجلاس کے شرکاء کو ماہی گیری کے شعبے کو درپیش ڈھانچہ جاتی خامیوں اور آپریشنل چیلنجز سے آگاہ کیا، جن میں بجلی کی قلت، توانائی کی بلند قیمتیں اور ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ کی محدود سہولیات شامل ہیں۔
جنید انور چودھری نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر بجلی کی مسلسل قلت اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی، کیونکہ یہ عوامل پیداوار میں رکاوٹ اور پاکستانی سی فوڈ برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلا تعطل بجلی، سستی خوراک (فیڈ) اور توانائی کی مؤثر پیداوار کے بغیر ماہی گیری کو مکمل صنعت کے طور پر فروغ دینا ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس مچھلی، جھینگے، کیکڑے، لابسٹر، اسکویڈ، کٹل فش اور بائی ویلز سمیت وافر خام مال موجود ہے، جسے ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ کے ذریعے زیادہ زرمبادلہ کمانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی سی فوڈ چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی ایشیا، امریکہ اور یورپی یونین سمیت 40 سے زائد عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جاتا ہے۔ مقدار کے لحاظ سے ماہی گیری زرعی برآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے، تاہم علاقائی مسابقت اور قیمتوں کے دباؤ کے باعث آمدنی میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں 100 سے زائد فش پروسیسنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن میں چھوٹے یونٹس سے لے کر بڑے تجارتی ادارے شامل ہیں، اور یہ تقریباً 400 رجسٹرڈ برآمد کنندگان کی معاونت سے چل رہے ہیں۔ زیادہ تر سہولیات کراچی میں قائم ہیں، جبکہ بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور خیبر پختونخوا اور پنجاب اس شعبے کی ترقی میں نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔
اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق، مچھلی اور مچھلی سے تیار کردہ مصنوعات پاکستان کی اہم برآمدی اشیاء میں دسویں نمبر پر ہیں۔ اس شعبے نے پھلوں، سبزیوں، ادویات (فارماسیوٹیکل)، کھیلوں کے سامان اور جراحی آلات کی برآمدات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
عالمی سطح پر مچھلی اور مچھلی سے تیار کردہ مصنوعات تجارت کی جانے والی خوراک کی سب سے بڑی اشیاء میں شامل ہیں، جو تقریباً 230 ممالک تک پہنچتی ہیں۔ سال 2022 میں عالمی سی فوڈ تجارت کی مالیت 195 ارب ڈالر رہی، جبکہ دنیا میں مچھلی کے استعمال کی اوسط فی کس مقدار 20.7 کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 1 فیصد اور زرعی شعبے میں 4 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ یہ شعبہ 10 لاکھ سے زائد افراد کو براہِ راست اور تقریباً 15 لاکھ افراد کو بالواسطہ روزگار فراہم کر رہا ہے۔ مالی سال 2024–25 کے دوران تقریباً 3 لاکھ ٹن مچھلی اور متعلقہ مصنوعات پروسیس کی گئیں، جن میں سے 30 فیصد انسانی خوراک کے طور پر برآمد کی گئیں، 40 فیصد کو پولٹری، ڈیری اور ایکوا کلچر کے لیے فش میل میں تبدیل کیا گیا جبکہ باقی مقدار مقامی سطح پر استعمال ہوئی۔