
حکومتی اداروں کو الرٹ جاری
اسلام آباد (06 جنوری 2026):
حکومتِ پاکستان کی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (FMD) کے حوالے سے ایک اہم ڈیزیز الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز کی خطرناک قسم SAT-1 کے پاکستان میں مغربی سرحدوں کے ذریعے داخل ہونے کا سنگین خدشہ موجود ہے۔
وزارت کے مطابق، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے 4 دسمبر 2025 کو ایک ریپڈ رسک اسیسمنٹ (RRA) رپورٹ جاری کی تھی، جس میں شمالی افریقہ، وسطی و جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی یورپ میں FMD وائرس کی قسم SAT-1 کے ممکنہ پھیلاؤ اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
FAO رپورٹ: پاکستان بھی خطرے سے دوچار ممالک میں شامل
FAO کی رپورٹ کے مطابق وہ ممالک اور خطے جو SAT-1 سے متاثرہ علاقوں کے قریب واقع ہیں، زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ ان میں افغانستان، آرمینیا، بلغاریہ، قبرص، جارجیا، یونان، اسرائیل، اردن، لبنان، لیبیا، عمان، پاکستان، روسی فیڈریشن، سعودی عرب، شام، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات، مغربی کنارۂ غزہ، غزہ پٹی اور یمن شامل ہیں۔ رپورٹ کی مکمل تفصیل FAO کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
SAT-1 کیا ہے اور کیوں خطرناک؟
رپورٹ کے مطابق فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو کھُر والے جانوروں، جن میں گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور سور شامل ہیں، کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری وائرس کی سات مختلف اقسام سے پھیلتی ہے، جن میں SAT-1 بھی شامل ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ FMD میں مدافعت سیروٹائپ مخصوص ہوتی ہے، یعنی ایک قسم کے خلاف ویکسین یا قدرتی انفیکشن دوسری قسم کے خلاف تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
پاکستان میں موجودہ صورتحال
پاکستان اس وقت FMD کی اقسام A، O اور Asia-1 کے حوالے سے مقامی طور پر متاثرہ (Endemic) ملک ہے، تاہم SAT-1 پاکستان میں موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر SAT-1 کسی ایسے جانور میں داخل ہوا جو اس کے خلاف مدافعت نہیں رکھتا، تو اس کے نتیجے میں:
- مویشیوں کی پیداوار میں شدید کمی
- کسانوں کے روزگار کو نقصان
- غذائی تحفظ کو خطرات
- بین الاقوامی تجارت پر ممکنہ پابندیاں
جیسے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
وائرس کے پھیلاؤ کے ذرائع
FAO کے مطابق SAT-1 وائرس زیادہ تر سانس اور منہ کے راستے منتقل ہوتا ہے اور متاثرہ جانوروں کے رطوبات اور فضلات میں خارج ہوتا ہے۔ جانوروں کی نقل و حرکت، آلودہ کپڑے، آلات، گاڑیاں اور جانوروں سے حاصل شدہ مصنوعات اس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ وائرس ماحول میں کافی عرصے تک زندہ رہنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس سے اس پر قابو پانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
خطے میں حالیہ پیش رفت
رپورٹ کے مطابق مارچ 2025 میں عراق میں پہلی بار SAT-1 کی تصدیق کے بعد یہ وائرس کویت، ترکی، مصر، آذربائیجان اور ایران میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے، جبکہ بعض ممالک میں اس کی غیر سرکاری اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ قسم مشرقی افریقہ سے تعلق رکھتی ہے اور خطے میں استعمال ہونے والی عام FMD ویکسینز اس کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔
FAO نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تین ماہ (فروری 2026 کے اوائل تک) SAT-1 کے مزید پھیلاؤ کا امکان انتہائی زیادہ (Very Likely) ہے، جس کے نتیجے میں مویشیوں پر انحصار کرنے والے ممالک میں شدید سماجی و معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے خطرے کی سطح
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو SAT-1 کے پھیلاؤ کے حوالے سے “ممکنہ خطرے والا ملک” (Likely Country) قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہاں:
- FMD کے لیے حساس مویشیوں کی بڑی تعداد موجود ہے
- SAT-1 کے خلاف ویکسینیشن نہیں کی جاتی
- مختلف FMD اقسام پہلے سے گردش میں ہیں
- غیر رسمی مویشی نقل و حرکت عام ہے
- نگرانی اور رپورٹنگ کے نظام میں کمزوریاں موجود ہیں
حکومتی ہدایات اور سفارشات
حکام کے مطابق SAT-1 کے ممکنہ داخلے کو روکنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں:
- صوبائی لائیوسٹاک محکمے، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، سرحدی اضلاع میں نگرانی اور ٹیسٹنگ کا نظام مزید مؤثر بنائیں۔
- وفاقی حکومت اور وزارتِ داخلہ بارڈر سکیورٹی فورسز کو غیر قانونی مویشی نقل و حرکت روکنے کی ہدایات دیں۔
- جانوروں اور جانوروں سے حاصل شدہ مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی راہداری سے گریز کیا جائے۔
- صوبائی سطح پر ہنگامی منصوبہ بندی (Contingency Plans) تیار کی جائے، جس میں متاثرہ کسانوں کے لیے معاوضہ فنڈز بھی شامل ہوں۔
- داخلی راستوں پر چیک پوسٹس اور بائیو سکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنایا جائے۔
- فیلڈ ویٹرنری اور پیرا ویٹرنری اسٹاف کو الرٹ، تربیت اور حساس بنایا جائے تاکہ مشتبہ کیسز کی بروقت رپورٹنگ ممکن ہو۔
- نیشنل ویٹرنری لیبارٹری FAO کے ساتھ رابطہ کر کے SAT-1 کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی یقینی بنائے۔
- اینیمل قرنطینہ ڈیپارٹمنٹ درآمدات کی سخت نگرانی کرے اور مشتبہ کھیپوں پر ٹیسٹنگ پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی بنائے۔