سردیوں میں جانوروں کے باڑوں میں امونیا گیس: خاموش خطرہ اور مؤثر احتیاطی تدابیر

سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ گھریلو سطح پر پالے جانے والے جانور، چاہے وہ بھیڑ بکریاں ہوں یا گائے بھینس، عموماً سردی سے بچاؤ کے لیے بند کمروں یا شیڈز میں رکھے جاتے ہیں۔ سردیوں میں جانوروں کو پروٹین سے بھرپور چارہ، ونڈا اور خشک راشن زیادہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ کمزور نہ ہوں اور دودھ کی پیداوار متاثر نہ ہو، جو بظاہر ایک مثبت عمل ہے۔

تاہم، اس کے ساتھ ایک خاموش مگر خطرناک مسئلہ بھی جنم لیتا ہے۔ جانوروں کے جسم میں پروٹین کے ہضم ہونے سے امونیا بنتی ہے، جو ایک زہریلی گیس ہے۔ جگر امونیا کو یوریا میں تبدیل کر دیتا ہے جو پیشاب کے ذریعے خارج ہوتی ہے، مگر یہی یوریا دوبارہ امونیا گیس میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح گوبر سے میتھین گیس بھی خارج ہوتی ہے، جو انسانی اور حیوانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

امونیا گیس کی تیز اور چبھتی ہوئی بو آنکھوں، ناک اور سانس کی نالی میں جلن پیدا کرتی ہے اور جانوروں میں کھانسی، سانس کی تکلیف اور آنکھوں کی سوزش کا باعث بنتی ہے۔ یہ گیس سانس کی نالی میں نہ نظر آنے والے زخم پیدا کرتی ہے، جن سے فائدہ اٹھا کر بیماری پیدا کرنے والے جراثیم حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں نمونیا جانوروں کی سب سے خطرناک بیماری بن جاتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امونیا گیس ہے۔

باڑوں یا شیڈز میں فاسد گیسوں کی موجودگی کے باعث سانس کی بیماریاں، آنکھوں سے پانی آنا، ویکسین اور دوائیوں کا کم اثر ہونا، قوتِ مدافعت میں کمی، دودھ اور وزن میں واضح کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر:

  • جانوروں کے باڑے میں صفائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ پیشاب کی بدبو پیدا نہ ہو۔
  • دن کے وقت شیڈ کے پردے کھول کر جگہ کو خشک کیا جائے، ضرورت پڑنے پر ریت کا استعمال کیا جائے۔
  • مکمل بند کمروں میں جانور باندھنے سے گریز کریں، یا چھت کے قریب روشن دان اور سوراخ بنائیں تاکہ گیسوں کا اخراج ہو سکے۔
  • جانوروں کو براہِ راست ٹھنڈی ہوا نہ لگے، پردے زمین تک ہوں مگر چھت کے قریب ہوا کی نکاسی ممکن ہو۔
  • شام یا رات کے وقت خشک راشن دیں اور سبز چارہ محدود رکھیں تاکہ پیشاب کی مقدار کم ہو۔
  • بھوکے جانور کو سردی زیادہ لگتی ہے، خاص طور پر بچوں کو رات کے وقت ونڈا ضرور دیں۔
  • جانوروں کو ٹھنڈا پانی ہرگز نہ پلائیں۔
  • رات کے آخری پہر یا صبح سویرے باڑے کا معائنہ ضرور کریں، اگر آنکھوں میں جلن یا گھٹن محسوس ہو تو فوری انتظام کریں۔

یاد رکھیں، گائے اور بھینس کے پھیپھڑے ان کے جسمانی وزن کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں، اسی لیے ان میں سانس کی بیماریاں زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی لاپرواہیاں جانور کو کمزور اور بیماریوں کے مقابلے میں بے بس بنا دیتی ہیں۔

تحریر: عائشہ زہور (Ayesha Zahoor)