
جوار کا چارہ مویشیوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ جانوروں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم جوار کے چارے پر شوٹ فلائی یا تنے کی مکھی کا حملہ ایک انتہائی نقصان دہ مسئلہ ہے جو فصل کی ابتدائی بڑھوتری کو شدید متاثر کرتا ہے اور چارے کی پیداوار میں بھاری کمی کا باعث بنتا ہے۔ اس نقصان دہ کیڑے کے حملے کی ابتدا، نشانیاں اور مکمل تدارک کو سمجھ کر کاشتکار بھائی اپنی فصل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
حملے کی ابتدا اور علامات
جوار پر شوٹ فلائی کے حملے کا آغاز فصل کے اگنے کے فوراً بعد ہوتا ہے۔ مادہ مکھی جوار کے چھوٹے پودوں، جو عام طور پر 5 سے 20 دن کے ہوتے ہیں، ان کے پتوں کی نچلی سطح پر اکیلے اکیلے سفید رنگ کے انڈے دیتی ہے۔ ان انڈوں سے 2 سے 3 دن کے اندر چھوٹی سنڈیاں نکلتی ہیں جو پتے سے رینگتی ہوئی تنے کے اندر یعنی مرکزی شاخ یا گابھے میں داخل ہو جاتی ہیں۔
تنے کے اندر داخل ہو کر یہ سنڈی پودے کے بڑھنے والے مرکزی حصے کو کاٹ کر کھانا شروع کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں پودے کا مرکزی پتا یا گابھا سوکھ جاتا ہے، جسے زرعی اصطلاح میں ڈیڈ ہارٹ کہا جاتا ہے۔ اس سوکھے ہوئے گابھے کو اگر اوپر کھینچا جائے تو یہ آسانی سے باہر آ جاتا ہے اور اس سے شدید سڑاند کی بدبو آتی ہے۔
شوٹ فلائی کا زراعتی تدارک
شوٹ فلائی کے مؤثر کنٹرول کے لیے زراعتی طریقے اپنانا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ کاشتکار بھائی درج ذیل تدابیر پر عمل کر کے فصل کو محفوظ بنا سکتے ہیں
- سب سے پہلا قدم وقت پر کاشت ہے کیونکہ جوار کی اگیتی کاشت یعنی مارچ اور اپریل کے اوائل میں کرنے سے فصل شوٹ فلائی کے شدید حملے کے دورانیے سے محفوظ رہتی ہے، جبکہ دیر سے کاشت کی گئی فصل پر اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔
- کاشت کے وقت شرح بیج کو عام سفارشات سے تھوڑا زیادہ رکھنا چاہیے تاکہ اگر کچھ پودے متاثر بھی ہوں تو کھیت میں پودوں کی مطلوبہ تعداد پوری رہے اور بعد میں متاثرہ پودوں کو نکالا جا سکے۔
- چھدرائی کے دوران ایسے پودے جن کا گابھا سوکھ چکا ہو، انہیں جڑ سے اکھاڑ کر کھیت سے دور دبا دینا چاہیے یا جلا دینا چاہیے تاکہ مکھی کی اگلی نسل پیدا نہ ہو سکے۔
شوٹ فلائی کا کیمیائی تدارک
کیمیائی کنٹرول کے لیے سب سے بہترین اور پیشگی طریقہ بیج کو زہر لگانا ہے۔ کاشت سے پہلے جوار کے بیج کو کسی اچھے نظامی کیڑے مار زہر جیسے امیڈاکلوپرڈ یا تھایامیتھاکسم سے ضرور ٹریٹ کریں، کیونکہ یہ طریقہ فصل کو پہلے 3 ہفتوں تک حملے سے محفوظ رکھتا ہے۔
اگر کاشت کے وقت بیج کو زہر نہ لگایا گیا ہو اور اگاؤ کے بعد حملہ نظر آئے، تو پودوں کے گابھے میں فیپرونل یا کاربوفیوران دانے دار زہر ڈال کر ہلکا پانی لگا دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ ابتدائی مرحلے پر جب مکھیاں اڑتی نظر آئیں یا پتوں پر انڈے دکھائی دیں، تو فلیمیبرینڈ، کلورینٹرانیلی پرول یا بائی فینتھرین کا اسپرے پودوں کے گابھے کا رخ کر کے کریں تاکہ زہر تنے کے اندر تک پہنچ سکے۔
زرعی ماہرین کی اہم ہدایت یہ ہے کہ چارے کی فصل پر اسپرے کرنے کے بعد زہر کے اثرات ختم ہونے تک، جو کہ کم از کم 15 سے 20 دن کا وقت ہے، چارہ جانوروں کو ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے ورنہ یہ جانوروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اہم نوٹ یاد رکھیں کہ یہ تحریر مختلف مستند ذرائع اور فیلڈ مشاہدات کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ ہر علاقے کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ مقامی زرعی ماہر کے مشورے سے کریں۔