
تحریر ڈاکٹر الطاف گوہر
چیف ایگزیکٹو آفیسر، Meyaree International Pakistan
تعارف
پولٹری فارمنگ کی کامیابی صرف اچھی نسل، معیاری فیڈ اور مؤثر ویکسینیشن پر منحصر نہیں ہوتی۔ پرندوں کو متوازن غذائیت فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ متوازن غذائیت میں وٹامنز ایک بنیادی جزو ہیں۔
وٹامنز کی ضرورت فیڈ میں بہت کم مقدار میں ہوتی ہے، لیکن پرندوں کی صحت اور پیداوار میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ کسی ایک ضروری وٹامن کی کمی بھی نشوونما، قوت مدافعت، افزائش نسل، انڈوں کی پیداوار، ہڈیوں کی مضبوطی اور مجموعی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
وٹامنز جسم میں توانائی کے استعمال، خلیات کی مرمت، ہڈیوں کی تشکیل، جلد اور پروں کی صحت، خون جمنے، اعصابی نظام اور مدافعتی نظام کو فعال رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
وٹامنز کیا ہیں
وٹامنز نامیاتی غذائی اجزاء ہیں جو جسم کو معمول کے حیاتیاتی افعال جاری رکھنے کے لیے بہت کم مقدار میں درکار ہوتے ہیں۔
وٹامنز خود توانائی پیدا نہیں کرتے، لیکن یہ جسم کو پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی سے توانائی حاصل کرنے اور اسے استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں جسم کے خاموش معاونین بھی کہا جاتا ہے۔
پولٹری میں وٹامنز کے بنیادی فوائد
- وٹامنز پرندوں کی جسمانی نشوونما بہتر بناتے ہیں۔
- یہ مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
- پرندوں کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت بہتر ہوتی ہے۔
- ہڈیوں اور ٹانگوں کی مناسب تشکیل میں مدد ملتی ہے۔
- لیئر مرغیوں میں بہتر معیار کے انڈے اور مضبوط شیل بنتے ہیں۔
- بریڈر مرغیوں کی فرٹیلیٹی اور ہیچ ایبلٹی بہتر ہوتی ہے۔
- اعصابی نظام کو درست انداز میں کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- فیڈ میں موجود غذائی اجزاء کا مؤثر استعمال ممکن ہوتا ہے۔
- بہتر فیڈ کنورژن ریشو حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- پیداواری نقصانات اور شرح اموات کو کم کرنے میں معاونت ملتی ہے۔
پولٹری میں وٹامنز کی بنیادی اقسام
پولٹری میں استعمال ہونے والے وٹامنز کو دو بنیادی گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز
اس گروپ میں وٹامن اے، وٹامن ڈی تھری، وٹامن ای اور وٹامن کے شامل ہیں۔
یہ وٹامنز جسم میں ذخیرہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کی کمی کے ساتھ غیر ضروری زیادتی سے بچنا بھی ضروری ہے۔
پانی میں حل ہونے والے وٹامنز
اس گروپ میں وٹامن سی اور بی کمپلیکس وٹامنز شامل ہیں۔
یہ وٹامنز عام طور پر جسم میں زیادہ مقدار میں ذخیرہ نہیں ہوتے، اس لیے خوراک یا مناسب سپلیمنٹ کے ذریعے ان کی مسلسل فراہمی ضروری ہو سکتی ہے۔
وٹامن اے
وٹامن اے پرندوں کی جلد، آنکھوں، سانس کی نالی، نظام ہاضمہ اور تولیدی نظام کی اندرونی جھلیوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ حفاظتی جھلیاں جراثیم کے جسم میں داخلے کے خلاف پہلی رکاوٹ کا کام کرتی ہیں۔ وٹامن اے چوزوں کی ابتدائی نشوونما، قوت مدافعت اور بریڈر مرغیوں کی تولیدی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔
وٹامن اے کی کمی کی علامات
- جسمانی بڑھوتری کا متاثر ہونا
- آنکھوں میں خشکی یا کمزوری
- سانس کی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ
- انڈوں کی پیداوار میں کمی
- فرٹیلیٹی اور ہیچ ایبلٹی کا متاثر ہونا
- شدید صورت میں شرح اموات میں اضافہ
وٹامن ڈی تھری
وٹامن ڈی تھری کو ہڈیوں کی صحت کا اہم محافظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ آنتوں سے کیلشیم اور فاسفورس کے جذب میں مدد دیتا ہے۔
چوزوں میں مضبوط اور سیدھی ہڈیوں کی تشکیل جبکہ لیئر مرغیوں میں مضبوط انڈے کے شیل کے لیے وٹامن ڈی تھری کی مناسب مقدار ضروری ہے۔
وٹامن ڈی تھری کی کمی کی علامات
- ہڈیوں کا نرم یا کمزور ہونا
- چوزوں کی ٹانگوں میں کمزوری
- رکٹس
- انڈوں کے شیل کا پتلا ہونا
- انڈوں کے ٹوٹنے کی شرح میں اضافہ
- نشوونما اور پیداوار میں کمی
وٹامن ای
وٹامن ای ایک اہم اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔ یہ جسمانی خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ مدافعتی نظام، عضلات، اعصابی صحت اور تولیدی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ مناسب غذائی انتظام کے تحت وٹامن ای ویکسینیشن کے بعد بہتر مدافعتی ردعمل پیدا کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
وٹامن کے
وٹامن کے خون جمنے کے قدرتی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کی صورت میں معمولی زخم سے بھی زیادہ دیر تک خون بہنے یا اندرونی خون ریزی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وٹامن کے کی کمی کی علامات
- خون کا دیر سے جمنا
- زخم سے زیادہ خون بہنا
- اندرونی خون ریزی
- کمزوری اور شرح اموات میں اضافہ
بی کمپلیکس وٹامنز
بی کمپلیکس وٹامنز میں تھایامین، رائبوفلیون، نایاسین، پینٹوتھینک ایسڈ، پائریڈوکسین، بایوٹن، فولک ایسڈ اور کوبالامن شامل ہیں۔
یہ وٹامنز جسم کے متعدد میٹابولک عملوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کی مناسب مقدار خوراک سے توانائی حاصل کرنے، پروٹین کے استعمال، اعصابی نظام، خون کے خلیات کی تشکیل، جلد، پروں اور جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
بی کمپلیکس وٹامنز کی کمی سے نشوونما میں کمی، اعصابی مسائل، ٹانگوں کی کمزوری، پروں کی خراب حالت اور فیڈ کے ناقص استعمال جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
وٹامن سی اور ہیٹ اسٹریس
مرغیاں اپنے جسم میں وٹامن سی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے عام حالات میں اس کی مستقل غذائی ضرورت محدود ہو سکتی ہے۔
تاہم شدید گرمی، ٹرانسپورٹ، ویکسینیشن، بیماری، پانی کی کمی، زیادہ پیداواری دباؤ یا ماحول میں اچانک تبدیلی کے دوران اضافی وٹامن سی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
اضافی وٹامن سی کے ممکنہ فوائد
- ہیٹ اسٹریس کے اثرات کم کرنے میں مدد
- آکسیڈیٹو تناؤ میں کمی
- مدافعتی نظام کی معاونت
- پانی کی کمی کے اثرات محدود کرنا
- بیماری یا دباؤ کے بعد بحالی میں مدد
اضافی وٹامن سی کی مقدار پرندوں کی حالت، موسم اور فارم کے انتظامی حالات کے مطابق ویٹرنری یا غذائی ماہر کے مشورے سے طے کی جانی چاہیے۔
وٹامنز کی کمی سے فارم کو ہونے والے معاشی نقصانات
وٹامنز کی کمی صرف پرندوں کی صحت کو متاثر نہیں کرتی بلکہ فارم کے منافع پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
اہم معاشی نقصانات میں کم جسمانی وزن، خراب فیڈ کنورژن ریشو، انڈوں کی کم پیداوار، کمزور انڈے کے شیل، فرٹیلیٹی اور ہیچ ایبلٹی میں کمی، شرح اموات میں اضافہ اور علاج کے اخراجات شامل ہیں۔
ان مسائل کے باعث فیڈ پر ہونے والا خرچ بڑھتا ہے جبکہ فارم سے حاصل ہونے والی پیداوار اور آمدن کم ہو جاتی ہے۔
وٹامن پری مکس کیوں ضروری ہے
جدید پولٹری فارمنگ میں معیاری وٹامن پری مکس کا استعمال متوازن فیڈ پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
پری مکس کا مقصد ضروری وٹامنز کو ایسی مقدار میں فراہم کرنا ہے جو پرندوں کی عمر، نسل، پیداواری مرحلے اور فارم کے حالات کے مطابق ہو۔
غیر معیاری، غلط مقدار یا نامناسب طریقے سے محفوظ کیے گئے پری مکس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ نمی، گرمی، روشنی اور طویل ذخیرہ بعض وٹامنز کی افادیت کو کم کر سکتا ہے۔
کامیاب پولٹری فارمنگ کے لیے سفارشات
- ہمیشہ متوازن اور معیاری فیڈ استعمال کی جائے۔
- وٹامن پری مکس مستند اور قابل اعتماد کمپنی سے حاصل کیا جائے۔
- فیڈ اور پری مکس کو گرمی، نمی اور براہ راست دھوپ سے محفوظ رکھا جائے۔
- شدید گرمی میں وٹامن سی اور الیکٹرولائٹس کے استعمال پر ماہر کی نگرانی میں توجہ دی جائے۔
- بریڈر اور لیئر ریوڑ میں وٹامن اے، ڈی تھری اور ای کی مناسب مقدار یقینی بنائی جائے۔
- فیڈ کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے دوران وٹامنز کے ممکنہ نقصان کو مدنظر رکھا جائے۔
کمی کی علامات ظاہر ہونے پر خود سے علاج کرنے کے بجائے ویٹرنری ڈاکٹر یا پولٹری نیوٹریشن ماہر سے مشورہ کیا جائے۔