
تحریر: واجد پیرزادہ
بہت کم لوگ اور معاشرے ایسے ہوتے ہیں جو کسی انسان کی زندگی ہی میں اس کی خوبیوں کا اعتراف کریں، اس کی خدمات کو سراہیں اور اس کی شخصیت کا کھلے دل سے تذکرہ کریں۔ ہمارے ہاں عمومی رویہ یہی رہا ہے کہ جب کوئی دنیا سے رخصت ہو جائے تو پھر کہا جاتا ہے، "خدا بخشے، بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔” حالانکہ اصل قدر شناسی تو یہ ہے کہ انسان کی موجودگی میں اس کی خوبیوں کا اعتراف کیا جائے۔
آج میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے درمیان موجود ایک ایسے ہی دوست، ڈاکٹر خالد محمود شوق، سے مخاطب ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ "شوق” کب اور کس سے ورثے میں پایا، مگر ہم نے تو ہمیشہ آپ کی محبتوں، خلوص اور انسان دوستی کو ہی آپ کی اصل پہچان کے طور پر دیکھا ہے، جسے آپ نے گزشتہ تقریباً پینتیس برس سے نہایت اخلاص کے ساتھ پروان چڑھایا ہے۔
مجھے آج بھی نوّے کی دہائی کے ابتدائی سال یاد ہیں، جب آپ سے پہلی ملاقات ہوئی۔ ان دنوں ہم آتش ناتواں کے ساتھ پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن اسلام آباد کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ بہت سے مخلص ساتھی اس سفر کا حصہ تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔
ڈاکٹر خالد شوق کی شخصیت ابتدا ہی سے میرے لیے ایک دلچسپ معمہ رہی۔ وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے ملتے، مگر ان کی گفتگو ابتدا میں ایک پہیلی معلوم ہوتی۔ وقت کے ساتھ جب ان کی شخصیت کی پرتیں کھلتی گئیں تو اندازہ ہوا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے ایک حساس دل، ایک وسیع نظر اور ایک مثبت سوچ رکھنے والا انسان موجود ہے۔
ویٹرنری صحافت سے ان کا لگاؤ اور وابستگی اپنی مثال آپ ہے۔ جس شوق اور استقامت کے ساتھ انہوں نے اس میدان کو اپنایا، وہ آج ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہی دنوں مجھے بھی اے وی این کے بانی مدیر کی حیثیت سے الفاظ کی تراش خراش، زبان کی نزاکت اور صحافت کے تقاضوں کو سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ اس سفر میں ڈاکٹر خالد شوق کی مستقل مزاجی اور خلوص ہمیشہ نمایاں رہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا مثبت طرزِ فکر ہے۔ اختلاف ہو یا مشکل مرحلہ، وہ اکثر اپنی مخصوص اندازِ گفتگو اور نرم مزاجی سے ماحول کو خوشگوار بنا دیتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے وہ واقعی "مٹی پا کے لڈو کھلانے” کا ہنر جانتے ہوں، یعنی تلخیوں کو مٹھاس میں بدل دینا ان کی فطرت کا حصہ ہو۔
ان کی خوش خوراکی بھی دوستوں میں ہمیشہ دلچسپی کا موضوع رہی۔ جب بھی ان کا راولپنڈی آنا ہوتا، ہماری شیراز میں دعوت کی منصوبہ بندی اکثر منصوبہ ہی رہ جاتی، کیونکہ ان کے پسندیدہ "میاں جی والے ناشتے” کی خوشبو اور لطف راولپنڈی سے لاہور تک ہمارے ساتھ سفر کرتا رہتا۔
وقت کے بہاؤ نے بہت کچھ بدل دیا۔ ذمہ داریاں بدلیں، حالات بدلے، راستے بدلے، مگر ڈاکٹر خالد شوق نے تعلقات کی ڈور کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ یہی ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت وصف ہے۔ آج وہ صحافت، قیادت اور سماجی خدمت کے میدان میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، جبکہ میں ایک پرانے ساتھی کی حیثیت سے ان کی گفتگو کی الجھی ہوئی لٹ کو سلجھتے، ان کے خیالات کو مزید پختہ ہوتے اور ان کی سوچ کی خوشبو کو مزید پھیلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
دوستی صرف ساتھ چلنے کا نام نہیں، بلکہ وقت گزرنے کے باوجود دلوں کا جڑا رہنا بھی دوستی ہی ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود شوق انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے محبت، اخلاص، مثبت سوچ اور تعلق نبھانے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنایا۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ویٹرنری صحافت، پیشے اور اپنے دوستوں کے دلوں کو آباد رکھتے رہیں۔
یار سلامت، صحبت باقی۔