ناقابلِ حل فائبر کے ذرائع کی اینزائم (NSPase) کے ساتھ یا بغیر شامل کرنے کےبرائلر مرغیوں کی افزائش، غذائی ہضم پذیری، گوشت کی خوبیوں اور آنتوں کی ساخت پر اثرات

ناقابلِ حل فائبر کے ذرائع کی اینزائم (NSPase) کے ساتھ یا بغیر شامل کرنے کےبرائلر مرغیوں کی افزائش، غذائی ہضم پذیری، گوشت کی خوبیوں اور آنتوں کی ساخت پر اثرات

ڈاکٹر محمد شریف، ڈاکٹر صفدر حسن، ، محمد عثمان منور، ڈاکٹر فواد احمد،ڈاکٹر محمداسامہ ، محمد عرفان حیدر (Correnpondance:sh.shakir@uaf.edu.pk)
انسٹیٹیوٹ آف اینیمل اینڈ ڈیری سائنسز، جامعہ زرعیہ، فیصل آباد

تعارف

لائیوسٹاک پاکستان کے زرعی شعبے کا صرف ایک حصہ نہیں، بلکہ اس کا دل ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25کے مطابق ، لائیوسٹاک نے زرعی شعبے کی ویلیو ایڈیشن میں 63.6 فیصد اور قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں 14.97فیصد حصہ ڈالا، جو کہ اسے معیشت کا ایک نہایت اہم ستون بناتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، موسمی، معاشی اور فیڈ سے متعلقہ چیلنجز کے باوجود، لائیوسٹاک کے شعبے میں 4.72فیصد ترقی دیکھی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، پولٹری کی پیداوار میں بھی واضح اضافہ ہوا، اور اس سال 2.58ملین ٹن گوشت کی پیداوار کے ساتھ 9.4فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک بھر میں 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد پاکستانی، بالخصوص دیہی علاقوں کے افراد، لائیوسٹاک بشمول پولٹری، دودھ، اور گوشت کی پیداوار پر براہِ راست یا بالواسطہ انحصار کرتے ہیں۔ یہ محنتی کسان اس شعبے کی اصل طاقت ہیں۔ چاہے وہ چند مرغیاں پالتے ہوں یا سینکڑوں برائلر چوزوں کی دیکھ بھال کرتے ہوں، ان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ عزت ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ کسانوں کے بغیر لائیوسٹاک اور پولٹری انڈسٹری کا وجود ممکن نہیں۔ وہ محض فارمر نہیں بلکہ اس صنعت کی بنیاد ہیں۔اسی تناظر میں، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (UAF) جیسے سائنسی اداروں کے کردار کو بھی سراہنا ضروری ہے، جو تحقیق، اختراع، اور توسیعی خدمات کے ذریعے زرعی سائنس میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی ادارے کسانوں اور سائنسی تحقیق کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں، اور زمینی سطح پر قابلِ عمل، کم لاگت، اور پائیدار حل فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق کا ایک اہم موضوع نامحلول فائبر (Insoluble Fiber) کا جانوروں کی خوراک میں استعمال ہے، خصوصاً پولٹری اور لائیوسٹاک کے لیے۔ یہ فائبر ذرائع جیسے سویا ہلز، ویٹ بران یا چاول کا چھلکا، نان-سٹارچ پولی سیکرائیڈز (NSPs) جیسے سیلولوز اور ہیمی سیلولوز پر مشتمل ہوتے ہیں، جو ہاضمے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ نیشنل ریسرچ کونسل (NRC) کے مطابق، ان فائبر ذرائع میں غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں اور یہ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر جب ان کا استعمال درست مقدار (3 سے 5 فیصد) میں کیا جائے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مناسب مقدار میں نامحلول فائبر کی شمولیت گیزرڈ کی نشوونما، خوراک کے گزرنے کے وقت میں بہتری، اور غذائی اجزاء کے بہتر جذب میں مدد دیتی ہے(Jimenez-Moreno et al., 2009; Gonzalez-Alvarado et al., 2007)۔ تاہم، اس فائدے کے ساتھ ایک مسئلہ بھی ہے۔ یہ فائبر اجزاء خوراک میں موجود غذائی اجزاء کو پھنساتے ہیں اور آنتوں میں فضلے کی مقدار بڑھاتے ہیں، جس سے فیڈ کی کارکردگی کم اور لاگت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی مداخلت نہ کی جائے تو پروٹین، چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس جیسے اہم اجزاء بغیر ہضم ہوئے آنتوں سے گزر جاتے ہیں، خاص طور پر پولٹری جیسے سنگولر معدہ والے جانوروں میں۔ اس مسئلے کا حل ایکسوجینس NSPase انزائمز کی شکل میں موجود ہے، جیسے زائلیز (xylanase) اور بیٹا گلوکانیز (β-glucanase)، جو پودوں کی خلیاتی دیواروں کو توڑ کر پھنسے ہوئے غذائی اجزاء کو آزاد کرتے ہیں، اور خوراک کے ہضم اور کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔اسی مسئلے کو مدِنظر رکھتے ہوئے، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہماری یہ تحقیق کی گئی، جس میں برائلر چوزوں پر تجرباتی مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعہ میں مختلف گروپس کو نامحلول فائبر کے ساتھ اور بغیر NSPase انزائمز والی خوراک دی گئی، تاکہ جانچا جا سکے کہ اس امتزاج کا کیا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ تھا کہ نامحلول فائبر اور NSPase کا مشترکہ اثر وزن میں اضافہ، غذائیت کے ہضم، گوشت کی خصوصیات، اور آنتوں کی ساخت پر معلوم کیا جائے۔ کنٹرول اور تجرباتی گروپس کے موازنہ سے انزائم کے استعمال کے فوائد اور حدود کو سمجھا گیا، اور یہ دیکھا گیا کہ فیڈ ملز اور کسانوں کے لیے اس کے کیا عملی اثرات ہو سکتے ہیں۔ جدید پولٹری تغذیہ میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خوراک کی ایسی ترتیب ضروری ہے جو نہ صرف پروٹین اور توانائی کی ضروریات پوری کرے بلکہ آنتوں کی صحت اور غذائی جذب کو بھی بہتر بنائے۔ پچھلے کچھ سالوں میں نامحلول فائبر کے کردار پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ جہاں پہلے اسے اینٹی-نٹریشنل عنصر سمجھا جاتا تھا، اب اسے آنتوں کی تحریک، گیزرڈ کی نشوونما، اور آنتوں کی ساخت میں بہتری کے لیے فائدہ مند مانا جا رہا ہے۔نامحلول فائبر آنتوں کے نظام میں میکانیکی تحریک فراہم کرتا ہے۔ یہ حل پذیر فائبر کے برعکس ہے، جو آنتوں میں لیس دار پن پیدا کر کے غذائی اجزاء کے جذب کو کم کرتا ہے۔ نامحلول فائبر آنتوں میں حرکت اور خوراک کے پیسنے میں مدد دیتا ہے، جس سے غذائی اجزاء کے جذب میں اضافہ ہوتا ہے۔ سویا ہلز اور ویٹ بران میں موجود سیلولوز اور ہیمی سیلولوز گیزرڈ کی مضبوطی، انہضامی انزائمز کی سرگرمی، اور مجموعی فیڈ کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔ لیکن فائبر کے فائدے NSPs کی موجودگی سے محدود ہو سکتے ہیں، جو غذائی اجزاء کو بند کر دیتے ہیں اور آنتوں میں لیس دار پن بڑھا دیتے ہیں، جس سے فیڈ کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مؤثر حل NSPase انزائمز ہیں، جو ان مرکب فائبرز کو توڑ کر غذائی اجزاء کو آزاد کرتے ہیں اور غذائیت کو ہضم ہونے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ NSPase کی افادیت فائبر کی قسم، مقدار، پرندے کی عمر، اور خوراک کے اجزاء پر منحصر ہوتی ہے۔ اگرچہ فائبر یا NSPase کے الگ الگ اثرات پر کافی تحقیق ہو چکی ہے، لیکن ان دونوں کے مشترکہ اثرات پر محدود معلومات دستیاب ہیں۔ ان دونوں کا امتزاج دوہرا فائدہ دے سکتا ہے: فائبر سے آنتوں کی تحریک اور NSPase سے فائبر کے اندر بند غذائی اجزاء کی رہائی۔ یہ امتزاج نہ صرف وزن، ہضم، اور گوشت کی کوالٹی کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ آنتوں کی ساخت جیسے ویلس کی لمبائی، کرپٹ کی گہرائی، اور ویلس-ٹو-کرپٹ ریشو کو بھی بہتر بناتا ہے، جو کہ غذائی جذب اور آنتوں کی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں، خاص طور پر جدید نسل کے تیز رفتار بڑھنے والے برائلر چوزوں میں۔ ان تمام باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ہماری تحقیق سویا ہلز اور ویٹ بران کے ساتھ NSPase انزائمز کے مشترکہ اثرات کو جانچنے کے لیے کی گئی۔ ہمارا مفروضہ تھا کہ اگر ان فائبر ذرائع کو NSPase کے ساتھ معتدل مقدار میں شامل کیا جائے، تو اس سے ہاضمہ، غذائیت کا جذب، اور گوشت کی کوالٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

مواد اور طریقہ کار

کل 480 دن کے برائلر چوزے ایک تجارتی ہیچری سے حاصل کیے گئے۔ ان چوزوں کو انفرادی طور پر تولا گیا اور مکمل طور پر بے ترتیب طریقے سے چھ خوراکی گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر گروپ میں 8 تکرار رکھی گئیں، اور ہر تکرار میں 10 پرندے شامل تھے۔ تمام پرندوں کو فرش پر نئی لکڑی کی بھوسی بچھا کر رکھا گیا۔ چھ مختلف اقسام کی خوراکیں تیار کی گئیں تاکہ نامحلول فائبر ذرائع اور ایکسوجینس NSPase انزائمز کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ گروپوں کی تفصیل درج ذیل ہے: علاج خوراک کی تفصیل T0 کنٹرول خوراک T1 کنٹرول خوراک + NSPase انزائم T2 کنٹرول خوراک + سویا ہلز T3 کنٹرول خوراک + ویٹ بران T4 کنٹرول خوراک + سویا ہلز + NSPase انزائم T5 کنٹرول خوراک + ویٹ بران + NSPase انزائم مطالعہ میں استعمال ہونے والا NSPase انزائم مارکیٹ سے دستیاب مرکب تھا، جس میں زائلیز، میننیز، اور بیٹا-گلوکانیز شامل تھے۔ اسے مینوفیکچرر کی تجویز کردہ مقدار کے مطابق خوراک میں شامل کیا گیا۔ مطالعہ کے دوران معیاری نظم و نسق کے اصولوں پر عمل کیا گیا۔ چوزوں کی آمد سے قبل پینز کو پوٹاشیم پرمیگنیٹ اور فارملڈہائڈ 40% سے مکمل صفائی، جراثیم کشی اور دھونی دی گئی۔ چوزوں کو روایتی شیڈول کے مطابق حفاظتی ٹیکے لگائے گئے اور سخت بایو سیکیورٹی اقدامات اپنائے گئے۔ ابتدائی درجہ حرارت 95°F رکھا گیا، اور ہر ہفتے 5°F کم کرتے ہوئے 75°F تک لایا گیا۔اموات کی شرح کو روزانہ نوٹ کیا گیا اور کارکردگی کا حساب اسی حساب سے لگایا گیا۔ مطالعہ کے آخری دن (35ویں دن) ہر تکرار میں سے 2 پرندوں کو ذبح کر کے آنتوں کے آخری حصے (ileum) سے مواد اکٹھا کیا گیا، جیسا کہ(1997) Scott and Boldaji نے بیان کیا ہے۔ مواد کو فارملین کے چند قطروں کے ساتھ محفوظ کر کے -10°C پر جما دیا گیا۔ بعد ازاں، تمام سیمپلز کو 65°C پر خشک، گرائنڈ کر کے 0.5 ملی میٹر چھلنی سے گزارا گیا اور تجزیہ تک محفوظ رکھا گیا۔

گوشت کی خصوصیات

آخری دن دو پرندوں کو حلال طریقے سے ذبح کیا گیا اور ڈریسنگ فیصد اور اہم اعضاء (گیزرڈ، جگر، پروونٹریکلس) کے وزن نوٹ کیے گئے۔ حساب کے فارمولے: •۰ڈریسنگ فیصد (%) = (ذبح شدہ وزن ÷ زندہ وزن) × 100 •۰اعضاء کا نسبتاً وزن (%) = (عضو کا وزن ÷ زندہ وزن) × 100

آنتوں کی ساخت

jejunum اور ileum سے بافتہ کے نمونے لے کر 10% بفر شدہ فارملین میں محفوظ کیے گئے۔ ان بافتوں کو پیراآفین میں بند کر کے 5 مائکرون موٹی سلائسز میں کاٹا گیا اور ہیماتوکسلین و ایوسین سے رنگا گیا۔ تجزیہ لائٹ مائکروسکوپ اور امیج اینالیسز سسٹم سے کیا گیا۔ ماپے گئے پیرامیٹرزمیں ویلس کی لمبائی (μm)، کرپٹ کی گہرائی (μm)، ویلس-ٹو-کرپٹ ریشو = VH / CD شامل تھے ۔

نتائج

برائلرز کی نشوونما

ہماری تحقیق کے نتائج بہت واضح اور دونوں یعنی فارمرز اور پولٹری انڈسٹری کے لیے قابلِ عمل تھے۔ جن پرندوں کو نامحلول فائبر کے ساتھ انزائم ملا کر خوراک دی گئی، ان کی وزنی افزائش اور فیڈ کنورژن ریشو (FCR) سب سے بہتر رہی۔ خاص طور پر سویا ہلز + انزائم والے گروپ میں پرندوں نے کم خوراک میں زیادہ وزن حاصل کیا، یعنی خوراک کا استعمال مؤثر رہا۔ اس گروپ میں پروٹین اور انرجی کی ہضم ہونے کی شرح بھی سب سے زیادہ دیکھی گئی۔ جبکہ جن پرندوں کو فائبر تو دیا گیا لیکن انزائم نہیں، ان میں بھی کچھ فوائد دیکھنے میں آئے جیسے کہ بہتر گیزرڈ کی نشوونما، لیکن وزن بڑھنے یا غذائی اجزاء کے استعمال میں وہ بہتری نہیں دیکھی گئی جو انزائم کے ساتھ ہوئی۔ دوسری طرف، صرف انزائم دینے والے گروپ (بغیر فائبر) میں کچھ بہتری دیکھی گئی، لیکن وہ بھی مکمل فائدہ حاصل نہ کر سکا جیسا کہ فائبر + انزائم گروپ میں ممکن ہوا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ فائبر اور انزائم کا امتزاج الگ الگ استعمال سے زیادہ مؤثر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، سویا ہلز + NSPase والا گروپ (T4) وزن میں سب سے آگے رہا، جبکہ کنٹرول گروپ (T0) سب سے کمزور کارکردگی دکھا سکا۔ فیڈ انٹیک سب سے زیادہ گندم چوکر والے گروپ (T3) میں تھا، لیکن FCR یعنی وزن کے لحاظ سے فیڈ کی افادیت، T4 گروپ میں بہترین رہی۔

غذائی اجزاء کی ہضم پذیری

خشک مادہ (DM)، خام پروٹین (CP) اور مجموعی توانائی (GE) کی ہضم پذیری میں گروپوں کے درمیان واضح فرق دیکھنے میں آیا(p<0.05 )۔ T4 اور اس کے بعد T5 گروپ نے سب سے زیادہ نظامِ انہضام کی کارکردگی دکھائی۔ کنٹرول (T0) اور صرف گندم چوکر (T3) گروپس کی کارکردگی اس حوالے سے کمزور رہی۔

ذبح شدہ گوشت کی خصوصیات

ڈریسنگ فیصد میں وہ گروپس جنہیں انزائم ملا کر خوراک دی گئی، خاص طور پر T4 اور T5، ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔ فائبر والی خوراک دینے سے پیٹ کی چربی کم ہوئی اور گیزرڈ کا وزن بڑھا، جو صحت مند نظامِ انہضام کی نشاندہی ہے۔ تاہم جگر اور پروونٹریکلس کے وزن میں کوئی بڑا فرق نہیں پایا گیا۔

آنتوں کی ساخت

جن پرندوں کو فائبر اور انزائم ساتھ دیے گئے، ان کی چھوٹی آنتوں کی اندرونی سطح پر موجود villous زیادہ اونچے اور مضبوط رہے۔ Villus Height-to-Crypt Depth Ratio بھی ان گروپس میں زیادہ رہا، جو بہتر جزب اور ہضم کی صلاحیت کا اشارہ ہے۔ T0 گروپ میں villi کی لمبائی سب سے کم تھی، جو کہ کمزور نظامِ انہضام کو ظاہر کرتا ہے۔ چھوٹی آنت کی صحت براہِ راست خوراک سے جڑے فوائد کا عکاس ہوتی ہے۔

شرح اموات

مطالعہ کے دوران شرح اموات معمول کے دائرے میں رہی اور تمام گروپوں میں کوئی واضح فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فائبر یا انزائم کی شمولیت سے پرندوں کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

نتائج کا خلاصہ

•۰بہترین کارکردگی اور ہضم پذیری: سویا ہلز + انزائم والا گروپ •۰بہتر آنتوں کی ساخت: فائبر + انزائم والے گروپس •۰کم ترین کارکردگی: کنٹرول گروپ (نہ فائبر، نہ انزائم) یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ نامحلول فائبر کے ساتھ NSPase انزائم کا استعمال محفوظ، مؤثر، اور فائدہ مند ہے۔ خاص طور پر جب فیڈ مہنگی ہو، تو ہر کلو فیڈ سے زیادہ فائدہ اٹھانا کسان کے لیے انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔
ٹیبل نمبر1۔ انزائم کا برائلر کی کارکردگی پر جائزہ
پیرامیٹر T0 (کنٹرول) T1 (کنٹرول +انزائم) T2 (سویا ہلز) T3 (گندم چوکر) T4 (سویا ہلز + انزائم) T5 (گندم چوکر + انزائم)
وزن (گرام)1793.251878.631857.751843.881935.751918.88
فیڈ انٹیک (گرام)2997.503018.133014.753037.133022.633009.63
FCR1.671.611.621.651.561.57
DM ہضم (%)69.7573.3871.3870.0075.3874.38
CP ہضم (%)67.5071.1369.2568.2574.5073.13
GE ہضم (%)67.1370.5068.8867.7572.3871.63
ڈریسنگ فیصد59.7160.7060.6360.6061.7961.64
پیٹ کی چربی (%)1.671.531.451.411.291.34
گیزرڈ وزن (%)1.621.731.831.892.011.93
VH Jejunum (µm)820.13889.38850.63845.38940.63917.50
CD Jejunum (µm)152.50149.25147.00150.38143.25145.88
VH:CD Jejunum5.395.965.795.636.596.29
VH Ileum (µm)730.88802.00778.63768.25858.63837.13
CD Ileum (µm)160.88157.63158.13159.25152.38154.25
VH:CD Ileum4.575.104.934.835.645.43

نتیجہ

یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچی کہ نامحلول فائبر (سویا ہلز، گندم چوکر) + NSPase انزائم کی شمولیت سے مرغیوں کی کارکردگی، خوراک کی ہضم پذیری، گوشت کی پیداوار، اور آنتوں کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ یہ حکمتِ عملی فیڈ کی افادیت بڑھانے، لاگت کم کرنے، اور پیداوار میں اضافہ کے لیے ایک سستا، محفوظ، اور مؤثر حل ہے۔

فیڈ انڈسٹری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کو اس تحقیق سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

یہ تحقیق پاکستان کی فیڈ انڈسٹری کے لیے ایک آسان، سستا اور مؤثر حل پیش کرتی ہے۔ آج کل فیڈ کے مہنگے دام اور اچھی کوالٹی کے اجزاء کی کمی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ زیادہ تر فیڈ ملز پہلے ہی سویا ہلز یا گندم چوکر جیسے اجزاء استعمال کرتی ہیں، لیکن یہ فائبر اجزاء اگر صحیح طریقے سے نہ دیے جائیں تو غذائیت کی دستیابی کو کم کر سکتے ہیں۔ ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر یہ اجزاء NSPase انزائمز (مثلاً xylanase یا β-glucanase) کے ساتھ دیے جائیں، تو فیڈ ملز مہنگے اجزاء کے بغیر ہضم پذیری بہتر بنا سکتی ہیں، فیڈ کنورژن ریشو کم کر کے زیادہ افزائش حاصل کر سکتی ہیں، آنتوں کی صحت بہتر کر کے بیماریوں کے خطرات کم کر سکتی ہیں اور فیڈ کی افادیت بڑھا کر مجموعی لاگت میں کمی لا سکتی ہیں۔یہ حکمت عملی نہ صرف فیڈ فارمولیشن میں مدد دے سکتی ہے بلکہ قومی خود انحصاری بڑھانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی فائبر کے بہتر استعمال میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

کسانوں کے لیے اس تحقیق کا فائدہ کیا ہے؟

یہ تحقیق صرف فیڈ ملز کے لیے نہیں، بلکہ عام کسان، چھوٹے پیمانے کے فارمرز، اور بیک یارڈ فارمرز کے لیے بھی بہت کارآمد ہے۔ کسان اکثر سستے اور دستیاب اجزاء جیسے گندم چوکر، سویا ہلز، یا چاول کی بھوسی استعمال کرتے ہیں، مگر اکثر یہ نہیں جانتے کہ یہ فائبر غذائیت کو بند کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً زیادہ خوراک لگتی ہے مگر نتیجہ کم آتا ہے۔ ہماری تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر تھوڑا سا NSPase انزائم فیڈ میں شامل کر دیا جائے توپرندوں یا جانوروں کی افزائش بہتر ہو سکتی ہے، کم فیڈ میں زیادہ وزن حاصل کیا جا سکتا ہے، آنتوں کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بیماریاں کم ہوتی ہیں اور فیڈ کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ یہ کم مقدار میں انزائم ڈال کر بھی بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر چھوٹے کسانوں کے لیے جو کم وسائل میں بہتر نتائج چاہتے ہیں۔ چاہے 10 مرغیاں ہوں یا 500 پرندے، اگر فائبر کے ساتھ تھوڑا سا انزائم استعمال کیا جائے تو پیداوار، صحت اور منافع تینوں میں بہتری ممکن ہے۔

معاشی پہلو

پولٹری اور لائیو اسٹاک فارمنگ میں فیڈ کی لاگت کل اخراجات کا 60-70%بنتی ہے۔ لہٰذا اگر فیڈ کی افادیت بہتر ہو جائے تو مجموعی طور پر منافع میں اضافہ ممکن ہے۔ ہماری تحقیق نے ثابت کیا کہ فائبر (سویا ہلز، گندم چوکر) کے ساتھ اگر NSPase انزائم شامل کیا جائے توکم خوراک میں زیادہ وزن حاصل ہوتا ہے، فیڈ کنورژن بہتر ہوتی ہے،اورفیڈ کی فی کلو لاگت کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ انزائم کی لاگت ہوتی ہے، لیکن بہتری کی وجہ سے انزائم کی لاگت پوری ہو جاتی ہےہر پرندے پر RS.3-5کی بچت ہوتی ہےاور 1000 پرندوں پرRS.3000-5000تک منافع ممکن ہے۔ یہ حکمت عملی چھوٹے اور بڑے دونوں فارموں کے لیے فائدہ مند ہے، خاص طور پر جب مقامی فائبر اجزاء پہلے سے ہی استعمال ہو رہے ہوں۔

مستقبل کے تحقیقی پہلو

اگرچہ اس تحقیق سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ نامحلول فائبر اور NSPase انزائم کی مشترکہ شمولیت بروائلرز کی خوراک میں مؤثر ہے، لیکن مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مختلف فائبر ذرائع کے لیے مناسب مقدار کا تعین مختلف فارمنگ سسٹمز اور موسمی حالات کے تحت کیا جا سکے۔ آئندہ تحقیق میں درج ذیل پہلوؤں پر توجہ دی جانی چاہیے: •۰آنتوں کی خرد حیاتیاتی آبادی (microbiota)، mucosal immunity اور غذائی اجزاء کی نقل و حمل سے متعلق جین اظہار (gene expression) پر ان خوراکی حکمت عملیوں کے طویل المدتی اثرات •۰روایتی خوراکی نظام اور فائبر + انزائم فارمولیشن کے درمیان معاشی موازنہ •۰مختلف اقسام کے انزائمز اور مختلف فائبر ذرائع کے باہمی اثرات، خاص طور پر مرغیوں کی عمر کے مختلف مراحل میں •۰گوشت کے معیار، آکسیڈیٹو استحکام (oxidative stability) اور شیلف لائف (Shelf life) پر فائبر-انزائم خوراک کا اثر •اسی طرح کی تحقیق کو دوسری پولٹری اقسام جیسے لیئرز (انڈے دینے والی مرغیاں) اور ٹرکی پر بھی لاگو کر کے تحقیق کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکتا ہے

خلاصہ

موجودہ تحقیق کے نتائج سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سویا ہلز اور گندم چوکر جیسے نامحلول فائبر ذرائع کی NSPase انزائم کے ساتھ خوراک میں شمولیت سے مرغیوں کی افزائشی کارکردگی، غذائی اجزاء کی ہضم پذیری، گوشت کی پیداوار، اور آنتوں کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ یہ بہتری اس دوہری حکمت عملی کا نتیجہ ہے: •۰فائبر کے ذریعے آنتوں کی میکانیکی تحریک •۰انزائم کے ذریعے NSPs کا انہضامی ٹوٹنا یہ خوراکی مداخلت پرندوں کی صحت اور افزائش میں بہتری لاتی ہے، فیڈ کی افادیت میں اضافہ کرتی ہے، اور مہنگی خوراک پر انحصار کم کرتی ہے۔ ان نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فائبر + انزائم حکمت عملی ایک مؤثر، سستا، اور پائیدار حل ہے، خاص طور پر اُن ممالک کے لیے جہاں فیڈ وسائل محدود اور مہنگے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ حکمت عملی صحت مند آنتوں کی نشوونما کو فروغ دیتی ہے، اعلیٰ معیار کا گوشت حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے، اور ماحولیاتی پائیداری کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ایسے فارمولے جدید، سائنسی، اور معیشت دوست پولٹری فارمنگ کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتے ہیں۔