
تحریر پروفیسر ڈاکٹر محمد یسین
پاکستان میں ماحول کو کنٹرول کرنے والے پولٹری شیڈز، یعنی انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ (EC) شیڈز کے استعمال میں اضافے سے روایتی پولٹری فارمنگ کے مقابلے میں ریوڑ کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
کنٹرولڈ اور روایتی فارمز میں شرحِ اموات
پاکستان کے انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ شیڈز میں برائلر کے ایک فلاک کے دوران شرحِ اموات عموماً 2 سے 3 فیصد کے درمیان رہتی ہے۔ یہ روایتی اور کھلے اطراف والے پولٹری فارمز کے مقابلے میں بڑی بہتری ہے، جہاں اموات کی عمومی شرح تقریباً 10 فیصد رہتی ہے اور ناقص انتظام، صفائی اور حفظانِ صحت کی کمزوری کے باعث اکثر 13 سے 15 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
| فارم کی قسم | اوسط شرحِ اموات | مارکیٹ وزن تک پہنچنے کے دن | فیڈ کنورژن ریشو (FCR) |
|---|---|---|---|
| انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ شیڈ | 2% تا 3% | تقریباً 37 دن | 1.8 |
| روایتی یا کھلا پولٹری فارم | 10% تا 13.1% | تقریباً 45 دن | 2.0 تا 2.2 |
انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ شیڈز میں اموات کم ہونے کی وجوہات
پاکستان کے روایتی پولٹری سیکٹر میں زیادہ اموات کی بنیادی وجہ گرمی کا دباؤ، یعنی ہیٹ اسٹریس ہے۔ موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریوڑ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں فارمرز کئی ماہ تک پولٹری فارمنگ بند کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔
انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ شیڈز درج ذیل طریقوں سے ان خطرات کو کم کرتے ہیں۔
1۔ خودکار موسمیاتی کنٹرول
ایواپوریٹو کولنگ پیڈز اور طاقتور ایگزاسٹ فینز کے ذریعے شیڈ کے اندر درجہ حرارت اور نمی کو مقررہ حدود میں برقرار رکھا جاتا ہے، جس سے موسمِ گرما میں ہیٹ اسٹریس کے باعث ہونے والی اموات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
2۔ بہتر بائیو سیکیورٹی
بند نظام جنگلی پرندوں، کیڑوں، چوہوں اور ہوا کے ذریعے منتقل ہونے والے جراثیم اور بیماریوں سے پولٹری ریوڑ کے رابطے کو کافی حد تک محدود کر دیتا ہے۔
3۔ بیماریوں کی شرح میں کمی
ماحول کو کنٹرول میں رکھنے سے پرندوں پر جسمانی اور موسمی دباؤ کم ہوتا ہے، جس کے باعث وہ پاکستان میں پائی جانے والی عام پولٹری بیماریوں سے نسبتاً کم متاثر ہوتے ہیں۔
کنٹرولڈ شیڈز میں باقی رہنے والی اموات کی عام وجوہات
انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ شیڈز میں اموات ہونے کی صورت میں عموماً درج ذیل عوامل ذمہ دار ہوتے ہیں۔
پہلے دن سے 14ویں دن تک، ابتدائی مرحلہ
برائلر فلاک کی مجموعی اموات میں سے نصف سے زیادہ اموات بعض اوقات ابتدائی دو ہفتوں میں ہو سکتی ہیں۔ ان کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
- یولک سیک انفیکشن
- ہیچری سے آنے والے کمزور یا ناقص معیار کے ڈے اولڈ چوزے
- بروڈنگ کے دوران نامناسب درجہ حرارت
- خوراک اور پانی تک مناسب رسائی نہ ہونا
- ابتدائی انتظامی کمزوریاں
وائرل بیماریوں کا پھیلاؤ
پاکستان میں درج ذیل بیماریاں اب بھی پولٹری کے لیے اہم خطرہ ہیں۔
- ہائیڈروپیریکارڈیم سنڈروم (HPS)
- نیو کاسل بیماری (ND)
- انفیکشس برسل بیماری یا گمبورو (IBD)
اگر ویکسینیشن پروگرام پر سختی سے عمل نہ کیا جائے تو یہ بیماریاں شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ تاہم بہتر ماحول، بائیو سیکیورٹی اور انتظام کی وجہ سے انوائرنمنٹلی کنٹرولڈ شیڈز میں بیماریوں کے اثرات کو روایتی فارمز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
پولٹری میں عمومی شرحِ اموات
پولٹری فارمنگ میں کچھ اموات کا ہونا ناگزیر سمجھا جاتا ہے، لیکن شرحِ اموات کو مقررہ اور قابلِ قبول حدود کے اندر رکھنا فارم کے منافع، پیداوار اور بائیو سیکیورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بہتر انتظامی حالات میں پولٹری کی مختلف اقسام میں متوقع مجموعی شرحِ اموات درج ذیل ہو سکتی ہے۔
| پولٹری کی قسم | معیاری شرحِ اموات | تشویش کی حد |
| برائلر، 5 سے 7 ہفتے کا پیداواری دور | 3% تا 5% | 5% سے زیادہ |
| لیئرز، 70 سے 80 ہفتے کا پیداواری دور | مجموعی طور پر 5% تا 8% یا فی ہفتہ 0.1% تا 0.15% | فی ہفتہ 0.2% سے زیادہ |
| برائلر بریڈرز | پورے پیداواری دور میں 6% تا 10% | 10% سے زیادہ |
نوٹ
سب سے زیادہ اموات عموماً پہلے ہفتے، یعنی بروڈنگ کے مرحلے میں، چوزوں کے معیار یا نامناسب ماحول کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ شدید موسمی حالات، خصوصاً ہیٹ اسٹریس، کے دوران بھی اموات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مردہ پولٹری پرندوں کی کمپوسٹنگ
کمپوسٹنگ روزانہ مرنے والے پولٹری پرندوں کو ٹھکانے لگانے کا ایک ماحول دوست، بائیو سیکیور اور کم لاگت طریقہ ہے۔
اس عمل میں آکسیجن کی موجودگی میں قدرتی طور پر نامیاتی مادہ گلتا سڑتا ہے اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اس عمل کو تھرموفیلک ایروبک ڈی کمپوزیشن کہا جاتا ہے۔ مناسب درجہ حرارت پیدا ہونے سے انسانی اور پرندوں میں بیماری پیدا کرنے والے متعدد جراثیم، مکھیوں کے لاروے اور دیگر نقصان دہ حیاتیاتی عوامل ختم ہو سکتے ہیں۔
اس طریقے کو نیو کاسل بیماری اور ایویئن انفلوئنزا سمیت مختلف پولٹری بیماریوں کے جراثیم کے خطرے کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بشرطیکہ کمپوسٹنگ کا عمل مقررہ حیاتیاتی، ماحولیاتی اور بائیو سیکیورٹی اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔
کمپوسٹنگ کے لیے بنیادی تقاضے
کاربن اور نائٹروجن کا تناسب
کاربن اور نائٹروجن، یعنی C N ریشو، 25:1 سے 30:1 کے درمیان ہونا چاہیے۔
مردہ پرندوں کے جسم میں نائٹروجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ کاربن فراہم کرنے کے لیے درج ذیل مواد استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- لکڑی کا برادہ
- لکڑی کی چھوٹی کترنیں
- بھوسہ
- خشک تنکے
- پرانا پولٹری لِٹر
- دیگر خشک کاربن والے مواد
نمی کی مقدار
کمپوسٹ مواد میں نمی کی مقدار تقریباً 50 سے 60 فیصد ہونی چاہیے۔
مواد کو ہاتھ میں دبانے پر اس کی کیفیت نچوڑے ہوئے گیلے اسفنج جیسی ہونی چاہیے۔ مواد بہت زیادہ خشک ہو تو گلنے سڑنے کا عمل سست ہو جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ نمی آکسیجن کی کمی، بدبو اور غیر مؤثر کمپوسٹنگ کا سبب بن سکتی ہے۔
مطلوبہ درجہ حرارت
کمپوسٹ کے اندر درجہ حرارت 55 سے 65 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 130 سے 150 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچنا چاہیے۔
- یہ درجہ حرارت
- بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کو ختم کرنے
- مکھیوں کے انڈوں اور لاروے کو تلف کرنے
- مردہ پرندوں کے جسمانی اجزا کو گلانے
- ۔بدبو اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے