
پروفیسر ڈاکٹر محمد یسین
ڈاکٹر خالد محمود شوق
برسات اور زیادہ نمی کے موسم میں پولٹری فارمز پر بیماریوں، اموات اور پیداواری نقصانات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہوا میں نمی، فارم کے اندر ناقص وینٹی لیشن، گیلا لیٹر، آلودہ پانی، درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی اور کمزور بائیو سیکیورٹی مختلف جراثیمی، وائرل اور فنگل بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔
ایسے حالات میں اگر مردہ پرندوں کو سائنسی اور محفوظ طریقے سے تلف نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ صرف ایک پولٹری فارم تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات اردگرد کی آبادی، مویشیوں، آبی حیات، زرعی زمین اور پانی کے ذخائر تک پہنچ سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے بعض فارمرز مردہ مرغیوں کو قریبی ندی نالوں، کھالوں، نہروں، خالی پلاٹوں، سڑک کنارے یا کھلے میدانوں میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ، پانی کی آلودگی اور عوامی صحت کے مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
مردہ پرندوں کے جسم میں موجود جراثیم پانی، مٹی، مکھیوں، آوارہ کتوں، بلیوں، جنگلی پرندوں اور دوسرے جانوروں کے ذریعے دور تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
نمی کے موسم میں بیماریوں کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے
زیادہ نمی کے باعث پولٹری شیڈ کے اندر لیٹر جلد گیلا ہو جاتا ہے۔ گیلا لیٹر امونیا، بدبو، مکھیوں اور نقصان دہ جراثیم میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
ناقص وینٹی لیشن کی صورت میں پرندوں کو سانس کی بیماریوں، آنکھوں کی جلن، خوراک کی کم کھپت اور کمزور مدافعت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بارش کا پانی فارم کے اندر داخل ہونے یا فیڈ اور پینے کے پانی کے آلودہ ہونے سے بیماریوں کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ فارم کے اردگرد کھڑا پانی مچھروں، مکھیوں اور دیگر حشرات کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔
ایسے موسم میں فارم مینجمنٹ کی معمولی غلطی بھی اموات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ مردہ پرندوں کو فوری طور پر شیڈ سے نکالنا اور محفوظ طریقے سے تلف کرنا بنیادی بائیو سیکیورٹی کا حصہ ہے۔
مردہ مرغیاں پانی میں پھینکنے کے نقصانات
مردہ مرغیاں جب نہروں، کھالوں یا ندی نالوں میں پھینکی جاتی ہیں تو گلنے سڑنے کے عمل سے پانی میں شدید بدبو اور تعفن پیدا ہوتا ہے۔ یہی پانی بعض علاقوں میں فصلوں، جانوروں یا گھریلو ضروریات کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
آلودہ پانی بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کر سکتا ہے۔ مردہ پرندوں کو کھانے والے آوارہ جانور لاشوں کے حصے آبادیوں، سڑکوں اور دوسرے پولٹری فارمز تک لے جا سکتے ہیں۔
مکھیاں مردہ جسم پر بیٹھنے کے بعد گھروں، خوراک، دودھ، گوشت، سبزیوں اور دوسری اشیائے خورونوش کو آلودہ کر سکتی ہیں۔ اس طرح ایک فارم کی غفلت پورے علاقے کے لیے صحت اور صفائی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
بڑی تعداد میں مردہ مرغیاں پانی میں پھینکنے سے آبی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔ گلنے سڑنے والا نامیاتی مادہ پانی کے معیار کو خراب کرتا ہے اور پانی میں آکسیجن کی مقدار کم کر سکتا ہے۔ اس صورتحال سے مچھلیوں اور دوسری آبی حیات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
تعفن صرف بدبو کا مسئلہ نہیں
مردہ پرندوں سے پیدا ہونے والی بدبو کو اکثر صرف صفائی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ناقص انتظام، جراثیمی آلودگی اور ماحولیاتی خطرے کی علامت ہے۔
مسلسل تعفن سے قریبی آبادیوں کو شدید پریشانی ہوتی ہے اور پولٹری فارمز کے خلاف عوامی شکایات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پولٹری انڈسٹری کو سمجھنا ہوگا کہ ماحولیاتی ذمہ داری فارم مینجمنٹ اور کاروباری ساکھ کا لازمی حصہ ہے۔ چند افراد کی غفلت پوری صنعت کی بدنامی اور عوامی مخالفت کا سبب بن سکتی ہے۔
مردہ مرغیوں کو محفوظ طریقے سے کیسے تلف کیا جائے
ہر پولٹری فارم پر مردہ پرندوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے تحریری اور عملی انتظام موجود ہونا چاہیے۔ مردہ پرندوں کو روزانہ فوری طور پر شیڈ سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔
انہیں کھلی جگہ پر پھینکنا، آوارہ جانوروں کی خوراک بننے دینا یا پانی کے ذخائر میں ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مقامی قوانین اور متعلقہ لائیو اسٹاک، ماحولیاتی اور ضلعی اداروں کی ہدایات کے مطابق محفوظ طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
محفوظ کمپوسٹنگ
درست طریقے سے کی جانے والی کمپوسٹنگ مردہ پرندوں کو نامیاتی مادے میں تبدیل کرنے کا مؤثر طریقہ ہو سکتی ہے۔
اس کے لیے مخصوص ڈھانچہ، مناسب کاربن مواد، درست نمی، مطلوبہ درجہ حرارت، تہہ بندی اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
نامکمل یا کھلی کمپوسٹنگ تعفن، مکھیوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے یہ عمل تربیت یافتہ عملے کی نگرانی میں کیا جانا چاہیے۔
منظور شدہ انسنریشن
مناسب اور منظور شدہ انسنریٹر کے ذریعے مردہ پرندوں کو تلف کیا جا سکتا ہے۔
اس عمل کے دوران دھوئیں، اخراج اور باقی رہنے والی راکھ کے محفوظ انتظام سے متعلق ماحولیاتی ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔
مردہ مرغیوں کو کھلے میدان میں جلانا محفوظ متبادل نہیں ہے۔
سائنسی تدفین
جہاں متعلقہ حکام اجازت دیں وہاں پانی کے ذرائع، رہائشی آبادی اور زرعی استعمال کی زمین سے محفوظ فاصلے پر سائنسی اصولوں کے مطابق تدفین کی جا سکتی ہے۔
تدفین سے پہلے زیر زمین پانی کی سطح، مٹی کی نوعیت، بارش اور سیلاب کے خطرے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
کسی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کی صورت میں ویٹرنری حکام کی ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے۔
منظور شدہ کلیکشن یا رینڈرنگ سروس
بڑے پولٹری کلسٹرز میں مردہ پرندوں کے لیے منظور شدہ کلیکشن یا رینڈرنگ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔
مردہ پرندے منتقل کرنے والی گاڑیوں اور کنٹینرز کو لیک پروف، مکمل طور پر ڈھکا ہوا اور جراثیم سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
پولٹری فارمرز کی ذمہ داریاں
فارمرز کو بارش اور زیادہ نمی کا موسم شروع ہونے سے پہلے شیڈز کی چھت، نکاسی آب، وینٹی لیشن، کولنگ سسٹم، فیڈ اسٹوریج اور بائیو سیکیورٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔
فارم میں داخل ہونے والی گاڑیوں، افراد، آلات اور سامان کی نگرانی کی جائے۔ داخلی راستے پر جراثیم کش انتظام مؤثر رکھا جائے۔
اموات میں اچانک اضافہ ہونے کی صورت میں بغیر تشخیص کے ادویات کا بے جا استعمال نہ کیا جائے۔ فوری طور پر مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کیا جائے اور مناسب نمونے تشخیصی لیبارٹری بھجوائے جائیں۔
فارم پر روزانہ اموات، فیڈ اور پانی کی کھپت، درجہ حرارت، نمی اور وینٹی لیشن کی صورتحال کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔
مردہ پرندوں کو اٹھانے والے عملے کے لیے دستانے، حفاظتی لباس اور مخصوص جوتے فراہم کیے جائیں۔ استعمال شدہ آلات اور کنٹینرز کو ہر استعمال کے بعد جراثیم سے پاک کیا جائے۔
محکمہ لائیو اسٹاک اور انتظامیہ کا کردار
محکمہ لائیو اسٹاک، ماحولیاتی تحفظ کے اداروں، ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی اور بلدیاتی اداروں کو مشترکہ نگرانی اور کارروائی کا نظام بنانا چاہیے۔
نہروں، کھالوں اور ندی نالوں میں مردہ پرندے پھینکنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
پولٹری فارمز کی رجسٹریشن کے ساتھ مردہ پرندوں کی محفوظ تلفی کا عملی منصوبہ بھی لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
بڑے پولٹری علاقوں میں مشترکہ کمپوسٹنگ، انسنریشن یا کلیکشن مراکز قائم کیے جائیں تاکہ چھوٹے فارمرز کو بھی مناسب سہولت دستیاب ہو۔
متعلقہ اداروں کو صرف جرمانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ فارمرز، فارم ورکرز اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے لیے عملی تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں۔
شہریوں کے لیے شکایتی نظام یا ہیلپ لائن قائم کی جائے جہاں پانی، سڑکوں یا کھلے مقامات پر مردہ مرغیاں پھینکے جانے کی اطلاع دی جا سکے۔
پولٹری ایسوسی ایشنز اور کمپنیوں کی ذمہ داری
پولٹری ایسوسی ایشنز، فیڈ ملز، ہیچریز، دوا ساز اداروں اور انٹیگریٹڈ کمپنیوں کو اپنے فارمرز کے لیے واضح بائیو سیکیورٹی اور ویسٹ مینجمنٹ پروٹوکول جاری کرنے چاہئیں۔
کمپنیوں کو پیداوار اور فروخت کے ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری کو بھی اپنی کاروباری پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہر پولٹری فارم پر نمایاں ہدایتی بورڈ نصب ہونا چاہیے جس پر واضح کیا جائے کہ مردہ پرندوں کو پانی، کھلی جگہ یا عام کوڑے میں پھینکنا ممنوع ہے۔
عوام کو کیا کرنا چاہیے
اگر کسی شہری کو نہر، نالے، سڑک یا کھلے مقام پر مردہ مرغیاں نظر آئیں تو انہیں خود ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔
اس صورتحال کی اطلاع متعلقہ ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی ادارے، محکمہ لائیو اسٹاک، محکمہ آبپاشی یا ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کو دی جائے۔
اس عمل کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کرنا درست نہیں۔ آلودگی کا ایک مقام پورے علاقے کے پانی، ماحول اور عوامی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایک صحت کا تقاضا
انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحول ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
پولٹری فارم پر پیدا ہونے والا حیاتیاتی فضلہ اگر غیر ذمہ داری سے پھینکا جائے تو اس کے اثرات جانوروں، انسانوں، آبی حیات اور قدرتی وسائل تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہی One Health یا ایک صحت کے تصور کی بنیادی روح ہے۔
صحت مند پولٹری انڈسٹری وہی ہے جو بیماریوں پر قابو پانے کے ساتھ فضلے، مردہ پرندوں اور اپنے ماحولیاتی اثرات کا بھی ذمہ دارانہ انتظام کرے۔