✍️ تحریر: محمد عاطف نسیم
ایگزیکٹو ایڈیٹر، ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز
جس مٹی سے قوم کو پیار ہوتا ہے، وہ زمین صرف پیداوار نہیں دیتی بلکہ سائنس اور خودمختاری بھی اگاتی ہے — وہ قومیں دنیا کو بدل ڈالتی ہیں!
چین ایک زندہ مثال ہے، جس نے اپنی سرزمین، وسائل اور اپنے ہی عوام کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف خوراک میں خود کفالت حاصل کی، بلکہ بایولوجیکل ویکسین، انڈسٹریل مشینری، سیٹلائٹس، اسپیس ٹیکنالوجی، ادویات، اور روزمرہ کی ہزاروں اشیاء میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ انہوں نے اپنے محققین پر اعتماد کیا، سائنسدانوں کو مقام دیا، اور پرائیویٹ سیکٹر کو ساتھ ملا کر زراعت، صنعت، صحت اور تعلیم میں کم وقت میں انقلاب برپا کر دیا۔
آج مایوسی کا عالم یہ ہے کہ لوگ یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ:
"پاکستان کی زمین بنجر ہو چکی ہے!”
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین نہیں — ہماری سوچ بنجر ہو چکی ہے۔
ہم اُن سائنسدانوں کو دیکھنے سے قاصر ہو چکے ہیں جو اسی ملک میں بیٹھ کر عالمی معیار کی تحقیق کر رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں، اور ہمارے زراعت و لائیوسٹاک کے مسائل کا مقامی حل تلاش کر رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں ہمارا حالیہ دورہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) ایک بیداری کا لمحہ ثابت ہوا۔
یہ دورہ ڈاکٹر خالد محمود شوق (چیف ایڈیٹر، ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز) کی قیادت میں ہوا، جس میں میرے (محمد عاطف نسیم) ہمراہ یاسین رندھاوا اور مشتاق احمد شامل تھے۔ ہمیں NIBGE کے ڈائریکٹرز ڈاکٹر ناصر احمد سعید کی طرف سے دعوت دی گئی کہ خود آ کر دیکھیں پاکستان کی تحقیق کس مقام تک پہنچ چکی ہے۔
یہ دورہ ڈاکٹر خالد محمود شوق (چیف ایڈیٹر، ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز) کی قیادت میں ہوا، جس میں میرے (محمد عاطف نسیم) ہمراہ یاسین رندھاوا اور مشتاق احمد شامل تھے۔ ہمیں NIBGE کے ڈائریکٹرز ڈاکٹر ناصر احمد سعید نے دعوت دی کہ آ کر اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ پاکستان کی تحقیق کس سطح پر پہنچ چکی ہے۔
دورے کا آغاز انڈسٹریل بایوٹیکنالوجی ڈویژن سے ہوا، جہاں بتایا گیا کہ NIBGE مقامی سطح پر بایوٹیکنالوجی سے متعلق مشینری نہ صرف خود ڈیزائن کر رہا ہے بلکہ ٹیکسٹائل، پولٹری، ڈیری، فارما، زراعت اور ماحولیات کے لیے Customized Biological Solutions بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس تحقیقی ٹیم میں شامل نمایاں شخصیات میں:
-
ڈاکٹر کلثوم اختر (ڈپٹی چیف سائنٹسٹ و ہیڈ آف ڈویژن)
-
ڈاکٹر سائرہ بشیر (پرنسپل سائنٹسٹ)
-
ڈاکٹر شازیہ خالق (پرنسپل سائنٹسٹ)
-
ڈاکٹر سعدیہ باجوہ (پرنسپل سائنٹسٹ)
-
ڈاکٹر اقرا (جونیئر سائنٹسٹ)
-
مس امبرین لطیف (سینئر انجینئر)
-
ڈاکٹر حضرت علی (پرنسپل سائنٹسٹ)
-
ڈاکٹر نور حسن (سینئر سائنٹسٹ)
پولٹری اور ڈیری انڈسٹری کو لاحق سب سے بڑا خطرہ خوراک میں پائے جانے والے مائیکوٹاکسنز جیسے افلاٹاکسنز اور اوکراٹاکسنز ہیں، جو جانوروں کی آنتوں، جگر، مدافعتی نظام اور پیداواری صلاحیت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔
NIBGE نے اس چیلنج کا حل دیتے ہوئے enzymes-based detoxification formula کامیابی سے تیار کر لیا ہے، جو اب "Ready-to-Use” شکل میں دستیاب ہے اور پرائیویٹ انڈسٹری کے ساتھ ٹرائلز میں شاندار نتائج دے چکا ہے۔
یہی نہیں، Streptobac Plus اور Bioinsecticide Feed Additives جیسے مقامی فارمولے تحقیق، تیاری، efficacy اور پیکجنگ سمیت تمام مراحل میں کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ NIBGE محض کاغذی تحقیقی ادارہ نہیں — بلکہ عملی میدان میں پوری طرح متحرک ہے۔
ڈاکٹر سائرہ بشیر نے بھی اپنی تحقیق پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈاکٹر سائرہ بشیر — پرنسپل سائنٹسٹ، انڈسٹریل انزائمز اینڈ بائیو فیولز گروپ، انڈسٹریل بایوٹیکنالوجی ڈویژن، NIBGE فیصل آباد — نے ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز کی ٹیم کو بتایا کہ ان کی تحقیق انڈسٹریل انزائمز کی مقامی سطح پر تیاری پر مرکوز ہے، جو ٹیکسٹائل، فیڈ، اور دیگر صنعتی شعبوں میں بایولوجیکل سلوشنز فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی پریزنٹیشن میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں انزائمز اور بائیو فیولز کے شعبے میں بڑی حد تک درآمدی انحصار ہے، لیکن NIBGE کی تحقیق نے اس فاصلہ کو کم کرنے کے لیے شاندار پیش رفت کی ہے۔ ان کے گروپ کی تحقیق نہ صرف مقامی صنعت کی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ بایو فیولز کی تیاری میں بھی نئی راہیں کھول رہی ہے، جو توانائی بحران کے حل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر سائرہ بشیر کی پریزنٹیشن نے خاص طور پر یہ واضح کیا کہ ان کی ٹیم کی تحقیق سے بننے والے انزائمز اور بائیو پروڈکٹس مقامی صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم کر سکتے ہیں اور ان کے معیار کو عالمی سطح تک لے جا سکتے ہیں۔ یہ تحقیق پاکستان کو صنعتی بایوٹیکنالوجی میں خودکفالت کی طرف لے جانے کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
ہمارے دورے کا سب سے اہم اور حساس حصہ اس وقت کی اہم ترین قومی ضرورت، یعنی منہ کھر (FMD) کی بیماری کے خلاف قائم کی گئی خصوصی عمارت کا معائنہ تھا۔ ڈاکٹر مظہر اقبال (ڈپٹی چیف سائنٹسٹ) اور ان کی ٹیم نے ہمیں ہائی ٹیک کمپاؤنڈ کے بیرونی حصے کا تفصیلی دورہ کرایا، جہاں FMD ویکسین کی تیاری کے لیے جدید ترین مشینری نصب کی جا چکی ہے۔
ہم نے وہاں نہ صرف عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور آلات کا مشاہدہ کیا، بلکہ ہیومن ریسورس کے جدید ترین رجحانات کو بھی قریب سے دیکھا، جنہیں اس منصوبے کی کامیابی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ڈاکٹر مظہر اقبال نے بتایا کہ FMD ویکسین پر تحقیق مکمل ہو چکی ہے، اور 2024 میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ باضابطہ MOU سائن کیا جا چکا ہے۔ ویکسین کے ابتدائی ٹرائلز، لیبارٹری ڈیٹا، اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے معیار پر جانچ کا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے — اب صرف بڑے پیمانے پر پروڈکشن کا عمل باقی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ ویکسین پاکستان کی ایکسپورٹ ڈیری انڈسٹری کے لیے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ منہ کھر کی بیماری کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، اور عالمی مارکیٹ میں رسائی محدود ہو جاتی ہے۔
دورے کے اختتام پر ہم نے سویابین ریسرچ پراجیکٹ کا جائزہ لیا، جہاں ڈاکٹر علی رضا کی زیرِ نگرانی جاری تجربات اور فیلڈ ہارویسٹ کا مشاہدہ ہمارے لیے نہایت حوصلہ افزا ثابت ہوا۔
ان لائنز میں مقامی موسمی حالات سے بھرپور مطابقت، بہتر پیداوار، اور جینیاتی بہتری نظر آئی — جو پاکستان کی فیڈ انڈسٹری کے لیے انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر علی رضا نے بتایا کہ یہ سویابین لائنز منظوری کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، اور ان کی کامیاب منظوری کے بعد پاکستان پہلی بار سویابین کی مقامی پیداوار کے ذریعے پولٹری و فیڈ انڈسٹری میں خود کفالت کی طرف بڑھے گا۔
فی الوقت پاکستان ہر سال تقریباً 2.5 ملین میٹرک ٹن سویابین میل درآمد کرتا ہے، جس پر اربوں روپے کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ جبکہ برازیل، امریکہ، اور ارجنٹائن جیسے ممالک اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ایکسپورٹ بھی کر رہے ہیں۔اگر پاکستان میں مقامی سطح پر سویابین کی پیداوار ممکن ہو گئی، تو نہ صرف درآمدی انحصار میں کمی آئے گی، بلکہ قومی زرعی معیشت میں بھی بہتری آئے گی — خاص طور پر فیڈ کی لاگت میں کمی، کسانوں کا منافع بڑھنے اور خوراک میں خود کفالت کی راہ ہموار ہو گی۔
— زمین نہیں، سوچ بنجر ہے!
اگر ہم تحقیق، سائنس، اور مقامی ذہانت پر اعتماد کرنا سیکھ لیں، تو نہ صرف خوراک، ویکسین، اور فیڈ میں خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے، بلکہ برآمدات، روزگار، اور قومی خودمختاری کی منزل بھی قریب آ سکتی ہے۔
آئیں! ان سائنسدانوں کا ساتھ دیں — انہیں وسائل فراہم کریں، ریسرچ اور انڈسٹری کو جوڑیں، اور پاکستان کو ایکسپورٹ بیسڈ سائنسی معیشت کی جانب لے کر جائیں۔
تحقیق صرف لیبارٹری میں کامیاب نہیں ہوتی — جب وہ کسان کے کھیت، صنعتکار کے پلانٹ، اور قوم کی پالیسی کا حصہ بن جائے، تو وہی تحقیق ایک مکمل قومی انقلاب کی بنیاد بن جاتی ہے۔
پاکستان کی زمین زرخیز ہے — مگر اب وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ کو بھی زرخیز بنائیں۔
آئیں! سائنسی دماغوں کا ہاتھ تھامیں، ان کی محنت کو منزل دیں، اور پاکستان کو تحقیق سے خودکفالت، جدت سے ترقی، اور صنعت سے خودمختاری کی طرف لے جائیں۔