بڑی مویشی آبادی، مگر فی جانور پیداوار محدود: پاکستان اپنی لائیو اسٹاک صلاحیت کو بہتر نتائج میں کیسے بدل سکتا ہے؟

پاکستان میں لائیو اسٹاک پیداوار بڑھانے کے جدید طریقے اور سائنسی حل

مومنہ محمود
ایم فل اسکالر، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، جامعہ زرعیہ فیصل آباد

ڈاکٹر محمد اسامہ
لیکچرر، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، جامعہ زرعیہ فیصل آباد

تعارف

پاکستان کی زرعی معیشت میں لائیو اسٹاک محض ایک ذیلی شعبہ نہیں بلکہ ایک مضبوط ستون ہے جس پر دیہی معیشت، غذائی تحفظ اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار قائم ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق زراعت کا قومی مجموعی پیداوار میں حصہ 23.44 فیصد رہا، جبکہ لائیو اسٹاک نے زرعی قدرِ افزائش میں 62.45 فیصد اور ملکی مجموعی پیداوار میں 14.64 فیصد حصہ ڈالا۔ اس شعبے کی سالانہ شرحِ نمو 3.75 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ساتویں زرعی مردم شماری کے مطابق ملک میں مویشیوں کی کل تعداد 251.3 ملین ہے، جس میں 55.863 ملین گائے، 47.738 ملین بھینسیں، 44.585 ملین بھیڑیں، 95.827 ملین بکریاں اور 1.511 ملین اونٹ شامل ہیں۔ اسی طرح سالانہ دودھ کی مجموعی پیداوار 74.689 ملین ٹن اور گوشت کی پیداوار 6.314 ملین ٹن تخمینہ کی گئی۔

یہ اعداد و شمار ایک بڑی قوت کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے باوجود فی جانور پیداوار، خوراک کا مؤثر استعمال، تولیدی شرح اور کسان کا خالص منافع دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

عداد کی فراوانی، مگر کارکردگی کا سوال

جامعہ زرعیہ فیصل آباد اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے ماہرین کے مطابق ملکی سطح پر فی جانور پیداوار کو جدید سائنسی طریقوں کے بغیر بڑھانا ممکن نہیں۔ اگر کامیابی کا معیار صرف مویشیوں کی تعداد ہو تو تصویر بہتر معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر پیمانہ فی جانور دودھ، باقاعدہ افزائشِ نسل اور کم لاگت میں زیادہ پیداوار ہو تو شعبے میں اصلاحات ناگزیر دکھائی دیتی ہیں۔

پیٹ بھرنا اور غذائیت پوری کرنا ایک ہی بات نہیں

مویشی کی پیداواری صلاحیت کا پہلا امتحان خوراک سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن فارم کی سطح پر “جانور کو چارہ مل رہا ہے” اور “جانور کو اس کی جسمانی اور پیداواری ضرورت کے مطابق متوازن غذائیت مل رہی ہے” دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔فیصل آباد کے 15 چھوٹے اور نیم تجارتی ڈیری فارموں پر ایک سال تک کیے گئے مطالعے میں خوراک کے خشک مادے اور خام پروٹین کی فراہمی میں فارم کی قسم اور موسم کے لحاظ سے نمایاں فرق پایا گیا۔ اسی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ فی یونٹ دودھ کے لیے خوراک کے خشک مادے کا استعمال مختلف فارموں میں یکساں نہیں تھا، اور زیادہ مؤثر انداز سے خوراک استعمال کرنے والے نظام معاشی لحاظ سے بہتر ثابت ہوئے۔ محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ گائے اور بھینسوں کو ان کی جسمانی حالت اور پیداواری ضرورت کے مطابق الگ گروپوں میں خوراک دینا خوراک کے مؤثر استعمال اور بہتر مالی منافع میں مددگار ہو سکتا ہے ۔

پاکستانی ڈیری نظام پر ایک اور جائزے کے مطابق تجارتی اور نیم تجارتی فارموں میں سبز چارہ، گندم کا بھوسا اور مرتکز خوراک عام طور پر استعمال ہوتی ہے، جبکہ مرتکز خوراک میں کپاس کی کھل، مکئی سے حاصل شدہ اجزا اور اناج کی ضمنی مصنوعات شامل ہو سکتی ہیں ۔ اسی جائزے میں بتایا گیا کہ بہت سے فارموں پر جانوروں کو ان کی دودھ کی پیداوار یا دودھ دینے کے مرحلے کے مطابق الگ خوراک نہیں دی جاتی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں چارے کی موسمی قلت کے نمایاں ادوار نومبر سے جنوری اور مئی سے جون تک بتائے گئے ہیں، اور خشک گھاس یا سائیلیج تیار کرنا اس موسمی کمی سے نمٹنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔اس لیے حل صرف یہ نہیں کہ جانور کو زیادہ خوراک دی جائے؛ زیادہ اہم یہ ہے کہ صحیح جانور کو، صحیح وقت پر، درست غذائی اجزا کے ساتھ مناسب خوراک فراہم کی جائے۔

اچھی نسل امکانات دیتی ہے، پیداوار مینجمنٹ بناتی ہے

پاکستان میں نیلی راوی جیسی معروف دودھ دینے والی بھینس نسل موجود ہے، لیکن اچھی جینیاتی صلاحیت خود بخود زیادہ پیداوار میں تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مناسب خوراک، درست افزائشِ نسل، بروقت حمل اور صحت مند تولیدی نظام ضروری ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق دریائی بھینس عموماً ایک دورِ دودھ دہی میں 1,500 سے 4,500 لیٹر تک دودھ دے سکتی ہے، مگر دیر سے پہلی بار بچہ دینا، جفتی کی موسمی نوعیت، طویل وقفۂ ولادت اور لمبا خشک دور تجارتی سطح پر پیداوار کو محدود کرنے والے اہم عوامل ہیں۔

اسی لیے نسل کی بہتری کو صرف مصنوعی نسل کشی تک محدود سمجھنا کافی نہیں۔ فارم پر یہ ریکارڈ ہونا چاہیے کہ کس جانور نے کب بچہ دیا، کتنی مرتبہ نسل کشی ہوئی، دوبارہ حمل میں کتنا وقت لگا، کتنی مدت دودھ دیا اور فی دورِ دودھ دہی پیداوار کیا رہی۔ ریکارڈ کے بغیر انتخاب اندازہ بن جاتا ہے، جبکہ ریکارڈ اسے سائنسی فیصلہ بنا دیتا ہے۔

گرمی جو صرف جانور کو نہیں، پیداوار کو بھی تھکاتی ہے

پاکستان میں موسمِ گرما کی شدت کو صرف جانوروں کی فلاح کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں؛ یہ پیداوار اور فارم کی معیشت کا بھی مسئلہ ہے۔ہارون آباد، پنجاب میں نیلی راوی بھینسوں پر کیے گئے ایک تجربے میں مختلف ٹھنڈک نظاموں کا موازنہ کیا گیا۔ جن بھینسوں کو دن میں پانچ مرتبہ اسپرنکلر کے ذریعے ٹھنڈک دی گئی، انہوں نے روایتی طور پر دن میں دو مرتبہ پانی سے ٹھنڈا کیے جانے والے گروپ کے مقابلے میں اوسطاً 3.2 کلوگرام روزانہ زیادہ دودھ دیا۔ زیادہ ٹھنڈک پانے والے جانوروں میں جسمانی درجہ حرارت، سانس لینے کی رفتار اور کورٹیسول کی مقدار بھی کم رہی۔

پاکستان میں ہولسٹین گایوں پر کی گئی ایک اور تحقیق میں مقررہ وقفوں سے ٹھنڈک دینے کے نظام نے دودھ کی پیداوار کو برقرار رکھتے ہوئے مسلسل ٹھنڈک کے مقابلے میں ٹھنڈک کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو تقریباً 90 فیصد تک کم کر دیا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سایہ، ہوا کی مناسب آمدورفت، درست وقت پر پانی اور مؤثر اسپرنکلر نظام گرمی کے دباؤ اور پانی کے ضیاع دونوں کو کم کر سکتے ہیں۔

بیماری کے بعد دوا، یا بیماری سے پہلے حفاظت؟

جب کوئی جانور بیمار ہوتا ہے تو نقصان صرف علاج کی قیمت تک محدود نہیں رہتا۔ خوراک جاری رہتی ہے، دودھ یا وزن میں اضافہ متاثر ہو سکتا ہے، تولیدی نظام میں خلل آ سکتا ہے اور کسان کی روزمرہ آمدن کم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے جدید لائیو اسٹاک مینجمنٹ کا مرکز صرف علاج نہیں بلکہ روک تھام ہونا چاہیے۔نومبر 2025 میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی کسان ورکشاپ میں متوازن خوراک، بروقت حفاظتی ٹیکہ کاری اور صاف رہائش کو پستان کی سوزش اور طفیلی بیماریوں سمیت مختلف مسائل کے خطرے کو کم کرنے اور فی جانور دودھ و گوشت کی پیداوار بہتر بنانے کے بنیادی اقدامات کے طور پر پیش کیا گیا ۔ یہ نکتہ بظاہر سادہ ہے، مگر اسی سادگی میں ایک اہم حقیقت پوشیدہ ہے: بیماری آنے کے بعد صرف دوا پہنچا دینا پیداوار کے نقصان کا پورا مسئلہ حل نہیں کرتا۔

تحقیق اگر باڑے تک نہ پہنچے تو فائدہ ادھورا رہ جاتا ہے

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ لائیو اسٹاک سائنس موجود نہیں۔ خوراک، نسل، تولید، بیماریوں کے کنٹرول، گرمی کے دباؤ اور ریوڑ کی مینجمنٹ پر جامعات اور تحقیقی اداروں میں مسلسل کام ہو رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ علم کسان کے باڑے تک کس رفتار اور کس شکل میں پہنچتا ہے۔یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، لاہور کا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹینیونگ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن مصنوعی نسل کشی، ڈیری ریوڑ مینجمنٹ، کمیونٹی لائیو اسٹاک توسیع اور جانوروں کی بیماریوں کے کنٹرول جیسے پروگرام چلاتا رہا ہے ، جبکہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد نے بھی متوازن خوراک، حفاظتی ٹیکہ کاری اور اچھی انتظامی حکمتِ عملیوں کو فی جانور پیداوار بڑھانے سے جوڑا ہے۔ اس لیے “تحقیق سے فارم تک فاصلے” کا حل محض مزید تحقیقی مقالے نہیں بلکہ مؤثر عملی توسیعی نظام ہے۔

حل کا راستہ: تعداد سے کارکردگی کی طرف سفر

پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کے مسائل پیچیدہ ضرور ہیں، لیکن ان کا حل صرف بڑے منصوبوں یا زیادہ سرمایہ کاری تک محدود نہیں۔ اصل ضرورت ایسی حکمت عملی کی ہے جو جانور، کسان اور پورے پیداواری نظام کو ایک ساتھدیکھے۔سب سے پہلی ترجیح خوراک کے نظام کو بہتر بنانا ہوگی۔ جانور کو صرف چارہ فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ اس کی عمر، وزن، دودھ کی پیداوار اور تولیدی حالت کے مطابق متوازن خوراک فراہم کرنا ضروری ہے۔ معیاری سبز چارے کی دستیابی، خشک چارے کا بہتر استعمال، سائیلیج کی تیاری، خوراک کی جانچ اور متوازن راشن کی تیاری ایسے اقدامات ہیں جو کم وسائل میں بھی پیداوار بہتر بنا سکتے ہیں۔

دوسرا اہم قدم فی جانور ریکارڈنگ کا فروغ ہے۔ اکثر چھوٹے فارموں پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا جانور کتنی پیداوار دے رہا ہے، کتنی خوراک استعمال کر رہا ہے یا اس کا تولیدی ریکارڈ کیا ہے۔ دودھ، وزن، بیماری، ویکسینیشن اور افزائشِ نسل کا سادہ ریکارڈ کسان کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

افزائشِ نسل کے شعبے میں بھی طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بہتر نسل کا انتخاب صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر نہیں بلکہ دودھ کی پیداوار، تولیدی کارکردگی اور صحت کے ریکارڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مصنوعی نسل کشی کے ساتھ ساتھ جانوروں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔جانوروں کی صحت کے حوالے سے علاج کے بجائے حفاظتی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ بروقت حفاظتی ٹیکہ کاری، طفیلی بیماریوں کا کنٹرول، صاف رہائش، مناسب صفائی اور باقاعدہ صحت کی نگرانی بیماریوں کے نقصان کو کم کر سکتی ہے۔پاکستان جیسے گرم موسم والے ملک میں گرمی کے دباؤ کو لائیو اسٹاک منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

سایہ، ہوا کی مناسب آمدورفت، صاف پانی کی دستیابی اور سائنسی بنیادوں پر ٹھنڈک کے طریقے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں فرق پیدا کر سکتے ہیں۔کسانوں کی تربیت بھی اس تبدیلی کا بنیادی ستون ہے۔ جدید معلومات اگر صرف تحقیقی مقالوں اور اداروں تک محدود رہیں تو ان کا فائدہ محدود رہتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسان کو فارم کی سطح پر چارہ سازی، متوازن خوراک، بیماریوں سے بچاؤ، تولیدی انتظام اور گرمی سے نمٹنے کی عملی تربیت دی جائے۔تحقیقی اداروں، لائیو اسٹاک محکموں اور کسانوں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنا بھی ضروری ہے۔

تجربہ گاہ سے نکلنے والی معلومات جب تک عملی فارم تک نہیں پہنچتی، تب تک اس کی مکمل معاشی قدر حاصل نہیں ہو سکتی۔آخر میں پالیسی کا رخ بھی صرف مویشیوں کی تعداد بڑھانے سے بدل کر فی جانور پیداوار، کسان کی آمدن، بیماریوں میں کمی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی طرف ہونا چاہیے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو پاکستان کی بڑی مویشی آبادی کو حقیقی معاشی طاقت میں بدل سکتی ہے۔

نتیجہ: اصل دولت مویشیوں کی گنتی نہیں، ان کی کارکردگی ہے

پاکستان کے پاس لائیو اسٹاک کے حوالے سے ایک ایسی بنیاد موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: 251.3 ملین مویشی ایک معمولی قومی اثاثہ نہیں۔ اسی طرح تقریباً 74.7 ملین ٹن تخمینی مجموعی دودھ کی پیداوار بتاتی ہے کہ یہ شعبہ پہلے ہی بڑے پیمانے پر ملکی خوراک اور معیشت میں حصہ ڈال رہا ہے۔لیکن اگلا مرحلہ صرف تعداد بڑھانے کا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک جانور بہتر خوراک کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں دودھ یا وزن پیدا کرے، اگر اس کا وقفۂ ولادت بہتر ہو، بیماری کے دن کم ہوں، گرمی کے مہینوں میں پیداوار کا نقصان محدود رہے اور کسان کو فی جانور زیادہ خالص فائدہ ملے، تو یہی حقیقی پیداواری ترقی ہے۔

پاکستان کی لائیو اسٹاک طاقت پہلے ہی ہمارے کھیتوں، دیہات اور باڑوں میں موجود ہے۔ اب ضرورت اس طاقت کو علم، غذائیت، صحت، بہتر افزائشِ نسل اور مؤثر مینجمنٹ کے ذریعے بہتر نتائج میں تبدیل کرنے کی ہے۔ ہمیں مویشیوں کی بڑی تعداد پر فخر ضرور ہونا چاہیے، مگر مستقبل کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر جانور کتنا صحت مند ہے، کتنا مؤثر پیدا کرتا ہے، اور کسان کی معیشت میں کتنی حقیقی قدر شامل کرتا ہے۔

جواب دیں