
تحریر
ڈاکٹر تسنیم احمد
سابق مشیر تحفظ نباتات و ڈائریکٹر جنرل، حکومت پاکستان
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ نے اپنے ایک لنکڈ اِن مضمون میں وفاقی حکومت کی جانب سے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے نہ کسانوں کا ساتھ دیا ہے اور نہ صارفین کا، بلکہ اس نے مارکیٹ کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق گندم کی درآمد کا فیصلہ محض مارکیٹ کو مستحکم رکھنے، عالمی قیمتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور محتاط غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
یہ دلیل بظاہر علمی اور قابلِ قبول محسوس ہوتی ہے، تاہم یہ زرعی حکمرانی کے ایک بنیادی اصول کو نظر انداز کرتی ہے: غذائی تحفظ کی بنیاد کسان کے تحفظ سے شروع ہوتی ہے۔ قومی غذائی تحفظ کی ذمہ دار حکومت اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ خوراک پیدا کرنے والوں اور مارکیٹ کی قوتوں کے درمیان غیر جانب دار تماشائی بن کر کھڑی رہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ ملک کی پیداواری صلاحیت کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی صارفین کے لیے خوراک کی مناسب قیمتوں پر دستیابی یقینی بنائے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ گندم کی درآمد بذاتِ خود درست ہے یا غلط۔ پاکستان ماضی میں بھی گندم درآمد کرتا رہا ہے اور غیر معمولی حالات میں مستقبل میں بھی اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کی ضرورت ایسے وقت کیوں پیش آئی جب حکومت نے حال ہی میں تقریباً تین کروڑ ٹن کی شاندار مقامی گندم پیداوار اور مجموعی طور پر تین کروڑ 20 لاکھ ٹن سے زائد دستیابی کا اعلان کیا تھا، جبکہ ملک کی اندازاً ضرورت تین کروڑ 14 لاکھ ٹن بتائی گئی تھی۔
اگر یہ سرکاری اعداد و شمار درست ہیں تو پھر پاکستان کی گندم کہاں غائب ہو گئی؟
یہی تضاد موجودہ بحث کی اصل بنیاد ہے۔ یا تو پیداوار کے سرکاری تخمینے درست نہیں تھے، یا اسٹریٹجک ذخائر کا انتظام ناقص رہا، یا خریداری کی پالیسی ناکام ہوئی، یا پھر مارکیٹ سے متعلق معلومات اور نگرانی کا نظام مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ ان تمام صورتوں میں مسئلہ مارکیٹ اکانومی سے زیادہ گورننس کا بنتا ہے۔
تقریباً 330 ملین امریکی ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ گندم کی درآمد پر خرچ کرنے سے پہلے حکومت پر لازم ہے کہ وہ کسانوں اور ٹیکس دہندگان کو واضح اور شفاف جواب دے۔ صوبوں نے گندم کی قلت کی اطلاعات کیوں اور کس بنیاد پر دیں؟ درآمد کا فیصلہ کس آزادانہ جائزے کے تحت کیا گیا؟ سرکاری اور نجی گوداموں میں اس وقت کتنی گندم موجود ہے؟ اسٹریٹجک ذخائر کو تاریخی طور پر کم ترین سطح تک آنے کیوں دیا گیا؟ جب تک ان سوالات کے واضح جوابات سامنے نہیں آتے، درآمد کا فیصلہ پالیسی کی ناگزیر ضرورت کے بجائے انتظامی ناکامی کے اعتراف کے طور پر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
سرکاری مؤقف میں یہ دلیل بھی پیش کی گئی ہے کہ فصل کی کٹائی کے بعد مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسانوں کو آزاد منڈی سے فائدہ ہوا۔ لیکن یہ نتیجہ پاکستان کی دیہی معیشت کی زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔ پاکستان میں گندم پیدا کرنے والے بیشتر کاشتکار چھوٹے رقبے کے مالک ہیں۔ فصل کی کٹائی کے فوراً بعد انہیں زرعی قرضے واپس کرنا ہوتے ہیں، کھاد، بیج، ڈیزل اور دیگر پیداواری اخراجات ادا کرنا ہوتے ہیں، مزدوروں کی اجرت دینی ہوتی ہے، گھر کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں اور اگلی فصل کے لیے مالی وسائل کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔
زیادہ تر چھوٹے کسانوں کے پاس نہ اتنے مالی وسائل ہوتے ہیں اور نہ مناسب ذخیرہ کرنے کی سہولت کہ وہ کئی ماہ تک گندم اپنے پاس رکھ سکیں اور قیمتوں میں اضافے کا انتظار کریں۔ اسی لیے فصل کی کٹائی کے چند ماہ بعد بڑھنے والی قیمتوں کا اصل فائدہ عام کسان کے بجائے تاجروں، گودام مالکان اور بڑے ذخیرہ اندوزوں کو پہنچتا ہے۔ بعد میں بڑھنے والی مارکیٹ قیمتوں کو کسانوں کی خوشحالی کا ثبوت قرار دینا دراصل پیدا کنندگان کے مفادات کو مارکیٹ کے درمیانی کرداروں کے مفادات کے ساتھ خلط ملط کرنے کے مترادف ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ گندم کی قیمتوں کو بتدریج عالمی قیمتوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اصولی طور پر یہ ایک قابلِ فہم مقصد ہے، لیکن عالمی برابری صرف قیمتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستانی کسان ان ممالک کے گندم پیدا کرنے والے کسانوں سے بالکل مختلف حالات میں مقابلہ کر رہے ہیں جو عالمی منڈی میں گندم برآمد کرتے ہیں۔
پاکستان میں کسان کھاد، ڈیزل، بجلی، آبپاشی، تصدیق شدہ بیج اور زرعی قرضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور غیر یقینی حالات پیداواری خطرات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ اور بہت سے ابھرتے ہوئے ممالک کے کسانوں کے برعکس پاکستانی کسانوں کو محدود ادارہ جاتی معاونت، ناکافی فصل بیمہ اور تحقیق و زرعی توسیع کے شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری کا سامنا ہے۔
جن ممالک کو آزاد منڈی کی معیشت کے بڑے علمبرداروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جن میں امریکہ، چین، بھارت اور یورپی یونین کے رکن ممالک شامل ہیں، وہ بھی اپنے اسٹریٹجک زرعی شعبوں کو سبسڈی، براہِ راست آمدنی کی معاونت، فصل بیمہ، زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری اور قابلِ پیش گوئی سرکاری خریداری پالیسیوں کے ذریعے تحفظ فراہم کرتے ہیں . پاکستانی کسانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایسی ادارہ جاتی معاونت کے بغیر صرف عالمی قیمتوں کی بنیاد پر بین الاقوامی کسانوں سے مقابلہ کریں، نہ منصفانہ ہے اور نہ معاشی طور پر پائیدار۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومتوں سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ کسان اور قیاس آرائی پر مبنی مارکیٹ کے درمیان غیر جانب دار رہیں۔ ان کی آئینی اور معاشی ذمہ داری قومی مفاد کا تحفظ ہے۔
زراعت میں قومی مفاد کا آغاز اس امر سے ہوتا ہے کہ مقامی غذائی پیداوار اتنی منافع بخش رہے کہ کسان مستقبل میں بھی فصلیں اگانے پر آمادہ اور قادر رہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صارفین کو مناسب قیمت پر خوراک ملنی چاہیے، جبکہ کم آمدنی والے اور کمزور گھرانوں کو شفاف سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے ہدفی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
لیکن کل صارفین کو سستی خوراک اسی وقت دستیاب ہو گی جب آج کسان پیداوار جاری رکھنے کے قابل اور آمادہ ہو گا۔ ایسی پالیسی جو صارفین کے تحفظ کے نام پر کسانوں کو کمزور کر دے، بالآخر کسان اور صارف دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا وقت بھی سنجیدہ جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔
فصل کی کٹائی سے فوراً پہلے یا بعد میں گندم کی درآمد کا اعلان لازماً مقامی مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور کسانوں کو معمول کے موسمی قیمت کے فوائد حاصل کرنے سے محروم یا مایوس کرتا ہے۔ ایسی پالیسی مستقبل میں گندم کی کاشت کے لیے مراعات کم کرنے کا پیغام دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کسان متبادل فصلوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتائج قابلِ پیش گوئی ہیں: مقامی گندم کی پیداوار میں کمی، درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ۔
یہ معاملہ صرف دس لاکھ ٹن درآمدی گندم کا نہیں۔ یہ پاکستان کی قومی غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی کا سوال ہے۔ پاکستان میں گندم کے مسئلے کا حل صرف درآمدات سے ممکن نہیں۔
پائیدار غذائی تحفظ کے لیے درست اور قابلِ اعتماد فصل پیش گوئی، شفاف پیداواری اعداد و شمار، قابلِ پیش گوئی سرکاری خریداری پالیسی، مناسب اسٹریٹجک ذخائر، زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری، بہتر بیجوں کا نظام، مؤثر آبپاشی، جدید ذخیرہ گاہیں اور مضبوط مارکیٹ انٹیلی جنس ناگزیر ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ کسانوں کا یہ اعتماد بحال کیا جائے کہ قومی پالیسی مقامی پیداوار کی حمایت کرے گی، اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر محض زرعی منڈیوں کے مبصر نہیں ہیں۔ وہ زراعت اور غذائی تحفظ کے حوالے سے حکومت کے اہم مشیر ہیں۔
لہٰذا ان کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیوں کی سفارش کریں جو مقامی پیداوار کو مضبوط کریں، کسانوں کا اعتماد بحال کریں اور درآمدی خوراک پر ملک کا انحصار کم کریں، نہ کہ صرف یہ وضاحت کریں کہ درآمدات کیوں ضروری ہو گئی ہیں۔حکومت کو کسان اور صارف میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ کسان اور مارکیٹ میں قیاس آرائی کرنے والے عناصر کے درمیان لاتعلق یا غیر جانب دار بھی نہیں رہ سکتی۔
جب خوراک پیدا کرنے والوں، تاجروں اور صارفین کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہو جائیں تو حکومت کی اولین ذمہ داری ملک کی پیداواری بنیاد کا تحفظ کرنا ہے۔
پاکستان کی غائب ہوتی گندم کی کہانی محض پیداوار یا قیمتوں کی کہانی نہیں۔ یہ پالیسی میں تسلسل، ادارہ جاتی جواب دہی اور زرعی حکمرانی کا معاملہ ہے۔ گندم تو کسی بھی وقت درآمد کی جا سکتی ہے، لیکن کسان کا اعتماد ایک بار ختم ہو جائے تو اسے واپس حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جو قوم آج اپنے گندم کے کاشتکاروں کا تحفظ نہیں کر سکتی، اسے بالآخر یہ احساس ہو سکتا ہے کہ اس نے صرف اپنا زرمبادلہ ہی نہیں بلکہ اپنی غذائی خودمختاری بھی قربان کر دی ہے۔