
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرپرستی اور ذاتی دلچسپی سے پاکستان اور سعودی عرب نے زرعی شعبے، غذائی تحفظ، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات آئندہ دو برسوں میں 3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن اے الفضلی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے 26 سے 28 اگست 2026 تک اسلام آباد کا دورہ کیا۔ دورے کے اختتام پر پاکستان اور سعودی عرب نے زرعی اور غذائی تحفظ کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی وفد سے ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی وفد سے ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت، غذائی تحفظ، تجارت اور سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کی۔ وفد میں سیکرٹری تجارت جواد پال، سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر اور نجی شعبے سے چاول، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ، فروٹ کنسنٹریٹس اور سبز چارے کے نمائندگان شامل تھے۔
دورے کے دوران پاکستان سعودی عرب ایگریکلچر اینڈ فوڈ اسٹریٹجک پلان پر بریفنگ دی گئی جبکہ سعودی وفد نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل، فوجی فاؤنڈیشن اور پاکستان سعودی عرب ایگری بزنس فورم کے نمائندگان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وفد نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کا بھی دورہ کیا۔
زرعی اور غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ
دونوں ممالک نے اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے ویژن 2030 کی غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کی زرعی و غذائی پیداواری صلاحیت کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات 3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور آئندہ دو سال کے دوران اس ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
چاول، سرخ گوشت، پھل، فروٹ کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال سے متعلق زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستانی چاول کی سعودی منڈی میں اہم پوزیشن
پاکستان نے 2025 میں سعودی عرب کو تقریباً 169000 ٹن چاول فراہم کیے جن کی مالیت تقریباً 163 ملین امریکی ڈالر تھی۔
سعودی وفد نے پاکستان کے ساتھ چاول کی دوطرفہ تجارت میں مزید اضافے میں دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں ممالک نجی شعبے کے ذریعے چاول کی تجارت اور ویلیو چین کو مزید مضبوط بنانے پر بھی کام کریں گے۔
پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد دوگنا کرنے میں سعودی دلچسپی
پاکستان اس وقت سعودی عرب کو سالانہ تقریباً 30000 ٹن سرخ گوشت فراہم کرتا ہے جس کی مالیت تقریباً 167 ملین امریکی ڈالر ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد کو بتدریج دوگنا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لائیو اسٹاک، میٹ پراسیسنگ، حلال گوشت اور برآمدی شعبے کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔

پاکستانی پھلوں اور فروٹ کنسنٹریٹس کے لیے مزید مواقع
دونوں ممالک نے سعودی عرب میں پاکستانی پھلوں اور فروٹ کنسنٹریٹس کی مارکیٹ میں حصے کو مزید بڑھانے کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔
نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط، خریداروں اور برآمد کنندگان کے درمیان رابطہ کاری اور معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سبز چارے اور جدید آبپاشی پر تعاون
سعودی عرب نے پاکستان کے سبز چارے کے شعبے کو طویل المدتی تجارتی شراکت داری کے لیے امید افزا قرار دیا۔
دونوں ممالک نے بھکر پنجاب میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں دلچسپی ظاہر کی۔
سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت کی بھی ترغیب دی جس کا پاکستانی فریق نے خیرمقدم کیا۔
لائیو اسٹاک اور ایگری فوڈ میں سرمایہ کاری تجاویز کا جائزہ
پاکستان کے نجی شعبے کی جانب سے لائیو اسٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین سے متعلق سرمایہ کاری تجاویز سعودی وفد کے سامنے پیش کی گئیں۔
دونوں ممالک نے ان منصوبوں پر رابطہ کاری جاری رکھنے اور ممکنہ سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے مواقع کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
سعودی ایگریکلچر نمائش میں پاکستان کی شرکت
پاکستان نے ریاض میں 19 سے 22 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والی 43ویں سعودی ایگریکلچر نمائش میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا ہے۔
دونوں ممالک نے سعودی وفد کے دورے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے طے شدہ اہداف اور باہمی مفاہمت کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔