برآمدات کے بغیر برآمدی فروغ: تجارتی نظام کے احتساب کا وقت آ گیا

برآمدات کے بغیر برآمدی فروغ: تجارتی نظام کے احتساب کا وقت آ گیا

پاکستان کی مسلسل معاشی کمزوری کو عموماً عالمی منڈی کے حالات اور بین الاقوامی معاشی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اگر صورتحال کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو اصل مسئلہ عالمی منڈی سے زیادہ ادارہ جاتی احتساب کا بحران ہے۔

ریاست نے برآمدات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سہولت کاری کے محکمے اور طاقتور ریگولیٹری ادارے قائم کر رکھے ہیں جن پر بھاری سرکاری اخراجات ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تنخواہیں اور مراعات کے باوجود ملک کی برآمدی کارکردگی ان مالی وسائل سے کوئی واضح مطابقت نہیں رکھتی۔

تجارتی خسارہ اور ترسیلاتِ زر کا مصنوعی سہارا

بنیادی معاشی اعداد و شمار ایک گہری ساختی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں:

  • سالانہ اشیائی برآمدات: تقریباً $30 ارب (جمود کا شکار)
  • سالانہ اشیائی درآمدات: $70 ارب سے زائد
  • ساختی تجارتی خسارہ: تقریباً $40 ارب سالانہ

یہ خسارہ مسابقتی حکمت عملی کے بجائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی تقریباً $41.6 ارب سالانہ ترسیلاتِ زر سے پورا کیا جا رہا ہے۔ ترسیلاتِ زر پر یہ انحصار دراصل معیشت کو مصنوعی سہارا فراہم کر کے برآمدی اداروں کو ان کی ناقص کارکردگی کے احتساب سے بچاتا ہے۔ ایک طرف اوورسیز پاکستانی محنت سے زرمبادلہ بھیجتے ہیں، تو دوسری طرف اندرونِ ملک مراعات یافتہ تجارتی بیوروکریسی بغیر ٹھوس نتائج کے وسائل کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادارہ جاتی ناکامیاں اور غیر مؤثر وسائل

پاکستان کا برآمدی شعبہ دو الگ مگر باہم مربوط ادارہ جاتی مسائل کا شکار ہے:

3. ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان

  • پارلیمانی بریفنگز کے مطابق TDAP کا سالانہ بجٹ تقریباً 2.4 ارب روپے ہے، جس کا 47 فیصد حصہ صرف تنخواہوں، الاؤنسز اور انتظامی مراعات پر خرچ ہوتا ہے۔
  • ادارے کی کارکردگی کا جائزہ تجارتی نتائج کے بجائے محض بین الاقوامی نمائشوں، وفود کی میزبانی اور بروشرز کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، جو حقیقی خریداری کے آرڈرز کے بغیر قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔

2. بیرون ملک کمرشل اتاشیوں کا نیٹ ورک

  • یورپ، شمالی امریکا، خلیجی ممالک اور دیگر مراکز میں تقریباً 60 سے 80 کمرشل قونصلرز اور تجارتی افسران تعینات ہیں۔
  • ڈالروں میں تنخواہیں، بچوں کی اسکول فیس اور رہائشی الاؤنسز کے باوجود ان مشنز کی کارکردگی رسمی سفارت کاری اور تقریبات تک محدود ہے۔ افسران کے لیے نئے خریدار لانے یا غیر محصولاتی رکاوٹیں دور کرنے کے واضح اہداف متعین نہیں ہیں۔

3. ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ

  • نجی شعبے کی مسابقت بڑھانے کے لیے قائم اس فنڈ سے اب تک 32 ارب روپے سے زائد کے منصوبے منظور کیے گئے۔
  • سرمایہ کاری پر منافع (ROI) کے اصولوں کے بجائے یہ فنڈ غیر ملکی مشاورت، سرکاری وفود اور بیوروکریٹک اخراجات کی نذر ہوتا رہا، جس کے باعث وفاقی حکومت کو اصلاحاتی مداخلت کرنا پڑی۔

ریگولیٹری رکاوٹیں اور سنگل ونڈو کے چیلنجز

ریگولیٹری اداروں مثلاً میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ، PSQCA، اور نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (NAFSA) میں ضم ہونے والے پلانٹ پروٹیکشن اور اینیمل کوارنٹین کے محکمے کا رویہ برآمدی سہولت کاری کے بجائے سست رفتار کاغذی کارروائی اور غیر ضروری جانچ پڑتال پر مبنی ہے۔

اگر بنیادی ادارے اپنی سوچ تبدیل نہ کریں تو پاکستان سنگل ونڈو (PSW) جیسا جدید ڈیجیٹل نظام بھی محض ایک اضافی تکنیکی خرچ بن کر رہ جائے گا۔

ایس آئی ایف سی (SIFC) اور برآمدی اہداف:

اعلیٰ سطح پر برآمدات کو $30 ارب سے بڑھا کر $60 یا $100 ارب تک لے جانے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اگر یہ کوششیں فوری اور تصدیق شدہ زرمبادلہ میں تبدیل نہ ہوئیں، تو یہ کونسل بھی انتظامیہ کی ایک اضافی متوازی تہہ بن جائے گی۔ توانائی کی غیر مسابقتی قیمتیں اور غیر یقینی ٹیکس پالیسیاں وقتی سہولت کاری سے حل نہیں ہو سکتیں۔

اصلاحاتی ایجنڈا: تجارتی نظام کو فعال بنانے کا راستہ

مہنگی تشہیر کے بجائے قابلِ تصدیق برآمدی ترقی کے لیے حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اقدامات نافذ کرنے ہوں گے:

  • نتائج پر مبنی فریم ورک (Performance Framework): TDAP افسران اور کمرشل قونصلرز کی مراعات اور مدتِ تعیناتی کو نئے خریداروں کی تلاش اور تجارتی معاہدوں کی مالیت سے مشروط کیا جائے۔
  • سرمایہ کاری پر منافع (ROI ٹیسٹ): برآمدی فروغ، نمائشوں اور تجارتی وفود پر خرچ ہونے والے ہر روپے کے آڈٹ کی رپورٹ عوامی سطح پر جاری کی جائے۔
  • زیرو بیسڈ ادارہ جاتی آڈٹ (Zero-Based Audit): تمام تجارتی اور ریگولیٹری اداروں کی افادیت کا جائزہ لیا جائے؛ متصادم محکموں کو ضم کیا جائے اور غیر فعال ڈھانچوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر چلنے والے تجارتی محکموں کو انہی سخت تجارتی اور مارکیٹ اصولوں کا سامنا کرنا ہوگا جن پر ملک کا نجی شعبہ عمل پیرا ہے۔

جواب دیں