
سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کورنگی میں جدید پیٹ ہسپتال، ڈائگناسٹک سینٹر، ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز، پوسٹ مارٹم سہولیات اور دیگر جدید مراکز کا افتتاح صوبے کے لائیو اسٹاک اور ویٹرنری شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کی انتظامیہ جدید انفراسٹرکچر کے قیام پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ تاہم اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان سہولیات کے فوائد مویشی پال کسانوں تک کس حد تک اور کتنی تیزی سے پہنچتے ہیں۔
جدید سہولیات کا اصل مقصد کسان کی خدمت
سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا بنیادی کردار جانوروں کی بیماریوں کی تشخیص، تحقیق، نگرانی، وبائی امراض کی روک تھام، خوراک اور دودھ کے معیار کی جانچ اور مویشی پال کسانوں کو بہتر ویٹرنری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
جدید عمارتیں اور لیبارٹریاں اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گی جب کسان کو معلوم ہو کہ ادارے سے کس نوعیت کی خدمات دستیاب ہیں اور ان تک رسائی کا طریقہ کیا ہے۔
کسانوں کے لیے یہ معلومات واضح طور پر دستیاب ہونی چاہئیں
- کون سے تشخیصی ٹیسٹ دستیاب ہیں
- بیمار جانور یا بیماری کے نمونے کہاں اور کیسے جمع کرائے جا سکتے ہیں
- کون سی خدمات مفت ہیں اور کن ٹیسٹوں کی فیس مقرر ہے
- رپورٹ حاصل کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے
- ایمرجنسی یا وبائی بیماری کی صورت میں کس سرکاری رابطہ نمبر سے مدد لی جا سکتی ہے
- دور دراز اضلاع کے کسان سہولیات سے کس طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں
- موبائل ویٹرنری سروس کن علاقوں میں دستیاب ہے
- بیماری کی تشخیص کے بعد کسان کے ساتھ فالو اپ کا نظام کیا ہوگا
جدید لیبارٹری ایک فعال سروس ہونی چاہیے
کروڑوں روپے کی لاگت سے جدید عمارتیں، لیبارٹریاں اور آلات قائم کرنا اہم ہے، لیکن ان کا اصل مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب خدمات کسان کی عملی پہنچ میں ہوں۔ لائیو اسٹاک ڈویلپمنٹ میں مرکزی حیثیت کسان کو حاصل ہونی چاہیے۔
اگر کسی فارمر کے جانوروں میں اچانک بیماری پھیل جائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ تشخیصی سہولت کہاں دستیاب ہے، نمونہ کیسے بھیجنا ہے اور کس متعلقہ افسر سے رابطہ کرنا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ادارے اور کسان کے درمیان معلومات کی واضح کمی موجود ہے۔
سندھ میں فارمر آؤٹ ریچ پروگرام کی ضرورت
حکومت سندھ کو سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کی تمام خدمات اور طریقہ کار کی معلومات سادہ اردو اور سندھی زبان میں کسانوں تک پہنچانے کے لیے باقاعدہ فارمر آؤٹ ریچ پروگرام شروع کرنا چاہیے۔
ہر ضلع کے ویٹرنری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ادارے کی خدمات کی مکمل معلومات آویزاں کی جائیں۔
- کسانوں کے لیے ایک باقاعدہ ہیلپ لائن اور واٹس ایپ رابطہ نمبر فراہم کیا جائے۔
- بیماریوں کے نمونے جمع کرنے اور متعلقہ لیبارٹری تک پہنچانے کا منظم نظام قائم کیا جائے۔
- دستیاب ٹیسٹوں، فیس اور رپورٹ کے متوقع وقت کی فہرست عوام کے لیے جاری کی جائے۔
- موبائل ویٹرنری ٹیموں کے علاقوں اور اوقات کار کی معلومات فراہم کی جائیں۔
- کیٹل کالونیوں اور بڑے لائیو اسٹاک کلسٹرز میں آگاہی کیمپس منعقد کیے جائیں۔
- کسان تنظیموں اور فارمر ایسوسی ایشنز کو ادارے کے آؤٹ ریچ نظام میں شامل کیا جائے۔
- بیماریوں سے متعلق نگرانی کی رپورٹس اور ضروری الرٹس بروقت کسانوں تک پہنچائے جائیں۔
150 موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے ساتھ فیلڈ کارکردگی بھی اہم
فیلڈ ویٹرنری اسٹاف کے لیے 150 موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کا اقدام خوش آئند ہے۔ اس کے ساتھ عوامی سطح پر یہ معلومات بھی فراہم ہونی چاہئیں کہ یہ وسائل کن اضلاع اور مراکز کو دیے گئے ہیں اور ان کے ذریعے کتنے مویشی پال کسانوں کو خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سرکاری وسائل کی کامیابی کا اصل معیار خریداری نہیں بلکہ ان وسائل کے ذریعے حاصل ہونے والی فیلڈ کارکردگی ہے۔
تحقیق کو کسان کے عملی مسائل سے جوڑنے کی ضرورت
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے تحقیق کو ہاریوں اور کسانوں کے عملی مسائل سے جوڑنے کا مؤقف اہم ہے۔ اب اس تصور کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔
سندھ کے مویشی پال کسانوں کو فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز، لمپی اسکن ڈیزیز، بروسیلوسس، ماسٹائٹس، ہیمریجک سیپٹیسیمیا، ٹک سے پھیلنے والی بیماریوں، تولیدی مسائل، بچھڑوں کی اموات اور خوراک و دودھ میں آلودگی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
تحقیق کی کامیابی صرف تحقیقی مقالوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے عملی اثرات سے ناپی جانی چاہیے۔
یہ دیکھا جانا چاہیے کہ تحقیق اور تشخیصی نظام سے بیماریوں میں کتنی کمی آئی، کتنے جانور محفوظ ہوئے، کسان کا مالی نقصان کتنا کم ہوا اور مویشیوں کی پیداوار میں کیا بہتری آئی۔
کسان کو نظام کا حقیقی شراکت دار بنایا جائے
لائیو اسٹاک سیکٹر کی اصل بنیاد وہ کسان ہے جو سال بھر اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اس لیے لائیو اسٹاک اداروں کی منصوبہ بندی، تحقیقی ترجیحات، بیماریوں پر قابو پانے کی حکمت عملی اور ایکسٹینشن سروسز میں حقیقی کسانوں اور ان کی نمائندہ تنظیموں کی شمولیت ضروری ہے۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں جدید سہولیات کا قیام قابل تعریف ہے۔ اب اگلا مرحلہ ان سہولیات کو کسان تک پہنچانے کا ہونا چاہیے۔
جدید لیبارٹری کی حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب سندھ کے کسی دور دراز علاقے یا کراچی کی کسی کیٹل کالونی میں موجود فارمر بھی اعتماد کے ساتھ سرکاری نظام سے تشخیص، علاج اور رہنمائی حاصل کر سکے۔
صرف عمارت، لیبارٹری اور افتتاح کافی نہیں۔
کسان تک آسان رسائی، بروقت تشخیص، شفاف طریقہ کار، مؤثر فیلڈ سروس اور قابل پیمائش نتائج ہی اس سرمایہ کاری کی حقیقی کامیابی ثابت ہوں گے۔
مضبوط کسان، مضبوط لائیو اسٹاک، مضبوط معیشت