
پولٹری فارمرز کے لیے اس میں سیکھنے کو کیا ہے؟
دسمبر 2025 میں پاکستان کی پولٹری مارکیٹ ایک مضبوط مرحلے میں نظر آ رہی تھی۔ لیئر فارمرز کو انڈوں کی ایک کریٹ کا تقریباً 10,000 روپے تک مل رہا تھا اور انڈسٹری میں امید کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔ کئی لوگوں کو لگا کہ مشکل وقت کے بعد پولٹری سیکٹر دوبارہ استحکام کی طرف جا رہا ہے۔ لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ صرف چند ہفتوں کے اندر مارکیٹ نے اچانک رخ بدل لیا۔ فروری کے آخر اور مارچ 2026 تک یہی کریٹ کئی مارکیٹس میں تقریباً 5,200 روپے یا اس سے بھی کم قیمت پر آ گئی۔ یعنی آمدنی تقریباً آدھی رہ گئی۔
بہت سے فارمرز کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے۔ فارم کے اخراجات اپنی جگہ موجود ہیں، فلوکس مکمل پیداوار میں ہیں، فیڈ، لیبر اور دیگر اخراجات مسلسل جاری ہیں، لیکن مارکیٹ ریٹرن اچانک گر گیا۔ ایسے میں عام طور پر الزام تاجروں یا مارکیٹ کے نظام پر آ جاتا ہے۔ لیکن شاید اس بحران کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک اور بنیادی سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم نے اس سائیکل سے کبھی واقعی کچھ سیکھا ہے؟
ایک ہی سائیکل بار بار کیوں خود کو دہراتا ہے؟
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کئی سالوں سے تقریباً ایک ہی چکر میں گھوم رہی ہے۔ قیمتیں بڑھتی ہیں تو فارمرز پیداوار بڑھا دیتے ہیں، فلوکس بڑھا دیے جاتے ہیں اور مارکیٹ میں سپلائی زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب سپلائی طلب سے زیادہ ہو جائے تو قیمتیں گر جاتی ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد یہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ حالیہ بحران بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
جب سردیوں میں قیمتیں اوپر گئیں تو فارمرز نے اپنے لیئر فلوکس کو مکمل رکھا اور پیداوار جاری رکھی۔ لیکن پولٹری کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مرغیاں اچانک انڈے دینا بند نہیں کر سکتیں۔ جب تک مارکیٹ میں طلب کم ہونا شروع ہوئی، تب تک مارکیٹ میں انڈوں کی سپلائی پہلے ہی زیادہ ہو چکی تھی۔ اور جب سپلائی طلب سے زیادہ ہو جائے تو قیمتوں کا گرنا ایک قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔
عالمی حالات اور پولٹری مارکیٹ
حالیہ بحران کو صرف مقامی سپلائی اور ڈیمانڈ کے تناظر میں دیکھنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ دنیا میں جاری جغرافیائی اور سیاسی کشیدگیاں بھی پاکستان کی معیشت اور مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں خطے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی نے سرحدی تجارت اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو متاثر کیا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں فی لیٹر فیول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے اضافہ ہوا ہے اور اب قیمت تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس اضافے نے ٹرانسپورٹ، فیڈ کی سپلائی اور مارکیٹ تک رسائی کے اخراجات کو بڑھا دیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس مہنگائی نے عام صارف کی خریداری کی طاقت کو مزید کم کر دیا ہے۔ جب عام آدمی کی آمدنی کا بڑا حصہ پہلے ہی پٹرول، بجلی اور روزمرہ ضروریات پر خرچ ہو رہا ہو تو خوراک کی کھپت بھی متاثر ہوتی ہے۔ انڈہ، جو کہ ایک اہم پروٹین سورس ہے، اس کی طلب میں کمی آنا بھی ایک قدرتی عمل ہے۔
سیزنل عوامل کا کردار
پولٹری مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں سیزنل عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر:
- سردیوں میں انڈوں کی طلب زیادہ ہوتی ہے
- رمضان میں طلب میں کمی آتی ہے
- گرمیوں کے آغاز پر بھی کھپت کم ہو جاتی ہے
اسی طرح اسکولوں کی تعطیلات، شادیوں کے سیزن، شہری اور سیاحتی سرگرمیوں میں کمی بیشی بھی کھپت کو متاثر کرتی ہے۔ نتیجتاً مارکیٹ میں سپلائی زیادہ اور طلب کم ہو جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
کیا فارمر اپنے ڈیٹا سے کچھ سیکھ رہے ہیں؟
پولٹری فارمنگ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں تاریخی ڈیٹا بہت اہم ہوتا ہے۔ ہر فارم کے پاس اپنے پچھلے کئی سالوں کا ڈیٹا ہونا چاہیے، جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ:
- کن مہینوں میں قیمتیں عام طور پر زیادہ ہوتی ہیں
- کن سیزنز میں طلب کم ہوتی ہے
- کس وقت فلوکس کی پلاننگ زیادہ مناسب ہوتی ہے
- کس مرحلے پر لاگت زیادہ بڑھ جاتی ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں بہت سے فارمرز کے پاس اپنا درست تاریخی ڈیٹا ہی موجود نہیں ہوتا۔ اگر کسی فارمر کے پاس پچھلے 5 یا 10 سال کا درست ریکارڈ کسی سسٹم میں موجود ہو تو وہ آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ مارکیٹ کے سائیکل کب اوپر جاتے ہیں اور کب نیچے آتے ہیں۔ لیکن جب ڈیٹا ہی موجود نہ ہو یا ڈیٹا صرف مینوئل رجسٹرز پر ہو تو فیصلے اکثر اندازوں یا مارکیٹ کی افواہوں پر کیے جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ
مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ دنیا بھر کی زراعت اور لائیو اسٹاک انڈسٹری کا حصہ ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ فارمر اس صورتحال کو کس حد تک سنبھالنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ جب عالمی حالات، فیول کی قیمتیں، مہنگائی اور صارفین کی کمزور ہوتی ہوئی خریداری کی طاقت مارکیٹ کو متاثر کر رہی ہو تو ایسے وقت میں فارم کے اندر کارکردگی اور لاگت پر کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بہت سے پولٹری فارمز آج بھی روایتی انداز میں چل رہے ہیں۔ ریکارڈ اکثر رجسٹروں میں رکھا جاتا ہے، ڈیٹا بروقت دستیاب نہیں ہوتا، اور پروڈکشن و لاگت کا درست تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً، جب مارکیٹ میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو فارمر کے پاس درست معلومات اور فوری فیصلے کرنے کے لیے ضروری ڈیٹا موجود نہیں ہوتا۔
بہت سے فارم مالکان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ:
- فی انڈہ اصل لاگت کیا ہے
- فیڈ ایفیشنسی کی حقیقی صورتحال کیا ہے
- فارم میں نقصان کہاں سے شروع ہو رہا ہے
یوں لاکھوں روپے کی فارمنگ اکثر اندازوں، تجربات اور مارکیٹ کی خبروں پر چل رہی ہوتی ہے۔
پولٹری فارمنگ کا اگلا مرحلہ
آج کے دور میں پولٹری فارم صرف شیڈ اور مرغیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک پیچیدہ بائیولوجیکل اور مالیاتی نظام بن چکا ہے۔ اس نظام کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے صرف تجربہ کافی نہیں بلکہ درست ڈیٹا، تجزیہ اور جدید مینجمنٹ ٹولز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں پولٹری فارمنگ تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ڈیجیٹل پولٹری مینجمنٹ سسٹمز فارمرز کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ وہ:
- فارم کی کارکردگی کو ریئل ٹائم میں دیکھ سکیں
- فی برڈ اور فی انڈہ درست لاگت معلوم کر سکیں
- بیماری، فیڈ یا پروڈکشن کے مسائل کو ابتدائی مرحلے میں پہچان سکیں
- فیڈ، لیبر اور دیگر وسائل کا بہتر استعمال کر سکیں
- مشکل مارکیٹ حالات میں بروقت اور بہتر فیصلے کر سکیں
جب مارکیٹ میں قیمتیں گر رہی ہوں تو ایسے سسٹمز فارمر کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کہاں لاگت کم کی جا سکتی ہے، کہاں کارکردگی بہتر کی جا سکتی ہے اور کہاں غیر ضروری اخراجات کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ سسٹمز مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو ختم نہیں کرتے، لیکن یہ فارمر کو بھاری نقصانات سے بچنے اور کاروبار کو زیادہ مستحکم بنانے کی صلاحیت دیتے ہیں۔
مستقبل کس کا ہے؟
پولٹری مارکیٹ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گی۔ قیمتیں کبھی اوپر جائیں گی اور کبھی نیچے آئیں گی۔ لیکن آنے والے وقت میں کامیاب وہی فارمر ہوگا جو صرف پیداوار بڑھانے پر نہیں بلکہ کارکردگی، لاگت کنٹرول اور ڈیٹا پر مبنی مینجمنٹ پر توجہ دے گا۔ کیونکہ آج کی پولٹری فارمنگ میں اصل طاقت صرف مرغیوں کی تعداد میں نہیں بلکہ درست معلومات، بہتر آپریشنل مینجمنٹ اور بروقت فیصلہ سازی میں ہے۔ وہ فارمر جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید مینجمنٹ سسٹمز اور مؤثر آپریشنل حکمت عملی کو اپنائیں گے، وہی مستقبل میں زیادہ مستحکم اور منافع بخش فارمنگ کر سکیں گے۔
تحریر
فرحان مرتضیٰ
چیف ایگزیکٹو آفیسر
Insight Avian