بکریوں میں معدے کی تیزابیت ایک خطرناک بیماری

بکریوں میں معدے کی تیزابیت خطرناک بیماری، بروقت علاج ضروری

ڈاکٹر محمد افضل

سیالکوٹ (نمائندہ خصوصی) ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سمبڑیال ڈاکٹر محمد افضل نے کہا ہے کہ بکریوں میں معدے کی تیزابیت ایک سنگین اور خطرناک بیماری ہے، جس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جانور کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے فارمرز کو ہدایت کی کہ بیماری کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری اقدامات کریں تاکہ قیمتی جانوروں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ موجودہ موسم میں بکریوں کو زیادہ مقدار میں چارہ، ونڈا یا دانہ کھلانے سے معدے میں تیزابیت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جب بکری اچانک زیادہ مقدار میں گندم، مکئی یا ونڈا کھا لیتی ہے تو معدے میں لیکٹک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو جانور کے نظامِ ہضم کو شدید متاثر کر کے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بکریوں میں معدے کی تیزابیت کی اہم علامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر بکری اچانک چرنا اور جگالی کرنا چھوڑ دے، پیٹ کے بائیں جانب واضح اپھارہ محسوس ہو، پتلے اور شدید بدبودار موشن شروع ہو جائیں، آنکھیں اندر کو دھنس جائیں، جانور لڑکھڑا کر چلنے لگے یا زیادہ تر لیٹا رہے، اور شدید تکلیف کے باعث منہ سے رال یا جھاگ بہنے لگے تو فوری طور پر احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔

ڈاکٹر محمد افضل نے بتایا کہ اس بیماری کے ابتدائی علاج کے لیے میٹھا سوڈا انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ بکری کو 50 سے 80 گرام میٹھا سوڈا نیم گرم پانی میں ملا کر پلایا جا سکتا ہے، جو معدے کی تیزابیت کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ فوری طور پر ونڈا اور دانہ بند کر کے صرف خشک گھاس یا بھوسہ دیا جائے تاکہ معدے پر دباؤ کم ہو سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر میٹھا سوڈا دستیاب نہ ہو تو 4 سے 5 گرام مگنیشیم ہائیڈرو آکسائیڈ پانی میں ملا کر پلایا جا سکتا ہے۔ دیسی علاج کے طور پر 50 گرام سونف، 50 گرام اجوائن اور 50 گرام کالا نمک ملا کر اس کا ایک بڑا چمچ روزانہ دینا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

انہوں نے فارمرز کو تاکید کی کہ اگر بکری کی حالت زیادہ خراب ہو جائے، جانور کھڑا نہ ہو پا رہا ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو تو خود سے تجربات کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا متعلقہ ہیلپ لائن سے مدد حاصل کریں، تاکہ بروقت علاج سے جانور کی جان بچائی جا سکے۔