اسٹیٹ بینک آف پاکستان فیصل آباد میں ایگریکلچر فنانس گروپ کا اجلاس
فیصل آباد (نمائندہ ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز) —
اسٹیٹ بینک آف پاکستان فیصل آباد میں ایگریکلچر فنانس گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف منیجر محترمہ فوزیہ اسلم نے کی۔ اجلاس میں مختلف کمرشل بینکوں کے ایگزیکٹیو ایگریکلچر کریڈٹ افسران، ماہرینِ زراعت، اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد کسان ڈے کے تحت زرعی قرضہ جات کی تقسیم، فنانسنگ اسکیموں کی پیش رفت، اور بینکوں کے درمیان کوآرڈی نیشن کے فروغ کا جائزہ لینا تھا۔
شرکائے اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر مہرالنساء، حافظ سعد بن مصطفیٰ، ڈاکٹر خالد محمود شوق، عاطف نسیم، ڈاکٹر خالد محمود (ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن فیصل آباد)، اور پروفیسر ڈاکٹر نوید احمد سمیت دیگر ممتاز ماہرین شامل تھے۔
قرضہ جات کی تقسیم (جولائی 25 تا اکتوبر 25) — فیصل آباد ریجن
کل قرضے: 9,645 — بینک آف پنجاب سب سے آگے: 8,233 —
دوسری پوزیشن: MCB اسلامی 586 —
دیگر نمایاں: HBL 366، NSBP 145 وغیرہ۔
اس کے علاوہ بینکوں کے نمائندگان میں حبیب بینک لمیٹڈ، میزان بینک لمیٹڈ)، نیشنل بینک آف پاکستان، الائیڈ بینک لمیٹڈ (ABL)، زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL)، بینک آف پنجاب (BoP)، فیصل بینک، بینک الفلاح، یو بی ایل اور دیگر بینکوں کے نمائندگان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں کسان فورمز کی کارکردگی، کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر، بینک ریپورٹنگ میکانزم، اور زرعی قرضہ جات تک براہِ راست کسانوں کی رسائی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے سفارش کی کہ زرعی بینکنگ نظام کو ڈیجیٹل اور آسان تر بنایا جائے تاکہ کسان براہِ راست مستفید ہو سکیں۔ اجلاس میں زرعی قرضوں کی شفاف تقسیم، فلاحی کسان فورمز کی کارکردگی، اور کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر کے فروغ کے لیے پالیسی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
شرکاء نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرعی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور سفارش کی کہ زرعی فنانس تک کسانوں کی براہِ راست رسائی کو مزید آسان بنایا جائے۔
چیف منیجر محترمہ فوزیہ اسلم نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان زرعی فنانسنگ کو قومی ترجیح سمجھتا ہے، اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ سال میں دو اجلاس منعقد کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے نظام کو ڈیجیٹل اور آسان تر بنانے کے ایجنڈے کے مطابق ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور جلد ہی ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں تمام ماہرین، اسٹیک ہولڈرز اور کسان نمائندگان کو جامع تفصیلی مشاورت کے لیے مدعو کیا جائے گا۔