
معروف ویٹرنری سرجن ڈاکٹر رضوان بشیر کی طالب علمی، پیشہ ورانہ جدوجہد، جراحی کی مہارت اور علم بانٹنے کے جذبے پر ان کے کلاس فیلو ڈاکٹر طلحہ خالد کی چلبلی، بے تکلف اور یادوں سے بھرپور تحریر
یہ محض ایک نامور ویٹرنری سرجن کا تعارف نہیں بلکہ دو کلاس فیلوز کی کئی دہائیوں پر محیط رفاقت، طالب علمی کی شرارتوں، دلچسپ عرفیتوں، پیشہ ورانہ جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک زندہ داستان ہے۔ ڈاکٹر طلحہ خالد نے اپنے مخصوص شگفتہ، بے تکلف اور قدرے طنزیہ انداز میں ڈاکٹر رضوان بشیر کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جو عام طور پر رسمی تعارفی مضامین میں سامنے نہیں آتے۔
مصنف کا تعارف
ڈاکٹر طلحہ خالد، ڈاکٹر رضوان بشیر کے ڈی وی ایم کلاس فیلو ہیں۔ انہوں نے یہ تحریر طالب علمی کی مشترکہ یادوں، ذاتی مشاہدات اور ڈاکٹر رضوان بشیر کے طویل پیشہ ورانہ سفر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے مخصوص چلبلی، شگفتہ اور بے تکلف انداز میں تحریر کی ہے۔
پاکستان کے ویٹرنری شعبے میں ایسے ماہرین کی تعداد زیادہ نہیں جنہوں نے محدود وسائل، مسلسل ذاتی محنت اور عملی تجربے کے ذریعے اپنے فن میں غیر معمولی مقام حاصل کیا ہو۔ ڈاکٹر رضوان بشیر انہی چند نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔ انہیں پاکستان کی ویٹرنری فیلڈ کا صف اول کا لائیوسٹاک سرجن اور ویٹرنری جراحی کا ایک ’’لیونگ لیجنڈ‘‘ قرار دیا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہو۔
راقم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے کلیہ بیطاری میں اسی سیشن کے ساتھ ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن میں داخلہ لیا جس سے کئی باصلاحیت افراد سامنے آئے۔ ان طلبہ نے بعد میں اپنے منتخب شعبوں میں نمایاں مقام بنایا۔ ڈاکٹر رضوان بشیر بھی انہی تراشیدہ ہیروں میں سے ایک ہیں۔
طالب علمی، دوستیاں اور دلچسپ عرفیتیں
ہمارے سیشن میں ایک ہی نام کے متعدد طلبہ موجود تھے۔ رضوان نام کے بھی تین طالب علم تھے۔ کلاس میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا ایک پنجابی نژاد، بزلہ سنج اور حاضر جواب نوجوان بھی موجود تھا، جو دوستوں کو عرفیت دینے میں خاص مہارت رکھتا تھا۔ اس نے تینوں رضوانوں میں فرق کرنے کے لیے انہیں ’’مولوی، پہلوان اور موٹے‘‘ کی عرفیتیں دے دیں تاکہ رضوان کہنے پر تینوں بیک وقت متوجہ نہ ہو جائیں۔
ڈاکٹر رضوان بشیر کو جاننے والے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں سے کون سی عرفیت ان کے حصے میں آئی ہوگی۔
کلاس میں دو دوسرے ہم ناموں کی تفریق کے لیے اسی دوست نے علم تشریح الاعضا، یعنی ایناٹمی، کی دو اصطلاحات ’’کرینیل‘‘ اور ’’کاڈل‘‘ مستعار لیں۔ خود اسے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک اور حاضر جواب کلاس فیلو نے اس کی جسامت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’پھٹے‘‘ کی عرفیت دی۔ جواباً اس نے اپنے اس دوست کو ’’ریوڑی‘‘ کہنا شروع کر دیا۔ یہ عرفیتیں اس دور کی بے تکلفی، دوستی اور طالب علمانہ زندگی کی خوب صورت یادیں ہیں۔
لاہور سے فیصل آباد کی طرف ہجرت
ڈاکٹر رضوان بشیر کا ابتدائی داخلہ لاہور کے کالج آف ویٹرنری سائنسز، جسے روایتی طور پر ’’گھوڑا کالج‘‘ بھی کہا جاتا تھا، میں ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فیصل آباد کو مزاحاً ایک بڑا گاؤں سمجھا جاتا تھا اور لوگ شہر کی رونقیں اور روشنیاں دیکھنے کے لیے لاہور کا رخ کرتے تھے۔
تاہم ڈاکٹر رضوان بشیر نے لاہور سے اپنی مائیگریشن فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس، جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں کروا لی۔ ان کے مطابق اس منتقلی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ فیکلٹی میں ان کی دوستیاں سینئر طلبہ کے ساتھ تھیں۔
میری نظر میں شاید یہ ہجرت اس لیے بھی ہوئی کہ فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس فیصل آباد کو مستقبل میں یہ اعزاز حاصل ہونا تھا کہ عصر حاضر کا ایک ممتاز ویٹرنری سرجن اس ادارے سے فارغ التحصیل ہوا۔
ہمارا اور رضوان بشیر کا ساتھ تیسرے سمسٹر سے شروع ہوا۔ وہ کلاس میں شامل ہوتے ہی اس طرح گھل مل گئے جیسے پہلے دن سے اسی سیشن کا حصہ ہوں۔ ڈگری مکمل ہونے تک وہ کلاس کے تقریباً ہر اہم فیصلے اور اجتماعی سرگرمی میں شریک رہے۔
طالب علم سے ماہر جراح تک کا سفر
اگر زمانہ طالب علمی کے رضوان بشیر کا آج کے ممتاز سرجن ڈاکٹر رضوان بشیر سے موازنہ کیا جائے تو اُس وقت ان میں جراحی کے لیے کوئی غیر معمولی شغف نمایاں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ بھی دیگر طلبہ کی طرح جراحی کے مضامین پاس کرنے کے لیے روایتی تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے۔
تاہم کسی مرحلے پر انہوں نے جراحی کے شعبے کے سربراہ کی توجہ اور اعتماد حاصل کر لیا۔ ہمارے زمانے میں شعبہ جراحی کے سربراہ ایک اعلیٰ پائے کے سرجن تھے، اگرچہ طلبہ کو براہ راست اور بھرپور عملی تربیت کے مواقع محدود ہوا کرتے تھے۔
ہم نے رضوان بشیر کو اس وقت کوئی خصوصی تربیت حاصل کرتے ہوئے تو نہیں دیکھا، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے دانستہ یا نادانستہ اپنے استاد کی علمی روایت سے کوئی ایسا اثر قبول کر لیا جو وقت کے ساتھ ان کی شخصیت اور پیشہ ورانہ زندگی میں رنگ لاتا گیا۔ یہی اثر، مسلسل محنت اور عملی میدان کے تجربات سے مل کر انہیں پاکستان کے نمایاں ویٹرنری سرجنز کی صف میں لے آیا۔
یہ مقام انہیں کسی ایک استاد، ایک ادارے یا ایک تعلیمی ڈگری نے نہیں دیا۔ اس کامیابی کے پیچھے ان کی ذاتی محنت، مسلسل کاوش، بہتر سے بہتر کام کی جستجو، نئے طریقے سیکھنے کی خواہش اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کا جذبہ نمایاں ہے۔
سرکاری ملازمت اور پیشہ ورانہ ترقی
ڈاکٹر رضوان بشیر نے اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز راولپنڈی کے ایک ویٹرنری ہسپتال سے گریڈ 17 کے افسر کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت کے معمول کے مطابق ان کی مختلف مقامات پر تعیناتیاں ہوتی رہیں۔
متعدد ذمہ داریاں اور عہدے سنبھالتے ہوئے وہ آج گریڈ 19 کے افسر ہیں۔ ان کے مطابق سول ویٹرنری ہسپتال سیالکوٹ میں ان کی موجودہ تعیناتی ممکنہ طور پر ان کے ملازمت کے سفر کی آخری پوسٹنگ ہوگی اور وہ یہیں سے ریٹائرمنٹ لیں گے۔
ملازمت کے ابتدائی دور کے بارے میں وہ خود دلچسپ انداز میں کہتے ہیں کہ ابتدا میں انہیں آپریشن کے لیے چیرا لگانے یا جسم کھولنے کا شوق نہیں تھا بلکہ ٹانکے لگانے کا شوق تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس دور میں بڑی جراحیاں خال خال ہوتی تھیں اور یہ معلوم نہیں کہ وہ ٹانکے لگانے کا شوق کہاں پورا کرتے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ٹانکے لگانے کے ساتھ ان میں جراحی کے ذریعے بیماری کی اصل وجہ تک پہنچنے، پیچیدہ کیس کھولنے اور انہیں کامیابی سے مکمل کرنے کا رجحان بھی پیدا ہوا۔ انہوں نے اس صلاحیت کو دبانے یا اپنے آرام دہ دائرے میں محدود رہنے کے بجائے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے تن اور من سے اپنی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کیا۔ جب محنت، لگن اور تجربہ اکٹھے ہوئے تو مالی قدر بھی ان کے فن سے وابستہ ہوگئی۔ آج وہ اپنی جراحی کی جو پیشہ ورانہ فیس لیتے ہیں، وہ پاکستان کے ویٹرنری پروفیشن کے لیے باعث فخر ہونی چاہیے، کیونکہ کسی ویٹرنری سرجن کے فن کی مناسب مالی قدر پورے شعبے کی قدر و منزلت میں اضافہ کرتی ہے۔
علم کو آگے منتقل کرنے کا جذبہ
ڈاکٹر رضوان بشیر کی سب سے نمایاں خوبی صرف ان کی جراحی کی مہارت نہیں بلکہ اس علم کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا جذبہ بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ذاتی محنت سے کسی فن میں مہارت حاصل کر لیتا ہے، لیکن وہ اسے دوسروں کو منتقل نہیں کرتا۔ بعض لوگ اپنی زندگی بھر کی مہارت اپنے ساتھ ہی لے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رضوان بشیر نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔
وہ انٹرن شپ کے لیے آنے والے طلبہ اور نوجوان ویٹرنری گریجویٹس کو خلوص کے ساتھ سکھاتے ہیں۔ ان کا عملی پیغام یہ ہے کہ نئی نسل کو وہاں سے سیکھنے کا آغاز نہیں کرنا چاہیے جہاں سے انہوں نے کیا تھا، بلکہ انہیں وہ علم اور تجربہ منتقل کیا جانا چاہیے جو کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد حاصل ہوا۔
وہ نوجوانوں کو صرف جانوروں کا عمومی علاج نہیں سکھاتے بلکہ انہیں جراحی کے بنیادی اور پیچیدہ طریقوں سے بھی واقف کرتے ہیں۔ ان کے پاس تربیت حاصل کرنے والا طالب علم ایک معالج اور سرجن دونوں حیثیتوں سے عملی اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔
ملک میں ملازمتوں کی محدود صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ تربیت مزید اہم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر رضوان بشیر کے پاس تربیت حاصل کرنے والے نوجوان علاج اور جراحی کا ایک نسبتاً مکمل عملی پیکج لے کر نکلتے ہیں۔ وہ بعد میں اعتماد کے ساتھ اپنا کلینک قائم کر سکتے ہیں اور ذاتی کاروبار کے ذریعے نہ صرف روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ مویشی پال کسانوں کو بہتر خدمات بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
وسائل سے زیادہ ذاتی محنت کی اہمیت
چونکہ راقم ڈاکٹر رضوان بشیر کا کلاس فیلو اور اسی مادر علمی کا فارغ التحصیل ہے، اس لیے وہ اُس دور میں فیکلٹی کے مختلف شعبوں میں دستیاب سہولتوں، تدریسی معیار، اساتذہ کی ترجیحات، نظری تعلیم، عملی تربیت، نصاب اور انتظامی رویوں سے بخوبی واقف ہے۔
وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کسی بھی شعبے میں نمایاں مقام بنانے والے فرد کی کامیابی میں ادارے کے وسائل کا کتنا حصہ تھا اور اس کی اپنی محنت، ذاتی استعداد اور عملی جدوجہد کا کتنا کردار رہا۔
ڈاکٹر رضوان بشیر کی کامیابی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ وسائل کی کمی انسان کی پیشہ ورانہ ترقی کو مشکل تو بنا سکتی ہے لیکن ناممکن نہیں۔ مسلسل جدوجہد سے انسان سب کچھ حاصل نہ بھی کر سکے تو بہت کچھ ضرور حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں میں اضافہ صرف سرکاری کورسز یا رسمی تربیت کے ذریعے نہیں کیا بلکہ فیلڈ کے ہر کیس کو ایک سبق سمجھا۔ یہی جستجو انہیں ایک عام ویٹرنری افسر سے ممتاز جراح بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی۔
پیشہ ورانہ لباس اور ایک دوستانہ مشورہ
ڈاکٹر رضوان بشیر زمانہ طالب علمی میں بھی خوش لباس تھے اور آج بھی اپنی شخصیت اور لباس کا خیال رکھتے ہیں۔ تاہم فیلڈ میں بڑے جانوروں کی جراحی کے دوران ان کا انداز بعض اوقات ضرورت سے زیادہ بے تکلف ہو جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ بڑے جانوروں کو قابو کرنا، دیہی ماحول میں آپریشن کرنا اور مشکل حالات میں جراحی انجام دینا انتہائی محنت طلب کام ہے۔ ایسے ماحول میں پینٹ شرٹ یا نفیس کاٹن کے لباس میں کام کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن پرانی شلوار کو اوپر کر کے اور بنیان میں جراحی شروع کر دینا ان کی شخصیت، مہارت اور فن کی پیشہ ورانہ عظمت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اگر وہ جراحی کے دوران مناسب ڈانگری، حفاظتی لباس، دستانے اور گم بوٹس استعمال کریں تو وہ نہ صرف فنی مہارت بلکہ بائیوسکیورٹی، ذاتی حفاظت اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے حوالے سے بھی نوجوان ویٹرنری ڈاکٹرز کے لیے ایک مکمل رول ماڈل بن سکتے ہیں۔
اس تبدیلی سے ان کی نیک نامی اور وقار میں مزید اضافہ ہوگا اور مجموعی طور پر ویٹرنری پروفیشن کی عزت بھی بڑھے گی۔ اس کے لیے صرف انہیں اپنے روایتی اور آرام دہ طریقہ کار سے کچھ آگے بڑھنا ہوگا۔
تجربات کو کتابی شکل دینے کی ضرورت
جب بھی میری ڈاکٹر رضوان بشیر سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ ان کے پاس یقیناً اپنے اہم جراحی کیسز کی تصاویر اور ویڈیوز کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہوگا۔
انہیں چاہیے کہ کچھ وقت نکال کر ان کیسز کی تفصیلات قومی زبان اردو میں قلم بند کریں۔ ہر کیس کے ساتھ جانور کی تاریخ، بیماری کی علامات، تشخیص، اختیار کیا گیا جراحی طریقہ، دوران آپریشن مشکلات، بعد از آپریشن نگہداشت اور حتمی نتیجہ بیان کیا جائے۔
اس مواد کو تصاویر کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا جا سکتا ہے۔ ایسی کتاب ویٹرنری طلبہ، فیلڈ ویٹرنیرینز، لائیوسٹاک فارمرز اور جراحی میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ایک اہم عملی حوالہ ثابت ہوگی۔
اس منصوبے میں ان کا وقت، محنت اور سرمایہ ضرور لگے گا، لیکن اسے ایک معیاری پیشہ ورانہ کتاب، تربیتی کورس یا ڈیجیٹل تعلیمی مواد کی شکل دے کر مالی طور پر بھی فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔ یوں ان کی علمی محنت، عملی تجربہ اور مالی فائدہ ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا ہو سکتے ہیں۔
جامعات کو ان کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہیے
ڈاکٹر رضوان بشیر اپنی محنت، تجربے اور عملی مہارت کی بدولت ایک ایسا قومی پیشہ ورانہ سرمایہ بن چکے ہیں جسے ویٹرنری جامعات اور تدریسی اداروں کو ضرور استعمال کرنا چاہیے۔
جامعات انہیں وزٹنگ فیکلٹی، گیسٹ سرجن یا عملی تربیت فراہم کرنے والے ماہر کے طور پر مدعو کر سکتی ہیں۔ وہ طلبہ کو بڑے جانوروں کی جراحی، فیلڈ اینستھیزیا، زخموں کی مینجمنٹ، قبل و بعد از آپریشن نگہداشت، آلات کے مؤثر استعمال اور محدود وسائل میں سرجری کے عملی طریقے سکھا سکتے ہیں۔
ماضی میں میں نے کوشش کی کہ کم از کم فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس، جامعہ زرعیہ فیصل آباد کا شعبہ جراحی ان کی مہارت سے فائدہ اٹھائے، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
اس کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ شاید جامعات کے شعبہ جراحی سے وابستہ بعض افراد فیلڈ کے ایک ماہر کو اپنے مقابل سمجھتے ہوں، شاید ادارہ جاتی طریقہ کار رکاوٹ بنتا ہو یا شاید یہ خدشہ ہو کہ ڈاکٹر رضوان بشیر کی عملی تربیت کا معیار طلبہ کی توقعات کو ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔
لباس کے حوالے سے کوئی خدشہ ہو تو راقم یہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہے کہ ڈاکٹر رضوان بشیر جامعہ کے تدریسی ماحول اور لباس کے مقررہ پروٹوکول کا مکمل خیال رکھیں گے۔ وہ ڈانگری اور حفاظتی لباس میں بھی اسی مہارت کے ساتھ جراحی کر سکتے ہیں جس مہارت کے ساتھ وہ فیلڈ کے روایتی ماحول میں کرتے ہیں۔
ایک فرد جو اپنی ذات میں ادارہ بن گیا
ایک جانب جامعات اور تدریسی ادارے تمام تر سرکاری وسائل، لیبارٹریز، ہسپتالوں، فیکلٹی اور بجٹ کے ساتھ ویٹرنری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر رضوان بشیر جیسے افراد اپنی ذات میں ایک غیر رسمی تربیتی ادارہ بن کر علم اور ہنر بانٹ رہے ہیں۔
مختلف جامعات کے طلبہ اپنی انٹرن شپ کے لیے ملک کے مختلف اداروں اور ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔ میری نظر میں جو طلبہ ڈاکٹر رضوان بشیر کے پاس پہنچتے ہیں وہ خوش قسمت ہیں، کیونکہ وہاں انہیں عمومی علاج، تشخیص، فیلڈ مینجمنٹ اور جراحی کا مجموعی عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
یہ تربیت صرف ایک ڈگری کو مکمل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوان ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ خود اعتمادی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
کسان، مویشی اور ماہر سرجن کی اہمیت
پاکستان کے دور دراز دیہات تو ایک طرف، کئی شہروں میں بھی سنگین بیماریوں اور خصوصاً جراحی کے پیچیدہ معاملات میں ماہر ویٹرنری سرجن دستیاب نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں قابل علاج حلال جانور کو بھی فوری طور پر ذبح کرنے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔
ماہر جراح کی عدم دستیابی سے کسان کو جانور، پیداوار اور سرمایہ تینوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر رضوان بشیر کی جہاں جہاں پیشہ ورانہ رسائی ہے اور جہاں جہاں ان کے تربیت یافتہ شاگرد خدمات انجام دے رہے ہیں، وہاں کسی بیمار یا زخمی جانور کی قسمت میں اتنی آسانی سے چھری نہیں لکھی جاتی ہوگی۔
ان کی مہارت صرف ایک جانور کی زندگی بچانے تک محدود نہیں بلکہ اس سے کسان کا معاشی نقصان کم ہوتا، جانوروں کی فلاح بہتر ہوتی اور ویٹرنری پروفیشن پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔
ویٹرنری جراحی کا لیونگ لیجنڈ
پاکستان میں ویٹرنری ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن عملی اور ماہر لائیوسٹاک سرجنز کا فقدان اب بھی نمایاں ہے۔ اس صورت حال میں ڈاکٹر رضوان بشیر کی خدمات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔
ان کی کامیابی کسی اچانک موقع یا غیر معمولی سرپرستی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی مسلسل محنت، فیلڈ کے تجربات، خود احتسابی، سیکھنے کی لگن اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی جستجو کا حاصل ہے۔
اگر ان کا تعلق کسی ایسے قدیم معاشرے سے ہوتا جہاں مختلف فنون کے ماہرین کو دیوتاؤں کا درجہ دیا جاتا تھا تو شاید انہیں ’’جراح دیوتا‘‘ کہا جاتا۔ تاہم ہمارے معاشرتی اور دینی تناظر میں مناسب ترین بات یہی ہے کہ انہیں پاکستان کی ویٹرنری جراحی کا ایک زندہ افسانہ اور ’’لیونگ لیجنڈ‘‘ قرار دیا جائے۔
ڈاکٹر رضوان بشیر اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود جہد مسلسل، عملی تربیت، خلوص اور علم بانٹنے کے جذبے سے انسان اپنی ذات میں ایک ادارہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کی ویٹرنری جامعات، سرکاری اداروں اور پروفیشنل تنظیموں کو ان کی مہارت، کیس ریکارڈ، عملی تجربے اور تربیتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ان کا حاصل کردہ علم صرف چند شاگردوں تک محدود نہ رہے بلکہ ملک بھر کے ویٹرنری طلبہ اور فیلڈ پروفیشنلز تک پہنچ سکے۔