
پاکستان کا لائیوسٹاک اور فشریز شعبہ، جو لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے، اس وقت گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو (GCLI) کے تحت ایک منظم اور پالیسی پر مبنی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ اقدام جنوری 2024 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت شروع کیا گیا۔
قومی معیشت میں اہم کردار
لائیوسٹاک پاکستان کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے۔
- قومی جی ڈی پی میں حصہ: 14.97 فیصد
- زرعی جی ڈی پی میں حصہ: 63.6 فیصد
- فشریز کا جی ڈی پی میں حصہ: تقریباً 1 فیصد
- فشریز سے وابستہ روزگار: تقریباً 15 لاکھ افراد
ماضی میں کم پیداواری نسلیں، روایتی طریقہ کار، غیر مؤثر ڈھانچہ اور غیر قانونی سرگرمیاں اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بنی رہیں۔ تاہم اب جدید ٹیکنالوجی، پالیسی اصلاحات اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔
نیشنل ہرڈ ٹرانسفارمیشن ڈرائیو
پاکستان میں تقریباً 90 فیصد مویشی کم پیداواری اور غیر معیاری نسلوں پر مشتمل ہیں، جنہیں زیادہ تر چھوٹے کاشتکار پالتے ہیں۔ جی سی ایل آئی کے تحت آئندہ 20 برسوں میں سالانہ 23 لاکھ جانوروں کی اپ گریڈیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ دودھ اور گوشت کی فی جانور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکے۔
اوکاڑہ سیکسڈ سیمن لیبارٹری
امریکی کمپنی کے تعاون سے قائم اوکاڑہ سیکسڈ سیمن لیبارٹری ملک کی پہلی جدید سہولت ہے جہاں سالانہ 5 لاکھ سیکسڈ سیمن اسٹرا تیار کیے جا رہے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دودھ کے لیے مادہ بچھڑوں اور گوشت کے لیے نر جانوروں کی پیدائش کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
متوقع اثرات:
- 939 ملین لیٹر اضافی دودھ
- 32 ملین کلوگرام اضافی گوشت
- تیسرے سال سے سالانہ تقریباً 770 ملین ڈالر معاشی اثر
اوکاڑہ آئی وی ایف لیبارٹری
یہ لیبارٹری سالانہ 5 ہزار ایمبریوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پانچ برسوں میں متوقع نتائج:
- 847 ملین لیٹر اضافی دودھ
- 30 ملین کلوگرام اضافی گوشت
- تقریباً 660 ملین ڈالر مالی اثر
اسی تسلسل میں برازیل سے اعلیٰ نسل کے جانوروں کی درآمد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 2025 کے پہلے سات ماہ میں درآمدات 2000 سے بڑھ کر 3500 جانوروں تک پہنچ گئیں۔
بنجر زمین کی بحالی اور جدید مراکز
جی سی ایل آئی کے تحت جگیت پیر، رکھ غلامان اور کلورکوٹ میں 5941 ایکڑ بنجر زمین کو جدید زرعی اور لائیوسٹاک مراکز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں چارہ کاشت کے جدید اور پائیدار طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں غیر فعال سرکاری لائیوسٹاک فارمز نجی سرمایہ کاروں کو لیز پر دیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
جی آر آئی ڈی ڈی پروگرام: چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت
گراس روٹ انسینٹوائزڈ ڈیری ڈیولپمنٹ (GRIDD) پروگرام 59 اضلاع میں فعال ہے۔
اب تک کی پیش رفت:
- 36,245 کسان رجسٹرڈ
- 382,707 جانوروں کی رجسٹریشن
- 11.1 ملین لیٹر دودھ جمع
- 597 ملین روپے کی مفت ایکسٹینشن سروسز فراہم
یہ پروگرام کسانوں کو رعایتی یا مفت ویٹرنری سہولیات فراہم کر رہا ہے اور انہیں مڈل مین کے استحصال سے بچانے میں مدد دے رہا ہے۔
ٹیگ اینڈ ٹریس ایبلٹی سسٹم
اپریل 2024 میں پاکستان اینیمل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ ٹریس ایبلٹی سسٹم کے تحت 2 لاکھ سے زائد جانوروں کو ٹیگ کیا جا چکا ہے۔ اس نظام سے بیماریوں کی نگرانی، اسمگلنگ کی روک تھام اور غیر قانونی ذبح پر کنٹرول ممکن ہوا ہے۔
ویکسین کی پیداوار میں اضافہ
پاکستان کو سالانہ تقریباً 50 کروڑ ویکسین ڈوزز کی ضرورت ہے جبکہ ملکی پیداوار صرف 3 کروڑ ڈوزز ہے۔ جی سی ایل آئی کے تحت پنجاب کی ویکسین فیکٹریوں کو نجی شعبے کے ساتھ شراکت کے ذریعے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو سکے۔
جدید مویشی منڈیاں
برازیل کے ماڈل پر لاہور کے شاہپور کانجراں میں جدید کیٹل مارکیٹ قائم کی گئی ہے جبکہ جھنگ میں ایک اور منڈی زیر تعمیر ہے۔ بھکر، ڈی جی خان اور لاہور میں مزید منڈیوں کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ ان منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حلال برآمدات میں پیش رفت
پاک حلال اتھارٹی کو فعال بنایا گیا ہے اور “ون کنٹری – ون لوگو” پالیسی کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ترکیہ، کرغزستان اور بیلاروس کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے زیر تکمیل ہیں۔
ساتویں لائیوسٹاک و زرعی مردم شماری
2024 میں 19 برس بعد مردم شماری مکمل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق:
- لائیوسٹاک آبادی میں 3.19 فیصد اضافہ
- قومی ہرڈ کی مجموعی تعداد 251.3 ملین
- چارہ کاشت رقبہ 10 فیصد تک پہنچ گیا
نتیجہ
گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو کے تحت پاکستان کا لائیوسٹاک اور فشریز سیکٹر ایک نئی سمت اختیار کر رہا ہے۔ جینیاتی بہتری، ڈیجیٹل نظام، جدید منڈیوں کی تشکیل، ویکسین پیداوار میں اضافہ اور برآمدی حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف دیہی معیشت کو مضبوط کیا جا رہا ہے بلکہ قومی غذائی تحفظ اور برآمدی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔