پاکستانی چارہ برآمد کنندگان کا پانچ برس میں ایک ارب ڈالر برآمدات کا ہدف

پاکستانی چارہ برآمدات کا 1 ارب ڈالر ہدف، سعودی عرب اور چین تک رسائی ناگزیر

سعودی عرب اور چین تک مارکیٹ رسائی کے بغیر توسیع خطرناک قرار

پاکستان کی تیزی سے ابھرتی ہوئی چارہ (فودر) صنعت نے آئندہ پانچ برسوں میں سالانہ ایک ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہدف اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک حکومت سعودی عرب اور چین جیسے بڑے درآمدی ممالک تک باضابطہ مارکیٹ رسائی یقینی نہ بنائے۔

موجودہ برآمدی صورتحال

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے 9 لاکھ 30 ہزار 802 ٹن "فیڈنگ اسٹف فار اینیملز” برآمد کیا جس کی مجموعی مالیت 112.2 ملین ڈالر رہی۔

ان برآمدات میں:

  • متحدہ عرب امارات سرفہرست رہا
  • یو اے ای نے 33.2 ملین ڈالر مالیت کا چارہ درآمد کیا

تاہم صنعت ماہرین کے مطابق ایک ہی مارکیٹ پر انحصار صنعت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔

روڈز گراس: پاکستان کی نمایاں برآمدی فصل

پاکستان سے سب سے زیادہ برآمد ہونے والی فصل روڈز گراس ہے، جو اعلیٰ پروٹین والی گرم موسمی چارہ فصل ہے۔ اسے ڈیری گائے، گھوڑوں اور اونٹوں کی خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔

خلیجی ممالک میں:

  • پانی کی شدید قلت
  • زرعی زمین کی کمی

کے باعث وہ مقامی کاشت کے بجائے درآمد پر انحصار کرتے ہیں، جس سے پاکستان کے لیے برآمدی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

سعودی عرب اور چین: کلیدی منڈیاں

پاکستان ہیے ایسوسی ایشن کے سربراہ اور جی آر جے ایگریکلچر اینڈ لائیوسٹاک فارمز کے چیف ایگزیکٹو سرفراز علی جونیجو نے کہا:

"ہم بنیادی طور پر یو اے ای پر انحصار کر رہے ہیں۔ اگر حکومت سطح پر سعودی عرب اور چین سے معاہدے نہ ہوئے تو کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملے گی۔”

اعداد و شمار کے مطابق:

  • پاکستان کی سعودی عرب کو سالانہ برآمدات صرف 307 ہزار ڈالر کے قریب ہیں
  • سعودی عرب زیادہ تر روڈز گراس سوڈان سے درآمد کرتا ہے
  • چین میں تاحال اس پراڈکٹ کی رجسٹریشن مکمل نہیں ہوئی

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر بات چیت اور ریگولیٹری منظوری مکمل ہو جائے تو چین زمینی راستے سے ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔

پیداوار میں تیزی سے اضافہ

گزشتہ تین سے چار برسوں میں:

  • روڈز گراس کی کاشت میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوا
  • زیرِ کاشت رقبہ تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک پہنچ چکا ہے

سندھ کے ضلع میرپورخاص میں جی آر جے فارمز روزانہ 60 ٹن تک کٹائی کرتے ہیں، جہاں مزدور یومیہ 1000 سے 1500 روپے تک کما لیتے ہیں، جو کام کی مقدار پر منحصر ہے۔

کمپنی رواں سال اپنی برآمدات میں 36 فیصد اضافہ کر کے 30 ہزار ٹن تک لے جانا چاہتی ہے، تاہم زائد پیداوار کے خدشے کے باعث مزید توسیع روکنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام اور سبسڈی میں کمی

ستمبر 2024 میں منظور شدہ 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان نے کئی فصلوں پر سبسڈی کم کی ہے، جس کے باعث کسان برآمدی فصلوں کی جانب زیادہ راغب ہو رہے ہیں۔

زراعت:

  • پاکستان کی معیشت کا تقریباً 24 فیصد
  • روزگار کا 38 فیصد حصہ رکھتی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اور چین کی منڈیاں کھل جائیں تو چارہ برآمدات میں دس گنا تک اضافہ ممکن ہے۔

ویلیو ایڈیشن اور پائیدار ترقی کی ضرورت

سرفراز جونیجو کے مطابق:

"چین اور سعودی عرب جانور پالنے کی مضبوط ثقافت رکھتے ہیں۔ اگر یہ دونوں منڈیاں کھل جائیں تو پاکستان کا چارہ ایک بڑا برآمدی شعبہ بن سکتا ہے۔”

پاکستان میں چارہ برآمدات کا بڑھتا ہوا رجحان زرعی تنوع اور ویلیو ایڈیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم پائیدار ترقی کے لیے:

  • منڈیوں کی تنوع
  • ریگولیٹری منظوری
  • حکومتی سطح پر تجارتی سفارت کاری

ناگزیر ہیں، بصورت دیگر زائد پیداوار مقامی کسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔