
حماد نعیم، حافظ اسامہ نور، محمد حمدان رشید، محمد ابرار، شعبہ پوسٹ ہارویسٹ ریسرچ
آم کو دنیا بھر میں ”پھلوں کا بادشاہ“ کہا جاتا ہے، اور پاکستان اُن خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں اس کی اعلیٰ اقسام ذائقے، خوشبو اور معیار کے اعتبار سے عالمی شہرت رکھتی ہیں تاہم آم کی معاشی اہمیت صرف اچھی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ اس کی بروقت برداشت، بعد از برداشت نگہداشت، ویلیو ایڈیشن اور مؤثر استعمال سے وابستہ ہے جدید زرعی تقاضوں کے مطابق اگر آم کو سائنسی بنیادوں پر سنبھالا جائے تو نہ صرف بعد از برداشت نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ مقامی و عالمی منڈی میں اس کی قدر اور منافع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے
معاشی اعتبار سے بھی آم کی بڑی اہمیت ہے پاکستان ہر سال لاکھوں ٹن آم بیرون ملک برآمد کرتا ہے جس سے قومی معیشت کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اگر آم کی پیداوار، پیکنگ اور ترسیل کے جدید طریقے اپنائے جائیں تو اس شعبے کو مزید ترقی دی جا سکتی ہے کسانوں کی رہنمائی، کولڈ اسٹوریج کی سہولیات اور عالمی معیار کے مطابق برآمدات اس صنعت کو مستحکم بنا سکتی ہیں
آم کی برداشت، ذخیرہ اور پیکنگ
آم کی اعلیٰ کوالٹی اور دیرپا تازگی برقرار رکھنے کے لیے مناسب وقت پر برداشت، محتاط طریقہ چنائی، بہتر ذخیرہ اور معیاری پیکنگ بے حد اہمیت رکھتے ہیں اگر ان مراحل میں احتیاط برتی جائے تو پھل کی غذائیت، ذائقہ اور تجارتی قدر میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے
آم کی برداشت کا موزوں وقت
آم کی برداشت اُس وقت کی جاتی ہے جب پھل مکمل جسامت حاصل کر لے اور اس کا رنگ ہلکے سبز سے زردی مائل ہونا شروع ہو جائے زیادہ کچا آم ذائقے اور مٹھاس میں کمزور رہتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ پکا ہوا پھل جلد خراب ہو جاتا ہے عموماً صبح کے ٹھنڈے اوقات میں آم توڑنا بہتر سمجھا جاتا ہے تاکہ گرمی کے باعث پھل کو نقصان نہ پہنچے
برداشت کا درست طریقہ
آم کو درخت سے احتیاط کے ساتھ توڑنا چاہیے تاکہ پھل زخمی نہ ہو عموماً ڈنڈی سمیت پھل توڑا جاتا ہے، کیونکہ ڈنڈی الگ ہونے سے رس خارج ہوتا ہے جو پھل کی ظاہری خوبصورتی اور معیار کو متاثر کرتا ہے اونچے درختوں سے آم اتارنے کے لیے جالی دار ٹوکری یا مخصوص کاٹنے والے آلات استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ پھل زمین پر گر کر خراب نہ ہو
کھیت میں ابتدائی ذخیرہ
برداشت کے فوراً بعد آم کو سایہ دار اور ٹھنڈی جگہ پر رکھیں تیز دھوپ میں رکھنے سے پھل کی نمی کم ہوتی ہے اور جلد سکڑنے لگتا ہے خراب، زخمی یا داغدار آم الگ کر دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ دوسرے پھل متاثر نہ ہوں ابتدائی صفائی اور درجہ بندی کے بعد آم کو بازار یا گودام منتقل کیا جاتا ہے
بعد از برداشت نقصانات اور ان کی روک تھام
پاکستان سمیت کئی زرعی ممالک میں آم کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ناقص بعد از برداشت انتظامات کے باعث ضائع ہو جاتا ہے مناسب پیکنگ، ٹھنڈا ماحول، صفائی، اور جدید اسٹوریج سہولیات کے ذریعے ان نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے زرعی ماہرین کے مطابق اگر جدید بعد از برداشت ٹیکنالوجی اپنائی جائے تو نہ صرف کسان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں پاکستانی آم کی ساکھ مزید مضبوط ہو سکتی ہے
آم کی درجہ بندی اور صفائی
برداشت کے بعد سب سے پہلے آموں کی صفائی اور درجہ بندی کی جاتی ہے بیمار، کٹے پھٹے یا کیڑے لگے پھل الگ کر دیے جاتے ہیں معیاری پھلوں کو جسامت، وزن اور رنگ کے مطابق مختلف درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے یہ عمل نہ صرف منڈی میں بہتر قیمت دلاتا ہے بلکہ برآمدی تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے
پیکنگ اور ترسیل
آم کی پیکنگ میں مضبوط اور ہوا دار پیٹیاں استعمال کی جاتی ہیں تاکہ نقل و حمل کے دوران پھل محفوظ رہے پیٹیوں کے اندر نرم کاغذ، بھوسہ نما تہہ لگائی جاتی ہے تاکہ پھل آپس میں ٹکرا کر خراب نہ ہوں مختلف اقسام اور جسامت کے مطابق آم کی علیحدہ درجہ بندی کی جاتی ہے، جس سے منڈی میں بہتر قیمت حاصل ہوتی ہے
جدید طریقوں کے مطابق آم کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جائے تو اس کی تازگی اور ذائقہ طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے، جبکہ معیاری پیکنگ برآمدی تجارت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے
آم ایک نہایت حساس اور جلد خراب ہونے والا پھل ہے، اس لیے اس کی نقل و حمل اور ذخیرہ کاری میں درجہ حرارت اور نمی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے
سرد خانوں میں ذخیرہ
آموں کو عموماً 12 سے 14 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر ذخیرہ کیا جاتا ہے، جبکہ نمی کا تناسب 85 تا 90 فیصد برقرار رکھا جاتا ہے اس ماحول میں پھل کی تازگی اور ذائقہ کئی ہفتوں تک محفوظ رہ سکتا ہے بہت کم درجہ حرارت آم میں ”چِلنگ انجری“ پیدا کرتا ہے جسسے چھلکا سیاہ پڑنے لگتا ہے اور ذائقہ متاثر ہوتا ہے
کنٹرولڈ ایٹماسفیئر اسٹوریج
جدید زرعی نظام میں کنٹرولڈ ایٹماسفیئر اسٹوریج بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو متوازن رکھا جاتا ہے اس طریقے سے پھل کی قدرتی سانس لینے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور شیلف لائف میں اضافہ ہوتا ہے
آم کی پکائی اور پختگی
دیہی علاقوں میں آم کو بھوسے یا کاغذ میں لپیٹ کر بھی پکایا جاتا ہے اگرچہ یہ طریقہ نسبتاً محفوظ ہے، مگر تجارتی پیمانے پر اس میں یکسانیت برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے
روایتی منڈیوں میں بعض اوقات آم کو کیلشیم کاربائیڈ کے ذریعے پکایا جاتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے مضر اور قانونی طور پر ممنوع ہے اس کی جگہ اب محفوظ اور سائنسی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں
دنیا بھر میں آم پکانے کے لیے ایتھائلین گیس کو محفوظ ترین طریقہ تصور کیا جاتا ہے مخصوص چیمبرز میں مناسب درجہ حرارت اور نمی کے ساتھ ایتھائلین استعمال کی جاتی ہے، جس سے آم قدرتی انداز میں یکساں رنگ اور ذائقے کے ساتھ پکتا ہے
عالمی سطح پر آم کو محفوظ، یکساں اور قدرتی انداز میں پکانے کے لیے ایتھائلین گیس کا استعمال سب سے مؤثر اور سائنسی طریقہ سمجھا جاتا ہے ایتھائلین دراصل ایک قدرتی نباتاتی ہارمون ہے جو پھلوں کے پکنے کے عمل کو تیز کرتا ہے جدید پیک ہاؤسز اور فروٹ ریپنگ چیمبرز میں اسی اصول کے تحت آم کو تجارتی پیمانے پر پکایا جاتا ہے اس مقصد کے لیے ایتھائلین چیمبر استعمال کیا جاتا ہے
ایتھائلین چیمبر ایک بند اور درجہ حرارت سے کنٹرول شدہ کمرہ ہوتا ہے جہاں نمی، حرارت اور ہوا کی گردش کو متوازن رکھا جاتا ہے یہ چیمبرز چھوٹے پیمانے پر چند سو کلوگرام سے لے کر بڑے تجارتی پیمانے پر کئی ٹن آم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں عام طور پر چھوٹے چیمبر 500 کلوگرام تا 1 ٹن، درمیانے چیمبر 5 تا 10 ٹن جبکہ بڑے تجارتی چیمبر 20 ٹن یا اس سے زائد گنجائش رکھتے ہیں ایتھائلین کے ذریعے آم پکانے کے لیے مناسب ماحول نہایت اہم ہوتا ہے
موزوں درجہ حرارت 18 تا 24 ڈگری سینٹی گریڈ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اگر درجہ حرارت بہت کم ہو تو پکنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے، جبکہ زیادہ حرارت پھل کو نرم کر کے اس کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے اسی طرح نمی کا تناسب بھی اہم ہے، جو عموماً 85 تا 90 فیصد برقرار رکھا جاتا ہے تاکہ آم کی جلد سکڑنے سے محفوظ رہے اور وزن میں کمی واقع نہ ہو
تجارتی چیمبرز میں ایتھائلین گیس کی مقدار عمومی طور پر 100 تا 150 پی پی ایم (حصے فی ملین) رکھی جاتی ہے، جو پھل کو محفوظ اور یکساں انداز میں پکانے کے لیے مناسب سمجھی جاتی ہے
ایتھائلین ساشے یا پیکٹس کا استعمال
مارکیٹ میں ایتھائلین ریلیز کرنے والے خصوصی ساشے دستیاب ہوتے ہیں جنہیں کریٹس یا چیمبرز میں رکھا جاتا ہے یہ ساشے رفتہ رفتہ گیس خارج کرتے ہیں استعمال کے مطابق ایک ساشہ تقریباً 10 تا 20 کلوگرام آم کے لیے کافی ہوتا ہے، جبکہ ایک ٹن آم کے لیے عموماً 50 تا 100 ساشے استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم یہ مقدار کمپنی کی ہدایات اور ساشے کی طاقت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے
یہ ساشے براہ راست پھل پر نہیں رکھے جاتے بلکہ کریٹس کے درمیان یا چیمبر کے مختلف حصوں میں نصب کیے جاتے ہیں تاکہ گیس یکساں طور پر پھیل سکے
ایتھائلین کے ذریعے آم عموماً 24 تا 48 گھنٹوں میں پکنے کا عمل شروع کر دیتا ہے، جبکہ مکمل یکساں رنگ اور ذائقہ حاصل کرنے میں 4 تا 7 دن لگ سکتے ہیں یہ دورانیہ آم کی قسم، ابتدائی پختگی، درجہ حرارت اور نمی پر منحصر ہوتا ہے چیمبر میں مناسب ہوا کی گردش بے حد ضروری ہے تاکہ تمام پھل یکساں طور پر پکیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع نہ ہو، اور پھپھوندی یا گلنے سڑنے کے امکانات کم رہیں اسی مقصد کے لیے جدید چیمبرز میں پنکھے اور ہوا کی ترسیل کے نظام نصب کیے جاتے ہیں
ایتھائلین کے ذریعے پکایا گیا آم کیلشیم کاربائیڈ کے مقابلے میں زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں آم اپنی قدرتی خوشبو اور ذائقہ برقرار رکھتا ہے، رنگت یکساں ہوتی ہے، صحت کے لیے محفوظ ہوتا ہے، اور بین الاقوامی برآمدی معیار پر بھی پورا اترتا ہے
اس کے برعکس کیلشیم کاربائیڈ سے پکایا گیا پھل اکثر بے ذائقہ، غیر صحت بخش اور بعض اوقات زہریلے اثرات کا حامل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیشتر ممالک میں کاربائیڈ کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے
پاکستان میں بھی اب بڑے زرعی فارم، ایکسپورٹرز اور کولڈ اسٹوریج یونٹس ایتھائلین ریپنگ ٹیکنالوجی اختیار کر رہے ہیں اس جدید طریقے سے نہ صرف بعد از برداشت نقصانات کم ہوتے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں پاکستانی آم کی قدر و قیمت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے
نقل و حمل اور ترسیل
آم کی تجارت میں نقل و حمل بنیادی اہمیت رکھتی ہے پھل کو لکڑی یا پلاسٹک کے مضبوط کریٹس میں احتیاط سے پیک کیا جاتا ہے تاکہ دباؤ اور جھٹکوں سے نقصان نہ پہنچے برآمدی آموں کے لیے ریفریجریٹڈ گاڑیاں اور کنٹینرز استعمال کیے جاتے ہیں جہاں درجہ حرارت مسلسل معتدل رکھا جاتا ہے
ہوائی ترسیل میں خاص طور پر اعلیٰ معیار کے آم بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں، جبکہ مقامی منڈیوں کے لیے سڑک کے ذریعے ترسیل عام ہے اگر ٹرانسپورٹ کے دوران حدت یا نمی میں بے اعتدالی پیدا ہو جائے تو پھل جلد گلنے سڑنے لگتا ہے
آم کا مؤثر استعمال صرف اسے بطور پھل کھانے تک محدود نہیں اس سے مختلف اقسام کی غذائیں اور مشروبات تیار کیے جاتے ہیں آم کا شربت، جوس، ملک شیک، آئسکریم، مربہ، چٹنی اور اچار نہ صرف ذائقے میں منفرد ہوتے ہیں بلکہ غذائیت کا خزانہ بھی ہیں دیہی علاقوں میں کچے آم سے بننے والی چٹنی اور آم کا پنا گرمی کے موسم میں جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی ہے اسی طرح پکے آم سے تیار کردہ میٹھے پکوان مہمان نوازی کا حسن بڑھا دیتے ہیں
آم سے تیار کردہ قدر افزا مصنوعات
آم نہ صرف تازہ پھل کے طور پر پسند کیا جاتا ہے بلکہ اس سے متعدد ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی تیار کی جاتی ہیں، جو ذائقے، غذائیت اور کاروباری اہمیت کے اعتبار سے بے حد مفید ہیں گھریلو سطح سے لے کر صنعتی پیمانے تک آم کی مختلف مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، جنمیں اسکواش، جام اور اچار نمایاں حیثیت رکھتے ہیں
آم کا اسکواش (Mango Squash)
آم کا اسکواش گرمیوں کا نہایت فرحت بخش مشروب ہے جو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جاستکا ہے
مختصر ترکیب (ایک کلو آم کے گودے کے لیے)
- آم کا گودا — 1 کلو
- چینی — 1.25 کلو
- پانی — 1 لیٹر
- سٹرک ایسڈ — 10 گرام
- پوٹاشیم میٹابائیسلفائٹ — 1 گرام
چینی اور پانی کو ملا کر شربت تیار کریں ٹھنڈا ہونے پر آم کا گودا اور سٹرک ایسڈ شامل کریں آخر میں محافظ غذا شامل کر کے صاف بوتلوں میں محفوظ کر لیں
آم کا جام (Mango Jam)
آم کا جام ناشتے اور بیکری مصنوعات میں نہایت پسند کیا جاتا ہے
مختصر ترکیب (ایک کلو آم کے گودے کے لیے) کے مطابق
- آم کا گودا — 1 کلو
- چینی — 800 گرام
- سٹرک ایسڈ — 5 گرام
- پیکٹن — 10 گرام استعمال کیا جاتا ہے
تمام اجزاء کو درمیانی آنچ پر پکائیں حتیٰ کہ آمیزہ گاڑھا ہو جائے تیار شدہ جام کو جراثیم سے پاک شیشیوں میں بھر کر محفوظ کریں
آم کا اچار (Mango Achar)
کچے آم کا اچار برصغیر کی روایتی غذا کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے
مختصر ترکیب (ایک کلو کچے آم کے لیے)
کچے آم — 1 کلو
نمک — 150 گرام
سرخ مرچ — 50 گرام
سونف — 25 گرام
میتھی دانہ — 20 گرام
سرسوں کا تیل — 250 ملی لیٹر
کچے آم کے ٹکڑے کر کے مصالحہ اور نمک ملا دیں بعد ازاں سرسوں کا تیل شامل کر کے شیشے کے مرتبہان میں بھر دیں اور چند دن رکھیں تاکہ اچار اچھی طرح تیار ہو جائے
آم غذائیت سے بھرپور پھل ہے اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم اور فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں یہ انسانی جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے، قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور جلد کی تازگی برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے لیے آم ایک مکمل غذائی تحفہ ہے اگر اسے مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ صحت کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے
اس کے طبی اور غذائی فوائد سے مکمل استفادہ اسی وقت ممکن ہے جب اسے مناسب وقت، متوازن مقدار اور درست غذائی امتزاج کے ساتھ استعمال کیا جائے ماہرین غذائیت کے مطابق آم کے استعمال کا وقت اور اس کے ساتھ کھائی جانے والی غذائیں انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں
آم کو دن کے اوقات میں استعمال کرنا زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس دوران انسانی جسم کا نظام ہضم اور میٹابولزم زیادہ فعال ہوتا ہے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آم کو کھانے سے تقریباً تیس منٹ قبل یا صبح دس سے گیارہ بجے کے درمیان بطور ہلکی غذا استعمال کیا جائے کھانے سے پہلے آم کھانے سے اس میں موجود فائبر معدے کو سیر ہونے کا احساس دلاتا ہے، جس سے بھوک میں اعتدال پیدا ہوتا ہے
ماہرین اس بات سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ رات کے وقت، خصوصاً بھاری کھانے کے فوراً بعد آم کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے آم میں موجود قدرتی فرکٹوز نیند کے دوران نظام ہضم میں تخمیر پیدا کر سکتا ہے، جو معدے کی بے آرامی اور بدہضمی کا سبب بنتا ہے ایک متوازن مقدار کے طور پر تقریباً ڈیڑھ سو گرام تازہ آم کافی تصور کیا جاتا ہے
آم کی غذائی افادیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اسے پروٹین اور صحت بخش چکنائی والی غذاؤں کے ساتھ استعمال کیا جائے اس امتزاج سے قدرتی شکر کے خون میں جذب ہونے کی رفتار متوازن رہتی ہے
دہی، پنیر، بادام اور اخروٹ کے ساتھ آم کا استعمال نہایت مفید سمجھا جاتا ہے اسی طرح لیموں کے رس اور سرخ مرچ کے ساتھ آم کھانے سے ہاضمے کے خامرے متحرک ہوتے ہیں، جو نظام ہضم کو بہتر بناتے ہیں
مزید برآں، آم کو فولاد سے بھرپور غذاؤں مثلاً پالک یا کم چکنائی والے گوشت کے ساتھ کھانا بھی مفید ہے، کیونکہ آم میں موجود وٹامن سی جسم میں فولاد کے جذب کو بہتر بناتا ہے
کن غذاؤں کے ساتھ آم سے پرہیز ضروری ہے؟
صحت مند فوائد کے حصول کے لیے بعض غذائی امتزاج سے گریز کرنا بھی ضروری ہے آم کو میٹھے مشروبات، مصنوعی مٹھائیوں یا چینی سے بھرپور میٹھے پکوانوں کے ساتھ استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ خون میں شوگر کی سطح کو غیر متوازن کر سکتے ہیں
اسی طرح اگر کسی شخص کو دودھ سے حساسیت یا پیٹ پھولنے کی شکایت ہو تو آم کو زیادہ مقدار میں ٹھنڈے دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے احتراز بہتر ہے چکنائی سے بھرپور تلی ہوئی غذاؤں کے ساتھ آم کھانے سے بھی ہاضمہ سست پڑ سکتا ہے، جس سے معدے میں بوجھ اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے
ماہرین کے مطابق آم کو اٹھارہ سے بائیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت پر پیش کرنا بہترین رہتا ہے اس معتدل درجہ حرارت پر آم کی قدرتی خوشبو اور ذائقہ برقرار رہتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ ٹھنڈک اس کے خوشبودار اجزاء کے اثر کو کم کر دیتی ہے
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں آم کے استعمال میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ضرورت سے زیادہ آم کھانا بعض اوقات معدے کی خرابی یا شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے صفائی کا خیال رکھتے ہوئے تازہ اور معیاری آم استعمال کرنا صحت کے لیے ضروری ہے
مختصراً، آم صرف ایک لذیذ پھل نہیں بلکہ قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے اگر ہم اس کے غذائی، معاشی اور صنعتی فوائد کو سمجھتے ہوئے دانشمندی سے استعمال کریں تو یہ ہماری صحت، معیشت اور ثقافت تینوں کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے