
پاکستانی کسانوں کو درپیش بڑے مسائل میں سے ایک خریف اور ربیع کے موسموں میں کاشت کی جانے والی فصلوں کی محدود تعداد ہے۔ فصلوں کا یہ کم تنوع کسانوں کے لیے متبادل فصلوں کے انتخاب کو مشکل بنا دیتا ہے خصوصاً اس وقت جب کوئی فصل موسمیاتی تبدیلیوں یا مارکیٹ کی ناکامی کے باعث مسلسل دو سے تین سال کم منافع دے۔
ایسی صورتحال میں جب بڑی تعداد میں کسان نسبتاً منافع بخش نظر آنے والی دوسری فصلوں کی طرف رخ کرتے ہیں تو زیرِ کاشت رقبے میں اچانک اضافے کے باعث مقامی منڈی جلد ہی بھر جاتی ہے۔ چونکہ ملک میں اضافی پیداوار برآمد کرنے کی صلاحیت محدود ہے اس لیے قیمتیں گر جاتی ہیں اور کسان ایک مسئلے سے نکل کر دوسرے بڑے مسئلے میں پھنس جاتے ہیں۔
اس کی ایک حالیہ مثال گندم ہے۔ سال 2024 اور 2025 کی فصلوں سے کم منافع ملنے کے بعد سال 2025 اور 2026 میں آلو اور سبزیوں کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہوگیا۔ پاکستان کی محدود برآمدی رسائی اور اضافی پیداوار کو سنبھالنے میں سرکاری اداروں کی کمزور صلاحیت نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس کے علاوہ ویلیو ایڈیشن کے کمزور نظام نے اضافی پیداوار کے استعمال کی صلاحیت کو بھی محدود رکھا۔
اس پس منظر میں پاکستان کو ایسی نئی زرعی فصلیں متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو بڑے پیمانے پر کاشت کی جا سکیں۔ یہ فصلیں یا تو برآمدی صلاحیت رکھتی ہوں یا درآمدی متبادل ثابت ہوں تاکہ ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان اس وقت تیل دار اجناس کی پیداوار میں شدید کمی کا شکار ہے۔ مالی سال 2025 میں ملک نے تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کا خوردنی تیل اور تیل دار بیج درآمد کیے۔ یہ مسلسل درآمدی بوجھ مقامی متبادل پیدا کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
ممکنہ فصلوں میں سویابین ایک عالمی اہمیت کی حامل تیل دار فصل ہے۔ اس کی بڑی پیداوار امریکہ برازیل ارجنٹائن اور چین میں ہوتی ہے۔ اس کی غذائی ساخت میں تقریباً 22 فیصد تیل 42 فیصد پروٹین اور 30 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس شامل ہوتے ہیں جو اسے پاکستان کے لیے معاشی اور غذائی لحاظ سے نہایت اہم فصل بناتے ہیں۔
ان خصوصیات کی بنیاد پر سویابین پاکستان کے خوردنی تیل کے درآمدی بل میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ مزید برآں پاکستان کی پولٹری صنعت جو ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت ہے اپنے فیڈ میں اعلیٰ معیار کے پروٹین کے لیے بڑی حد تک سویابین میل پر انحصار کرتی ہے۔ سویابین میل مچھلی اور دودھ دینے والے جانوروں کی خوراک میں بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی انحصار کی عکاسی کرتے ہوئے مالی سال 2025 میں پاکستان نے 344 ملین ڈالر مالیت کا سویابین آئل اور دو ملین ٹن سے زائد خام سویابین درآمد کی جو زیادہ تر پولٹری فیڈ میں استعمال ہوئی۔
تاہم اس واضح صلاحیت کے باوجود پاکستان میں سویابین کی کامیابی صرف زرعی موزونیت پر منحصر نہیں بلکہ کئی ساختی اور مارکیٹ سے متعلق عوامل پر بھی منحصر ہے جن کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہی عوامل اس فصل کی طویل المدتی پائیداری کا تعین کریں گے۔
کسان عموماً ایسی فصلوں کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ مالی منافع دیں کم لاگت طلب ہوں کم مسائل پیدا کریں کم مدت میں تیار ہوں اور جن میں پیداوار مارکیٹنگ اور موسمی خطرات نسبتاً کم ہوں۔ پاکستان میں چائے کی کاشت اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اگرچہ کئی علاقوں میں چائے کی کاشت کے لیے موزوں موسمی حالات موجود ہیں اور اس کے فروغ کے لیے برسوں کوششیں کی گئیں لیکن اس کی طویل مدتِ پیداوار اور دیگر فصلوں کے مقابلے میں کم مالی منافع کے باعث یہ کسانوں میں مقبول نہ ہو سکی۔
اسی طرح کسان عام طور پر ایسی فصلیں کاشت کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں جن کے خریدار محدود ہوں اور مارکیٹنگ کے مواقع کم ہوں۔ دیگر چھوٹی فصلوں کے برعکس پاکستان میں سرسوں ریپ سیڈ سورج مکھی اور کینولا جیسی تیل دار فصلوں کی ویلیو چین نسبتاً بہتر قائم ہے۔ اگرچہ بڑی سالوینٹ ایکسٹریکشن فیکٹریاں بھی یہ فصلیں خریدتی ہیں لیکن ان کی زیادہ تر پیداوار دیہات اور قصبوں میں موجود چھوٹے آئل ایکسٹریکشن یونٹس خریدتے ہیں جہاں ان سے مختلف مقاصد کے لیے تیل نکالا جاتا ہے۔
جنوبی پنجاب میں واقع ایک بڑی سالوینٹ ایکسٹریکشن کمپنی کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وہ پاکستان بھر کی منڈیوں سے سینکڑوں چھوٹی کھیپیں خریدنے کے بجائے نسبتاً زیادہ قیمت پر بھی بڑی مقدار میں درآمد شدہ کینولا خریدنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی پیداوار میں اکثر معیار کا یکساں نہ ہونا غیر یقینی فراہمی روزانہ قیمتوں میں تبدیلی اور مختلف خصوصیات جیسے مسائل پائے جاتے ہیں جو پروسیسنگ صنعت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ جب صنعت کا رجحان ایسا ہو تو پاکستان میں تیل دار فصلوں خصوصاً سویابین کی بڑے پیمانے پر کاشت ایک دور کا خواب معلوم ہوتی ہے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں فی کس خوردنی تیل کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ مالی سال 2025 میں پام آئل کی درآمد تقریباً 3.21 ملین ٹن رہی جس کی مالیت 3.4 ارب ڈالر تھی۔ چونکہ پام آئل دنیا کا سب سے کم قیمت خوردنی تیل ہے اس لیے ایک ایسے ملک میں جہاں عالمی بینک کے وسیع تر معیار کے مطابق غربت کی شرح تقریباً 45 فیصد ہے یہ صارفین کے لیے سب سے سستا انتخاب ہے۔ جب تک سویابین آئل قیمت کے لحاظ سے پام آئل کا مقابلہ نہیں کرتا پاکستان میں اس کا بڑے پیمانے پر متبادل بننا تقریباً ناممکن رہے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں سویابین کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ریاست کسانوں اور پروسیسرز کی کس حد تک مؤثر معاونت کرتی ہے اور سویابین کو ایک ایسی اسٹریٹجک فصل کے طور پر فروغ دیتی ہے جو پانی کے کم ہوتے ذخائر غذائی قلت اور چاول کپاس اور مکئی جیسی بڑی فصلوں پر بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات جیسے قومی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم موجودہ بین الاقوامی مالیاتی فندقے زیرِ اثر پالیسی فریم ورک کے تحت حکومت کے بارے میں یہی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال برقرار رکھے گی اور کوئی مؤثر معاونت فراہم نہیں کرے گی۔ نتیجتاً جامعات تحقیقی مراکز اور نجی شعبے کی جانب سے شروع کی گئی کوششیں تجارتی بنیادوں پر سویابین کی کاشت کو چند ہزار ایکڑ سے آگے بڑھانے میں مشکلات کا شکار رہیں گی اور ممکن ہے کہ سویابین ایک بار پھر صرف سیمیناروں اور مباحثوں تک محدود رہ جانے والی امید افزا فصل بن کر رہ جائے۔