
تحریر: عبداللہ بن طاہر
ہمارے معاشرے میں لائیو سٹاک اور بالخصوص بکری فارمنگ کی اپنی ایک خاص تاریخی اور مذہبی اہمیت ہے۔ ہمارے بہت قریبی عزیز سلیم صاحب جو بکری فارمنگ کے بے حد شوقین ہیں اکثر کہتے ہیں کہ یہ محض ایک کاروبار نہیں بلکہ سنتِ رسولؐ بھی ہے۔ سلیم صاحب میں بکری فارمنگ کا یہ جوش و خروش اور فارمنگ کا خیال صرف عیدالاضحیٰ سے ایک ماہ پہلے شروع ہوتا ہے اور عید کے چند دن بعد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن باقی سارا سال بکری فارمنگ اسکی افادیت اور اہمیت پر بات ہی نہیں ہوتی۔
روزانہ بکری فارمنگ کی گفتگو ہی ہو رہی تھی اور اس دوران مجھے کمرشل گوٹ فارمنگ کو سمجھنے کے لیے گزشتہ دن ایک منفرد تجربہ ہوا۔ مجھے شیخوپورہ میں واقع ایکو بریڈ جینیٹکس بوئر گوٹ فارم کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ فارم پر پہنچتے ہی روایتی فارمنگ کے برعکس ایک جدید اور سائنسی ماحول نظر آیا جہاں جانوروں کی صحت اور صفائی کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ایلی ویٹڈ شیڈز یعنی زمین سے اونچے بنے ہوئے شیڈ تیار کیے گئے تھے۔ اس فارم پر پاکستان کی خوبصورت لوکل بریڈ مکھی چینی کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ کی عالمی شہرت یافتہ نسل بوئر گوٹ بھی موجود تھی۔
بوئر گوٹ اس وقت پاکستان میں بہت کم یا یوں کہہ لیں کہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں اس کا کریز اس حد تک ہے کہ فارمرز اس کی ایڈوانس خریداری کے لیے لاکھوں روپے جمع کروا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نسل میں ایسی کیا خاص بات ہے؟

درحقیقت بوئر گوٹ کو دنیا بھر میں گوشت کی پیداوار کے لیے ایک بہترین اور جادوئی نسل مانا جاتا ہے۔ جہاں ہماری لوکل بکریوں کے بچے وزن بڑھانے میں مہینوں لے لیتے ہیں وہاں بوئر گوٹ کے بچے کا اوسط پیدائشی وزن ہی 3 سے 4 کلوگرام ہوتا ہے۔ سب سے حیرت انگیز بات اس کا روزانہ وزن بڑھانے کی شرح ہے جو کہ 250 سے 350 گرام ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ شرح ہماری مقامی نسلوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نوجوان بوئر جانور کا اوسط وزن دیکھتے ہی دیکھتے 100 سے 110 کلوگرام تک پہنچ جاتا ہے۔
لیکن اس چمکدمک کے پیچھے ایک کڑوی سچائی بھی ہے کہ بوئر گوٹ بیرونی ملک سے امپورٹ ہونے کی وجہ سے اس وقت ایک عام پاکستانی کسان کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ اس کی قیمتیں اس حد تک آسمان کو چھو رہی ہیں کہ مذکورہ فارم پر بوئر گوٹ کا محض ایک ماہ کا بچہ 5 لاکھ 10 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور وہ بھی خریدار کو فوری نہیں بلکہ تقریباً 10 مہینے کے طویل انتظار کے بعد ملے گا۔ اتنی خطیر رقم اور طویل انتظار یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ فارمنگ فی الحال صرف بڑے سرمایہ کاروں کا کھیل ہے۔
ایسے میں اس نایاب نسل کی تعداد میں تیز رفتار اضافے کے لیے یہ فارم روایتی طریقوں پر تکیہ کرنے کے بجائے جدید ترین بائیوٹیکنالوجی کا سہارا لے رہا ہے۔ مذکورہ فارم کی بنیادی توجہ اس وقت ایمبریو ٹرانسفر اور آرٹیفیشل انسیمینیشن یعنی مصنوعی تخم ریزی جیسے انقلابی طریقوں پر ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو روایتی طریقے سے ایک مادہ بکری سال میں صرف دو یا drei بچے ہی دے پاتی ہے لیکن ایمبریو ٹرانسفر کے ذریعے ایک ہی وقت میں اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کی حامل مادہ کے انڈے لے کر انہیں دوسری مقامی بکریوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یوں ایک ہی سیزن میں درجنوں پیور اور ہائی کوالٹی بچے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح مصنوعی تخم ریزی کی مدد سے امپورٹڈ بکروں کے اعلیٰ سیمن کے ذریعے مقامی بکریوں کی کراس بریڈنگ کو تیز کیا جا رہا ہے۔ یہ تکنیک مستقبل میں اس نسل کی دستیابی کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم یہاں چند انتہائی اہم اور توجہ طلب سوالات جنم لیتے ہیں جن پر لائیو سٹاک کے ماہرین اور حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ سب سے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ کیا یہ نسل پاکستان کے سخت اور بدلتے ہوئے موسموں میں بھی ایسی ہی آئیڈیل گروتھ دے پائے گی؟ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہاں کا شدید درجہ حرارت ہوا میں نمی کا اتار چڑھاؤ اور مقامی بیماریاں اس غیر ملکی نسل کی گروتھ اور مدافعتی نظام پر کیا اثرات مرتب کریں گی؟ اس کا حتمی جواب وقت ہی دے گا۔
دوسرا اہم ترین پہلو معاشی ہے۔ اگر حکومت واقعی ملک میں گوشت کی پیداوار بڑھانا چاہتی ہے اور عام کسان کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اس مہنگی امپورٹ پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اس ناقابلِ یقین قیمت کو دیکھتے ہوئے حکومت امپورٹ ڈیوٹی میں کس حد تک کمی کرے گی تاکہ یہ پیور جینیٹکس اور جدید لیب ٹیکنالوجی عام کسان تک پہنچ سکیں؟
سلیم صاحب جیسے شوقین فارمرز اور پاکستان کی میٹ انڈسٹری کا مستقبل اسی بات میں ہے کہ ہم بوئر گوٹ جیسی اعلیٰ نسلوں کو صرف چند بڑے فارمز تک محدود نہ رکھیں بلکہ حکومتی سرپرستی میں ان کی لوکل کراس بریڈنگ سستی درآمد اور جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کو عام کسان کے لیے ممکن بنائیں تاکہ عید کے علاوہ بھی سارا سال پاکستان کا لائیو سٹاک سیکٹر ملکی معیشت کا حقیقی سہارا بن سکے۔