پاکستان کا خوردنی تیل درآمدی بل 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

پاکستان کا خوردنی تیل درآمدی بل 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

خوردنی تیل کی درآمدات پاکستان کے لیے بڑا معاشی بوجھ بننے لگیں

پاکستان کا خوردنی تیل درآمدی بل مالی سال 2026 میں 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ملک میں خوردنی تیل کی مقامی پیداوار مجموعی ضرورت کا صرف تقریباً 10 فیصد پوری کر رہی ہے، جس کے باعث درآمدات پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

  • پاکستان کا خوردنی تیل درآمدی بل 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے
  • مقامی پیداوار ملکی ضرورت کا صرف تقریباً 10 فیصد پوری کر رہی ہے
  • آئل سیڈز کی کاشت بڑھا کر درآمدی بل میں کمی لائی جا سکتی ہے

پاکستان کا خوردنی تیل کا درآمدی بل مالی سال 2026 میں 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں خوردنی تیل کی مقامی پیداوار مجموعی ضرورت کا صرف تقریباً 10 فیصد پوری کر رہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو بڑی مقدار میں خوردنی تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خوردنی تیل کے لیے درآمدات پر شدید انحصار ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث خوردنی تیل کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لیے سورج مکھی، کینولا، سرسوں، سویا بین اور پام آئل جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر مقامی سطح پر آئل سیڈز کی کاشت کو فروغ دیا جائے تو درآمدی بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق کسانوں کو معیاری بیج، جدید کاشتی ٹیکنالوجی، بہتر مارکیٹ لنکیج اور حکومتی معاونت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک خوردنی تیل کے شعبے میں خود کفالت کی طرف بھی بڑھ سکے گا۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی کے لیے طویل المدتی پالیسی، مقامی پیداوار میں اضافہ اور آئل سیڈز ویلیو چین کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

جواب دیں