مرحوم حاجی محمد بشیر، پاکستان پولٹری انڈسٹری کے بصیرت افروز اور ادارہ ساز رہنما

(A Tribute to a Visionary Industrial Leader)

پاکستان کی صنعتی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف کاروبار نہیں کرتیں بلکہ ادارے، روایات اور قدریں قائم کر کے جاتی ہیں۔ مرحوم حاجی محمد بشیر بھی انہی نادر شخصیات میں شامل تھے۔ وہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے بیدار مغز سرپرستِ اعلیٰ، سیزنز گروپ (Seasons Group) کے چیئرمین، اور ملک کے ان ممتاز صنعتکاروں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے کامیابی کو ہمیشہ قومی مفاد، اجتماعی ترقی اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا۔

حاجی محمد بشیر کی زندگی تقریباً نو دہائیوں پر محیط رہی۔ اس طویل سفر میں انہوں نے غربت، محرومی، کاروباری زوال، سیاسی اتار چڑھاؤ، ذاتی آزمائشوں اور حتیٰ کہ اغواء جیسے کڑے امتحانات بھی دیکھے۔ مگر ان تمام حالات کے باوجود وہ ہمیشہ مثبت سوچ، صبر اور رب کی رضا پر قائم رہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں نہ صرف کامیابی دیکھی بلکہ ناکامی اور صفر سے دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ بھی سیکھا۔

مرحوم حاجی محمد بشیر نے 1945 میں محض سولہ برس کی عمر میں اپنے خاندانی لیدر بزنس سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کلکتہ سے لاہور ہجرت کے نتیجے میں انہیں یہ کاروبار چھوڑنا پڑا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ چند برس مختلف تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کے بعد انہوں نے 1954 میں گرین ٹریڈنگ اور 1957 میں رائس ملنگ کے شعبے میں قدم رکھا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر آگے چل کر ایک مضبوط صنعتی سلطنت کی تعمیر ہوئی۔

سیزنز گروپ کی موجودہ شکل میں کامیابی کی بنیاد 1962 میں رکھی گئی، جب حاجی محمد بشیر نے لاہور میں فلور ملنگ کے کاروبار کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا منصوبہ Punjab Rice and Flour Mills تھا، جبکہ 1968 میں شیخوپورہ کے قریب National Flour & General Mills Limited کا افتتاح ہوا، جو بعد ازاں سیزنز گروپ کی پہچان بن گیا۔

آج سیزنز گروپ آٹے کی ملنگ، پولٹری و کیٹل فیڈ، بریڈر اور بروائلر فارمنگ، میٹ پروسیسنگ اور ایڈیبل آئل ایکسٹریکشن جیسے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ سب حاجی محمد بشیر کے دوراندیش وژن اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔

مرحوم حاجی محمد بشیر کا سب سے نمایاں اور دیرپا کردار پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (PPA) کو ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر ادارہ بنانے میں نظر آتا ہے۔ وہ محض سرپرست ہی نہیں تھے بلکہ پولٹری انڈسٹری کے بزرگ اور رہنما کی حیثیت سے ہر اہم مرحلے پر رہنمائی، مشاورت اور عملی سرپرستی فراہم کرتے رہے۔

نادرن زون میں پولٹری ہاؤس کا قیام، لاہور میں دفتر کی ملتان روڈ سے جوہر ٹاؤن منتقلی اور اسلام آباد میں مرکزی دفتر کا مستقل قیام و افتتاح—یہ تمام اقدامات ان کی ادارہ جاتی سوچ اور حکمتِ عملی کا عملی اظہار ہیں۔ ان کے دفتر میں ہونے والی بے شمار میٹنگز، گفتگو، بحث و مباحثے اور اختلافِ رائے کے باوجود بالآخر اتفاقِ رائے تک پہنچنے کا عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ اختلاف کو تصادم نہیں بلکہ مسائل کے حل کی طرف لے جانے والا مثبت مکالمہ سمجھتے تھے۔

وہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن—دونوں کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ بھٹو دور میں صنعتوں کی نیشنلائزیشن کے نتیجے میں ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا اور وہ ایک مرتبہ پھر صفر سے آغاز پر آ گئے، مگر یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کی اصل قوت سامنے آئی۔ انہوں نے حوصلے اور استقلال کے ساتھ دوبارہ اپنے کاروبار کو عروج تک پہنچایا۔

سیاسی میدان میں بھی وہ ہمیشہ پسِ منظر میں رہ کر محبِ وطن قوتوں کی حمایت کرتے رہے۔ اغواء اور سخت اذیت جیسے واقعات کے باوجود انہوں نے کبھی شکوہ یا تلخی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ یہ ان کے مضبوط ایمان اور مثبت سوچ کی روشن مثال ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے حاجی محمد بشیر صرف ایک صنعتی رہنما نہیں بلکہ ذاتی شفقت، عزت افزائی اور حوصلہ دینے والی شخصیت تھے۔ فیصل آباد میں حمید پیلس کی میٹنگ ہو یا ویٹنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور کا اجلاس—انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں اور پروفیشنلز کو کھلے دل سے سراہا۔ یہ بات آج بھی یاد ہے کہ وہ فخر سے کہا کرتے تھے:
“یہ دونوں میرے دوست ہیں”

انہیں کرکٹ سے گہری دلچسپی تھی، ان کے دفتر میں دنیا کا نقشہ (اٹلس) موجود رہتا، اور قومی معاملات پر ان کا موقف ہمیشہ واضح اور متوازن ہوتا۔

معروف صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے ان کی خدمات کے اعتراف میں مرحوم حاجی محمد بشیر کو
“پولٹری انڈسٹری کا بابا آدم” قرار دیا، جو ان کے تجربے، بصیرت اور ادارہ ساز کردار کا اعتراف ہے۔

مرحوم حاجی محمد بشیر کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے قیادت کو شخصیت کے بجائے ادارہ سازی سے جوڑا۔ انہوں نے اپنے خاندان کو منتشر ہونے نہیں دیا بلکہ ایسی حکمتِ عملی اپنائی جس میں کاروباری ترقی کے ساتھ خاندان، عزیز و اقارب اور ساتھی سب آگے بڑھے۔ ان کی لیگیسی محض یادوں تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اداروں، صنعت اور لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

حاجی محمد بشیر، پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ اور سیزنز گروپ کے چیئرمین، 11 نومبر 2018 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کے قائم کردہ ادارے، اقدار اور روایات آج بھی متحرک اور زندہ ہیں—اور یہی کسی عظیم انسان کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

— ڈاکٹر خالد محمود شوق
ایڈیٹر اِن چیف
The Veterinary News & Views