پاکستان کی سکڑتی ہوئی فوڈ باسکٹ: فوڈ سیکیورٹی، لائیوسٹاک اور خریدار قوت کا بحران
ماخذ: Pakistan Bureau of Statistics (PBS) — Household Integrated Economic Survey (HIES) 2024–25
Monthly Per Capita Consumption (Qty) of Major Food Items
مرکزی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کا بحران اب خوراک کی پیداوار کا نہیں رہا بلکہ خوراک تک عام آدمی کی رسائی اور خریدار قوت کے زوال کا مسئلہ بن چکا ہے۔ Pakistan Bureau of Statistics کی HIES 2024–25 رپورٹ اس رجحان کو اعداد و شمار کے ذریعے واضح کرتی ہے۔ اگرچہ ملک میں گندم، دودھ، گوشت اور انڈوں کی مجموعی دستیابی موجود ہے، اور بین الاقوامی سطح پر لائیوسٹاک مصنوعات کی قیمتیں نسبتاً کم سمجھی جاتی ہیں، اس کے باوجود عام پاکستانی کی خوراک، بالخصوص پروٹین، مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟ HIES 2024–25 کے مطابق پاکستان میں فی کس ماہانہ اوسط استعمال صرف 0.05 کلو مٹن، 0.11 کلو گائے کا گوشت، 0.34 کلو چکن اور 2.83 انڈے رہ گیا ہے، جو 2018–19 کے مقابلے میں واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کمی محض غذائی ترجیحات کی تبدیلی نہیں بلکہ حقیقی آمدن (Real Income) اور مہنگائی کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کا نتیجہ ہے۔ آمدن کے اعداد و شمار بظاہر بہتر نظر آتے ہیں، مگر خوراکی مہنگائی نے اس اضافے کو بے اثر کر دیا ہے، اور گھرانوں نے سب سے پہلے معیاری غذائیت، خاص طور پر جانوروں سے حاصل ہونے والا پروٹین، اپنی فوڈ باسکٹ سے نکالنا شروع کیا ہے۔
یہاں ایک اہم تضاد جنم لیتا ہے: پاکستان میں لائیوسٹاک مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی تناظر میں کم ہونے کے باوجود اندرونِ ملک ان کا استعمال مسلسل کم ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال دراصل ایک واضح Market Failure کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارمرز کو جانور کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، جبکہ دوسری طرف شہری صارف کے لیے گوشت، دودھ اور انڈے مہنگے محسوس ہو رہے ہیں۔ اس خلا کی بنیادی وجوہات میں فیڈ اور توانائی کی بڑھتی لاگت، سپلائی چین کی ناکارکردگی، درمیانی مراحل میں منافع خوری، اور پالیسی سطح پر لائیوسٹاک، غذائیت اور فوڈ سیکیورٹی کے درمیان عدم ربط شامل ہیں۔
دیہی پاکستان کا المیہ اس بحران کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں لائیوسٹاک آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے، کمزور خریدار قوت اور غیر یقینی مارکیٹ حالات کے باعث خود فارمر خاندان بھی پروٹین سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ مجبوری کے تحت جانوروں کی فروخت، ریوڑ کے سائز میں کمی، اور جانوروں کی خوراک و صحت پر سمجھوتہ ایک خاموش مگر خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مستقبل کی پیداوار متاثر ہو گی بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ اور ویٹرنری خدمات کی طلب میں کمی جیسے مسائل بھی جنم لیں گے۔
فوڈ اِن سیکیورٹی کے صحت اور انسانی سرمائے پر اثرات فوری نظر نہیں آتے مگر طویل المدت طور پر نہایت مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ کم پروٹین والی خوراک بچوں میں stunting اور wasting، خواتین میں anemia، اور بالغ افراد میں جسمانی طاقت اور کام کی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ جب انسانی سرمایہ کمزور ہوتا ہے تو قومی پیداواری صلاحیت، معاشی استحکام، اور سماجی ترقی سب متاثر ہوتے ہیں۔ یوں فوڈ باسکٹ کا سکڑنا محض غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی معاشی بنیادوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
لائیوسٹاک، غذائیت اور پالیسی کا باہمی ربط اس بحران کی اصل جڑ ہے۔ جب فوڈ سیکیورٹی پالیسی لائیوسٹاک، فیڈ، توانائی، اور غذائیت کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو، تو نتائج یہی نکلتے ہیں جو HIES 2024–25 میں نظر آ رہے ہیں۔ اگر پروٹین تک عام آدمی کی رسائی بحال نہ کی گئی، اگر لائیوسٹاک ویلیو چین کو معاشی استحکام نہ دیا گیا، اور اگر غذائیت کو قومی ترقی کے مرکز میں نہ رکھا گیا، تو موجودہ بحران عارضی نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل ساختی ناکامی کی شکل اختیار کر لے گا۔
HOUSEHOLD INTEGRATED ECONOMIC SURVEY (HIES) 2024–25 — Pakistan Bureau of Statistics
HOUSEHOLD INTEGRATED ECONOMIC SURVEY (HIES) 2024-25
