
تحریر: ڈاکٹر محمد ابرار اختر
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری، جو ملکی زرعی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ شعبہ اسی طرح کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرتا آ رہا ہے، تاہم اس بار صورتحال زیادہ پیچیدہ اور سنگین دکھائی دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کی ذمہ داری کسی ایک طبقے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ معروف ماہر ڈاکٹر مسعود صادق نے اپنی حالیہ تحریر میں اس صورتحال کی حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتے ہوئے پولٹری ایسوسی ایشن کے غیر مؤثر کردار اور خاموشی کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔
چوزے کی قیمت کا تنازع: حقیقت کیا ہے؟
اکثر اوقات فارمرز کی جانب سے چوزے کے بائیکاٹ یا کم قیمت کے مطالبات سامنے آتے ہیں، اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سستا چوزہ ہی فارمر کی بقا کی ضمانت ہے۔
تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
لاگت سے کم قیمت پر چوزہ فروخت ہونا بریڈر کمپنیوں اور ہیچریز کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، جس کے اثرات پوری سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات دراصل اسی نظام کو کمزور کرتے ہیں جس پر فارمرز خود انحصار کرتے ہیں۔
بنیادی مسئلہ: عدم ہم آہنگی
پولٹری سیکٹر کا سب سے بڑا مسئلہ مختلف پیداواری شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔
ہر طبقہ وقتی منافع کے حصول میں مصروف ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں بے ترتیب پیداوار اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔
ممکنہ حل اور اصلاحات
ماہرین کے مطابق درج ذیل اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہیں:
- تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا جائے
- ملکی اور عالمی طلب کے مطابق پیداوار کی منصوبہ بندی کی جائے
- چوزے کی پیداوار کو بروقت ریگولیٹ کیا جائے
- جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال بڑھایا جائے
- روایتی آڑھتی نظام سے نکل کر جدید مارکیٹ سسٹم اپنایا جائے
جدید دور کے تقاضے
آج دنیا ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیاد پر کاروباری فیصلے کر رہی ہے، جبکہ پاکستان میں اب بھی روایتی مارکیٹ سسٹمز رائج ہیں جہاں آڑھتی قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔
اگر اس نظام میں تبدیلی نہ لائی گئی تو پائیدار ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
نتیجہ
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا ہے۔
اگر تجربہ کار افراد، ادارے اور پالیسی ساز سنجیدگی سے کردار ادا کریں تو نہ صرف اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پولٹری انڈسٹری کو ایک مستحکم اور جدید صنعت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔